بدھ , 17 اکتوبر 2018

ماسکو سے ہیلسنکی تک نتین یاہو کی ناکام دوڑیں

(تحریر: احمد کاظم زادہ)
شام کے جنوبی محاذ پر شام آرمی اور اس کی اتحادی فورسز مسلسل کامیابیوں سے ہمکنار ہوتی ہوئی پیشقدمی کرنے میں مصروف ہے۔ ان عظیم کامیابیوں کے نتیجے میں شام کے شمال میں بھی دہشت گرد عناصر کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے جس کے باعث ادلب اور دیگر علاقوں میں موجود دہشت گرد عناصر شدید خوف و ہراس کا شکار ہو چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں شام بحران سے متعلق دو دیگر اہم ایشوز بھی خبروں کی سرخیاں بن گئے ہیں۔ ان میں سے پہلا ایشو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا اس سال میں تیسرا روس کا دورہ ہے جبکہ دوسرا ایشو فن لینڈ کے دارالحکومت ہلسنکی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ملاقات ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ روس کے بارے میں اسرائیلی میڈیا اور حتی سعودی اور اماراتی ذرائع ابلاغ نے وسیع پروپیگنڈا شروع کر رکھا تھا اور ایسی خبریں شائع کر رہے تھے کہ روس اور اسرائیل کے درمیان شام میں ایران کے کردار سے متعلق بہت بڑی ڈیل ہونے والی ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسی ڈیل کی کوئی علامات نظر نہیں آتیں۔ دوسری طرف ایران کے سابق وزیر خارجہ اور بین الاقوامی امور میں سپریم لیڈر کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی کے اہم پیغامات لے کر روس پہنچے۔ روس پہنچنے پر روسی حکام اور صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس دورے نے اسرائیلی وزیراعظم کے دورے کو بے اثر بنا دیا۔ بنجمن نیتن یاہو اپنے روس دورے میں کچھ بھی حاصل نہیں کر پائے۔

البتہ پہلے سے اس نتیجے کی توقع کی جا رہی تھی کیونکہ شام میں اسرائیل کے تمام پتے جل چکے ہیں۔ شام آرمی ملک کے جنوبی حصے میں اپنے آپریشن کے دوران گولان ہائٹس کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ اسرائیل نے پہلے سے اس بارے میں بہت زیادہ دھمکیاں دے رکھی تھیں لیکن وہ انہیں عملی جامہ پہنانے سے قاصر رہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حکومت کی جانب سے بھرپور کوششوں کے باوجود امریکہ شام میں فوجی مداخلت کرنے سے باز رہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے بھی شام کے جنوبی محاذ پر اسرائیل کو اکیلا چھوڑ دیا ہے۔

جہاں تک ہیلسنکی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ملاقات کا تعلق ہے، اگرچہ اس ملاقات کے بارے میں بھی بہت زیادہ پروپیگنڈا کیا گیا ہے اور اسے امریکہ روس تعلقات میں یو ٹرن قرار دیا جا رہا ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان وسیع پیمانے پر متنازعہ امور کے پش نظر کسی بڑی پیشرفت کی توقع کرنا درست نہیں۔ اس پروپیگنڈے کی بنیاد اس حقیقت پر استوار ہے کہ سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سابق سوویت یونین کے حکام میں انجام پانے والی اہم ملاقاتیں ہیلسنکی میں ہی منعقد ہوتی تھیں لہذا اب بھی یہ توقع کی جا رہی تھی کہ شاید اس شہر میں ملاقات انتہائی اہم اور نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع پیمانے پر اختلافات پائے جاتے ہیں جو کئی قسم کے مختلف ایشوز سے متعلق ہیں۔

امریکہ نے روس پر الزام عائد کر رکھا ہے کہ اس نے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان بھی شدید اختلافات جنم لے چکے ہیں۔ لہذا ایسی صورتحال میں دونوں ممالک کے صدور مملکت کے درمیان ملاقات میں شام کے مسئلے پر بات چیت کے بہت کم امکانات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر اس موضوع پر بات چیت ہوتی بھی ہے تو روسی حکام اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن پہلے سے کہہ چکے ہیں کہ ان کا موقف کافی مضبوط ہے اور ان کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ وہ شام میں امریکہ کی فوجی موجودگی کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں کیونکہ اسے شام حکومت کی اجازت اور رضامندی حاصل نہیں۔

دوسری طرف روس کو جلاوطن شامی شہریوں کی وطن واپسی اور جنگ کے نتیجے میں تباہ شدہ شہروں کی تعمیر نو کیلئے شام کے شمالی حصوں میں موجودگی کی ضرورت ہے۔ شام کے شمالی حصے خام تیل کے ذخائر سے مالا مال ہیں جن کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن تعمیر نو کیلئے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ لہذا اسرائیلی حکام کی جانب سے موجودہ پروپیگنڈے کے برخلاف ہیلسنکی اجلاس اس کے حق میں مفید ثابت نہیں ہو گا۔ اس اجلاس میں اسرائیل اور اس کے حمایت یافتہ دہشت گرد رہنما زیادہ سے زیادہ کچھ وعدے حاصل کر سکتے ہیں جو صرف سیاسی میدان تک محدود ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

اسد جیت گئے،واشنگٹن ہار گیا

ڈاگ بانڈو (ترجمہ:تسنیم خیالی) معروف امریکی صحافی ڈاگ بانڈو نے حال ہی میں نیشنل انٹرسٹ ...