بدھ , 17 اکتوبر 2018

یہ عراق میں آخر کیا ہورہا ہے؟

(تسنیم خیالی)
عراق کے مختلف شہروں بالخصوص ملک کے دوسرےبڑےشہر اور اقتصادی گڑھ ’’بصرہ‘‘ میں گزشتہ ایک ہفتے سے بھی زائد عرصے سے حکومت ، کرپشن ، لوڈشیڈنگ ، غربت ، مہنگائی ،صاف پانی کی عدم فراہمی اور بیروزگاری کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں اور عوام سڑکوں سے جانے کو تیار نہیں ، اس کیفیت نے عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کو مشکل میں ڈال دیا ہے، العبادی خود بصرہ گئے تھے، جہاں انہوں نے گورنر ، شہر میں بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی کے چیف اور البصرہ پٹرولیم کمپنی کے چیف سے ہنگامی طور پر ملاقات کی تاکہ عوام کے مسائل جلد از جلد حل ہوسکیں، العبادی اپنے اس مشن میں بری طرح ناکام ہوئے اور عوام ان کے شہر میں آنےسے مزید آگ بگولا ہوگئی، عوام نے ان رہائش گاہ’’ شیرٹین ہوٹل‘‘کا محاصرہ کرلیا اور العبادی نے عقبی دروازے سے واپس جانے میں ہی عافیت سمجھی، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عراقی حکومت خواہ وہ نورالمالکی کی ہو یا پھر حیدرالعبادی کی کرپشن اور بدعنوانیت کاشکار ہے،عراق کے خراب حالات کے باوجود عراقی سیاستدان ملک کو بہتر بنانے کی بجائے اپنی جیب بھرتے رہے جس کے نتیجے میں عوام کی حالت دن بدن بدتر ہوتی گئی۔

عراقی عوام بجلی اور پینے کا صاف پانی جیسی بنیادی ضرورتوں کے لیے ترس رہے ہیں اور مہنگائی نے تو لوگوں کا جینا محال کردیا ہے، لوگوں کو کھانے پینے اشیاء خریدنے میں بھی کافی دقت ہورہی ہے، بیروزگاری نے بھی ملک میں اپنی جڑیں مضبوط کررکھی ہیں جس کی وجہ سے نوجوان اپنی زندگی سے بیزار ہوگئے، اس صورتحال کو کافی سال گزر چکے ہیں اور عوام کا صبر بالآخرختم ہوگیااور وہ اپنی اس حالت زار پر پھٹ پڑے اور سڑکوں پر نکل آئے، ابتدائی دنوں میں عوام پرامن طور پر احتجاج کررہے تھی مگر اچانک عوام میں موجود کچھ افراد نےبصرہ اور دیگر علاقوں میں سرکاری دفاتر پر حملہ کیا اور املاک عامہ کو نقصان بھی پہنچایا، عراق کی بیشتر سیاسی جماعتوں ، مذہبی سکالرز اور مراجع تقلید نےعوام کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر عوام کے مطالبات پر عمل درآمد کرے کیونکہ عوام کے مطالبات ناحق نہیں بلکہ درست ہیں۔

اس ضمن میں عراقی مرجع تقلید سید علی سیستانی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد حق پر ہیں البتہ ان کا یہ احتجاج پرامن ہونا چاہئے اور ان احتجاجات کی آڑ میںتخریب کاری اور لڑائی جھگڑے کسی بھی طور قابل قبول نہیں ، عوام کو اپنے حقوق کے لیے بلاشبہ نکلنا چاہئے البتہ انہیں ہروقت پرامن رہنا چاہئے اور ویسے بھی تحزیب کاری اور غنڈہ گردی بےعزتی کا باعث ہے، ایک اور اہم بات یہ کہ عراقی عوام کو چاہئے کہ وہ ہوش اور حواس سے کام لیں کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ عراق دشمن عناصر احتجاجات سے غلط استفادہ کرتے ہوئے اپنے لوگوں کو احتجاجات میں شامل کرکے احتجاجات کی شکل ہی بدل دیں، جس سے نئے معاملات جیسے دہشت گردی ، فرقہ واریت اور قتل وغارت گری شروع ہو جائے جو وقت کیساتھ ساتھ خانہ جنگی میں بدل دی جائے۔

حیدرالعبادی کو چاہئے کہ وہ جلداز جلد عوام کے مطالبات پورے کرتے ہوتے ہوئے ان احتجاجات کو ختم کرائیں، علاوہ ازیں العبادی کرپشن پر قابو پانے کے لیے ٹھو س اقدامات اٹھائیں کیونکہ عراق کا سب سے بڑا مسئلہ اب دہشت گردی نہیں بلکہ کرپشن ہے جو داعش سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مجرم عمران کو کوٹ لکھپت جیل میں علی الصبح پھانسی دے دی گئی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) قصور کی ننھی زینب اور کئی معصوم بچیوں کا قاتل اپنے انجام ...