ہفتہ , 18 اگست 2018

عبدربہ منصور ہادی ،ایک بےدید اور بے حس شخص

(تسنیم خیالی)
یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کو 3سال سے بھی زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اس دوران موصوف نے اتحاد ، زندگی اور بربریت کی ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے 12 ہزار سے بھی زائد بے گناہ یمنی شہریوں کو موت کی نیند سلادیا جن میں ہزار وں کی تعداد میں خواتین اور بچے ہیں، اس جارحیت کی وجہ سے یمنی انفراسٹریکچر مکمل طور پر تباہ و برباد ہوگیا ہے، ملک میں بھوک اور وبائی بیماریاں پھیل چکی ہے، بچے غذائی قلت کے باعث مررہے ہیں، اگر ہم وقت میں پیچھے کی طرف جائیں تو اس جارحیت کی درخواست اس وقت مستعفیٰ ہونیوالے یمنی صدر عبدربہمنصور ہادی نے کی تھی جو یمن میں عوامی انقلاب کے بعد سعودی عرب فرار ہوگئے تھے، عبدر بہ منصور ہادی نے عرب لیگ کے ایک ہنگامی اجلاس میں درخواست کی تھی کہ یمن کو ’’انصاراللہ‘‘ سے بچانے کیلئے یمن کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے، (وہ انصاراللہ جسے یمنی عوام کی حمایت حاصل تھی اور اس حمایت کے بل بوتے پرانصاراللہ نے انقلاب برپا کیا تھا)، عبدربہ منصور ہادی کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن پر جارحیت کا آغاز کیا جو اب تک جاری ہے۔

اب حال ہی عبدربہ منصور ہادی نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عبدربہ دنیا کا بدترین اور بے حس ترین شخص ہونے کے ساتھ ساتھ یمن کا سب سے بڑا دشمن ہے، ہادی نے انٹرویو میں بغیر کسی شرم وحیا کے کہا کہ یمن کے خلاف کارروائی کا فیصلہ عرب لیگ کا کامیاب ترین فیصلہ ہے، ان کے مطابق انہیں عرب لیگ سے یمن پر حملے کی درخواست پر کبھی ندامت نہیں ہوئی اور اگر ایسا نہ ہوتا یمن مکمل طور پر انصاراللہ کے قبضے میں ہوتا، علاوہ ازین عبدربہکہتے ہیں کہ اگر سعودی عرب اور اس کے اتحادی فوجی مداخلت نہ کرتے تو یمن میں ایک طویل خانہ جنگی شروع ہوجاتی۔

عبدربہ منصور ہادی کی باتیں نہ تو ہنساتی ہیں اور نہ ہی رلاتی ہیں ان باتوں پر افسوس کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں اپنی ہی عوام کو مروانے کے بعد اس شخص کو پشیمانی ہوئی نہ شرم آئی، یہ شخص کہتا ہے کہ اس نے ایسا یمن کو بچانے کیلئے کیا !

عبدربہ منصور ہادی کو معلوم ہونا چاہیے(بلکہ انہیں معلوم ہے ) کہ
۱۔ یمن کے متعدد علاقوں پر اماراتی قابض ہوچکے ہیں۔
۲۔ جنوبی یمن میں ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش ہورہی ہے۔
۳۔ القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں یمن کے جنوبی علاقوں میں اماراتی اور سعودی مدد سے مضبوط ہورہےہیں۔
۴۔ جزیرہ سقطری پر قبضے کے بعد اماراتی اسے امارات کا حصہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
۵۔ سعودی عرب اور امارات یمن میں موجود تیل کے ذخائر پر قابض ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔
۶۔ امارات کی نظریں یمن کی اہم بندرگاہوں پر مرکوزہیں جیسا کہ عدن اور الحدیدہ بندرگاہیں۔
کیا آپ اس طرح یمن کو بچانا چاہتے ہیں۔
عبدربہ منصور ہادی ایک ایسا شخص ہے جس نے اقتدار کی خاطر اپنے ملک کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے اور اپنی قوم کا قتل عام کروایا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ خلائی فوج کیوں تیار کر رہا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خلائی فوج قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ...