بدھ , 15 اگست 2018

حزب التحریر کیا ہے؟ ایک امت، ایک اسٹیٹ اور ایک خلیفہ

عالم اسلام میں اٹھنے والی اکثر شدت پسند تنظیموں اور گروہوں کے مشترکہ نکات میں سے ایک اہم مشترکہ نکتہ باطل اہداف کے لئے حق اور سچ کے نعرے کا استعمال ہے جو تاریخی اعتبار سے خوارج کا نعرہ رہا ہےکہ جس کے بارے میں حضرت علیؑ کا فرمانا ہے کہ’’ان کا کلمہ حق ہے لیکن ان کا ارادہ باطل کا ہے‘‘ شاعرمشرق علامہ اقبال سے ایک منسوب ایک شعر زیرگردش ہے جو اس کی خوب صورت عکاسی کرتا ہے، شعر کا تعلق شاعر مشرق سے ہو یا نہ ہو لیکن شاعر نے اس موضوع کو انتہائی باریکی کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ

ناحق کے لئے اٹھے تو شمیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
مطلب اگر کوئی نعرہ تکبیر کی آڑ میں اپنے برے اعمال کو چھپانا چاہے تو امت کو اس نعرے میں کھونے کے بجائے اس کےپیچھے پوشیدہ باطل ارادے کو سمجھنا چاہیے۔

حزب التحریر کا تعلق بھی انہی شدت پسند خیالات کی حامل ایک ایسی تنظیم کا نام ہے کہ جس نے عالم اسلام کےزیادہ تر پڑھے لکھے طبقے اور پروفیشنل ایجوکیشن کے حامل افراد کو نشانہ بنایا ہے ۔ایک امت ایک خلیفہ،یاایک اسٹیٹ وامت اور خلیفہ کا نعرہ ہو یا پھر خلافت کے احیاکا نعرہ حزب التحریر بھی خوب اس لبھانے والے نعرے کو استعمال کرتی رہی ہے اور کررہی ہے۔

عربی زبان میں تحریر کا مطلب آزادی ہے اور اسی معنی کو یہ گروہ اپنے لئے استعمال کرتا ہے یوں حزب تحریر یعنی آزادی کی جماعت کہا جاسکتا ہے۔ حزب التحریر اسلامی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کیونکہ یہ پڑھے لکھے طبقے کو نشانہ بناتی ہے لہذا در حقیقت وہ ان کو ایک ایسے مشترکہ نظریے اور تھیوری پرا کھٹا کررہی ہوتی ہے جو غلط معلومات پر کھڑا کیا ہواہوتا ہے اور ان غلط معلومات کے سبب سوسائٹی میں اختلافات اور تنا ؤمیں شدیداضافہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں اس گروہ کو دیگر بہت سے ممالک کی طرح کالعدم قراردیا گیا ہے، اس سلسلے میں اگر ہم وکی پیڈیا کو دیکھیں تو وہاں موجود معلومات کچھ یوں فراہم کی گئی ہیں ’’حزب التحریر کو 1953ء میں بیت المقدس میں جامعہ الازہر کے تعلیم یافتہ تقی الدین نبہانی نے قائم کیا جو اس کے نظریہ ساز بھی تھے۔ حزب التحریر جب پاکستان میں سرگرم ہوئی تو اس وقت بھی یہ تمام عرب ملکوں اور وسط ایشیائی مسلم ریاستوں میں ممنوعہ تنظیم تھی۔

حزب التحریر پاکستان میں 2000ء میں مکمل طور پر نمودار ہوئی جب لاہور شہر کے نمایاں مقامات پر بڑے بڑے اشتہاری بورڈ دیکھے گئے جن پر لکھا تھا خلافت وقت کا تقاضا ہے۔ امریکا کی شکاگو یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ نوید بٹ اس کے ترجمان تھے اور اس کے دوسرے ارکان میں روانی سے انگریزی بولنے والے یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں سے گریجویٹ اور بظاہر خوشحال نوجوان افراد شامل رہے۔

اس گروہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ’’ حزب التحریر پاکستان میں بظاہر کسی پُر تشدد سرگرمی میں ملوث نہیں اور نہ اس کے کسی رکن پر ایسا کوئی مقدمہ قائم ہوا لیکن ان کے ان کے نظریات میں مسلمانوں کو ایک وحدت یعنی خلافت پر جمع کرنے کا مشن موجود ہے۔ امریکی دباؤ کے زیر اثر 2003ء میں پاکستان میں اس تنظیم پر پابندی لگا دی گئی‘‘

اگست 2007ء میں حزب التحریر نے انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بلائی جس میں ساٹھ ہزار کے قریب مذہبی علما اور کارکنوں نے شرکت کی۔ اکتوبر 2009ء میں بنگلہ دیش میں بھی اس جماعت پر پابندی عائد کر دی گئی‘‘یہ بات درست ہے کہ اس جماعت کی بنیاد 1953 میں شیح تقی الدین النبہانی نے فلسطین کے شہر القدس میں رکھی۔

حزب التحریر کے دوسرے امیرعبدالقدیم الظلوم تھے حزب کے تیسرے امیر شیح عطا بن حلیل ابو رُشتہ ہیں۔ حزب التحریر دنیا کے 40 سے زائد ممالک میں خلافت کے قیام کےنام پر مصروف ہے جبکہ اس گروہ کا مرکز اس وقت زیادہ تر برطانیہ ہے ۔پاکستان میں اس گروہ کے افراد فوج سے لیکر بیورکریسی اور یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے طبقے تک پھیلے ہوئے تھے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد اب یہ گروہ انڈر گرونڈ کام کرتا ہے۔

مار چ 2012 میں اسلام آباد کے پوش علاقوں میں مارے گئے چھاپوں میں اس گروہ کے بہت سے افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ گروہ پاک فو ج پر حملہ کرکے قیادت کی تبدیلی اور پھر پورے ملک پر قبضہ جمانے کا پلان رکھتا تھا اس قسم کے ایک الزام میں پاک فوج نے اپنے ایک افسر بریگیڈیئر علی خان کا کورٹ مارشل بھی کردیا تھا۔

دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں بعض اوقات حزب التحریر کے منشور پر مبنی پوسٹرز نظر آتے ہیں جن پر امریکہ اور مغرب کی مخالفت کے علاوہ اسلامی سربلندی کے لیے خلافت کے قیام جیسے کلمات درج ہوتے ہیں، راقم نے خود اس قسم کے پوسٹر اور اسٹیکرز اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز کی مارکیٹوں میں لگے دیکھے ہیں۔ کراچی میں ماہ محرم الحرام کے جلوس میں دھماکہ کے بعد اس گروہ نے امریکہ کیخلاف احتجاج بھی کیا تھا۔

بین الاقوامی نیوز ایجنسی روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حزب التحریر کے ترجمان تاجی مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ’خلافت کا نظام‘ نافذ کرنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو متحرک کیا جا رہا ہے۔

مصطفیٰ کے مطابق ان کی جماعت کی کوشش ہے کہ عوام میں اسلام کی مقبولیت میں اضافہ کیا جائے اور اسلامی نظام کے حوالے سے عوام کے ذہن کو تیار کیا جائے۔حزب التحریر کے کالم جھنڈے میں کلمہ طیبہ تحریر ہے داعش کے جھنڈے اور اس میں فرق صرف فونٹ اور گرافیک کا دکھائی دیتا ہے۔

البتہ اب تک حزب التحریر کی جانب سے کسی قسم کی عسکریت پسندی کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی تاہم تعلیمی اداروں میں اس گروہ کے پھیلائے گئے نظریات کے سبب بے چینی اور طلبہ کے درمیان تصادم کے کئی واقعات ضرور سامنے آئے ہیں اور کہا جاتاہے کہ اس گروہ کے برین واش شدہ بہت سے افراد نے بعد میں انہیں چھوڑ کر دیگر عسکریت پسند گروہ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

اس گروہ کو پاکستان، ازبکستان، تاجیکستان، قرقیزستان، قزاقستان و روس سمیت متعدد ممالک میں کالعدم قراردیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اس وقت بھی یہ گروہ انتہائی فعال ہے۔ برطانیہ سے اس گروہ کی انگلش ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا اکاونٹس آپریٹ ہوتے ہیں جبکہ افغانستان سمیت عرب ممالک میں کہیں انڈر گرونڈ تو کہیں آزادنہ طور پر یہ گروہ فعال ہے۔

حزب التحریر اپنی ایکٹی ویٹیز میں اخوان المسلمین کی طرح دکھائی دیتی ہے اس فرق کے ساتھ کہ یہ موجود ہ ہرقسم کے سیاسی عمل اور نظام کی نفی کرتی ہے جمہوریت کو شرک اور بدعت سمجھتی ہے اور خلیفہ و خلافت کے نظریے کو اصل سیاسی و ریاستی نظام سمجھتی ہے۔

کسی بھی مسلم ملک میں انتخابات کے وقت اس گروہ کے افراد ایکٹیو ہوجاتے ہیں جو انتخابات میں شرکت کو شرک اور دین سے دوری قراردیتے ہیں۔ ہم آنے والے اپنے مضامین میں حزب التحریر کے نظریات کو مزید گہرائی میں پرکھنے کی کوشش کرینگے اور ساتھ ساتھ ان الزامات کے بارے میں جاننے کی کوشش کرینگے جو اس گروہ کے مخالفین نے اس پر لگائے ہیں کہ یہ گروہ ایک بیرونی ایجنڈے پر کام کررہا ہے۔ بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

پاکستان بھر میں جشن آزادی کے رنگ

پاکستان بھر میں جشن آزادی کے رنگ