منگل , 11 دسمبر 2018

دہشت گردی پر سوال کرنا ممنوع ہے

(خطیب احمد)
دہشت گردی پاکستان کے چند بڑے مسائل میں سے ایک ایسا گھمبیر مسئلہ ہے جس نے پاکستان کو داخلی اور خارجی طور پر بہت کمزور کیا۔ آج بھی ہم ملک میں امن امان کے متلاشی ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات میں کئی بچے یتیم ہوگئے، عورتيں بیوہ ہوگئی، بہنوں سے بھائی چھن گیا، بھائیوں کا بھائی چھن گیا، ماں باپ کا سہارا ٹوٹ گیا۔ جبکہ بھتہ خوری، ٹاگٹ کلنگ، فرقہ وارانہ حملوں میں بھی کافی افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔

عوام کا تو بَس یہ ہی معصومانہ سوال ہے کہ اِس وحشت سے انہیں کب نجات ملے گی۔ لیکن دہشتگردی پر سوال کرنا تو ممنوع ہے۔ تشکیکیت کا شِکار ہر راسخ الاعتقاد اِنسان کو سوال کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاکہ وہ سوال کرکے شَک کی گھاٹی میں گِرنے سے بچ جائے۔ مگر کریں تو کیسے کریں؟ یہاں تو سوال کرنا بھی محال ہے۔

سوال کرنا، سمجھیں وبال جان ہوجاتا ہے۔ بَس اِتنا پوچھ لیں اور گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہوجائیں کہ سانحہ مستونگ میں 129 افراد جاں بحق ہوئے ہیں تو یہ کم بخت “ٹوٹی کمر” میں اتنی جان کہاں سے آئی؟ آخر کمر توڑ دعووں کی صداقت پر ہم نے تو یقین کر لیا تھا۔ پھر جواب سُننے کو ملیں گے کہ ” تم ملک دشمن سوچ کے حامل ہو۔ تم نے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا ہے۔ تم مفاد پرست ہو۔ تمہیں ملک سے کوئی غرض نہیں ہے۔ تم تو بَس اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہوئے ہو”۔ اِتنا کچھ کہنے کے بعد بھی کلیجے میں ٹھنڈک نہیں پڑتی تو اِن نام نہاد مُحب وطنوں کے پاس ایک موٹی تازہ بیان تیار رہتا ہے کہ “تم را کے ایجنٹ ہو”۔ لے بھائی ہوگیا کام! بچپن سے جوانی میں داخل ہوگئے اب تک را کا نام تک نہیں سنا تھا، اِن لوگوں نے تو ایک پَل میں ایجنٹ بنا دیا۔

ارے بھائی سوال کرنا تو ہر شخص کا جمہوری حق ہے۔ ہم نے تو بس اطمینان قلب کے لیے سوال کر لیا تھا، تو چھپی چھپائی دبی ہوئی آوازوں میں غدار، ایجنٹ اور مفسد ہونے کے سَرٹیفکیٹ مل گئے۔ آخر یہ سَرٹیفکیٹ تقسیم کرتے ہوئے تھکتے کیوں نہیں؟ اور اپنی بے بنیاد دلیلوں اور اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنا کہاں کی دانشمندی ہے؟

گذشتہ چار پانچ سال پہلے اس قدر بم دھماکے ہوا کرتے تھے، کبھی مسجد، امام بارگاہ، ماتمی جلوس، میلاد کی محفلوں پر مگر اب کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ حضور جان کی امان پاؤں تو ایک سوال عرض کروں کہ گذشتہ سالوں کی نسبت دہشتگردی کے واقعات میں کمی تو آئی ہے، لیکن وقفے لمبے ہو گئے ہیں اور لاشوں کا تناسب وہ ہی ہے۔ 70, 80 افراد جاں بحق اور زخمی 100 سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ واقعات میں کمی درست اصطلاح ہے، مگر اب تک غم میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ قوم اور سیاستدانوں کا فرض ہے کہ وہ تہیہ کر لیں کہ وہ ایسے الفاظ اپنی لغت سے نکال دیں کہ تم “را کے ایجنٹ ہو، غدار ہو”۔ اِن جملوں سے پرہیز کریں، ہم سب کا قومی اور مِلی فریضہ ہے کہ “ہم سب مل کر دہشتگردی کو شکست دیں گے” قطع نظر اس بات کے سب وانا للہ انا الیہ راجعون پڑھتے ہیں لیکن قومی مفاد کے خاطر صبرو تحمل کے ساتھ مزید حملوں کے لیۓ ہمہ وقت ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا۔

ہاں ایک بات تو میری سجھ سے بالاتر ہوچکی ہے کہ بھارت میں کسی سیاستدان، صحافی، سماجی کارکن یا عوام میں سے کسی کو یہ نہیں کہا جاتا کہ تم آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہو، لیکن یہاں تو بھولے بھٹکے سے سوال کرنے پر ہی را کے ایجنٹ ہونے کا تمغہ “تمغہ حسن کارکردگی” کی طرح سینے پر سجا دیا جاتا ہے۔

میری تو وفادار لوگوں سے یہ استدعا ہے کہ اپنے منہ پر تالے لگا لیں۔ یہ مت پوچھنا کہ یہ کمر ٹوٹے دہشتگرد گرتے پڑتے، کِھسک کِھسک کے کہاں سے آجاتے ہیں؟ ختم ہی نہیں ہوتے یہاں نکالو وہاں پھیل جاتے ہیں۔ یہاں مارو وہاں سے نکل آتے ہیں۔ یہ ختم نہیں ہو رہے تو ختم کون ہو رہا ہے؟ اوہو پھر بھی کتنے سوال ہیں۔ جس وقت قوم کو متحد ہونا چاہیے اس وقت تم کتنے سوال کرتے ہو، کہیں تم را کے ایجنٹ تو نہیں؟بشکریہ دنیا نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...