جمعہ , 14 دسمبر 2018

مشرق وسطیٰ کی نئی سرحدوں کا حتمی مرحلہ

(نصرت مرزا)
اگرچہ کئی امریکی دانشور یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ امریکہ نے عراق کو کیوں تباہ کیا، اُس کی قومی سلامتی کو کیوں پارہ پارہ کیا اور کیوں دو عراق جنگوں پر 3 ٹریلین ڈالر خرچ کئے مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک صہیونی ایدی داد یینون نے عظیم تر اسرائیل کا جو منصوبہ 1983ء میں پیش کیا تھا اور جس کے مطابق مصر سے لیکر پاکستان تک کسی ملک کو بھی نہ رقبہ کے لحاظ سے بڑا رہنے دینا ہے اور نہ آبادی کے حساب سے، اُس کی تکمیل کا آخری مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ شام میں امریکہ کی چین اور روس کی حمایت کی وجہ سے ناکامی کے بعد انہوں نے اب ایک نئی تنظیم دولت اسلامیہ فی عراق و شام بنا ڈالی اور انگریزی میں Islamic State of Iraq and Syria کے نام کے ساتھ لیونت LEVANT)) کا لخلخہ بھی لگا دیا گیا ہے، اِس طرح ISISL بن گئے ہیں جس کا مقصد ایسی ریاست کا قیام ہے کہ جو عراق، شام، اردن، اسرائیل، فلسطین اور کچھ ترک علاقوں پر مشتمل ہو۔ شاید بنی امیہ دور کی سلطنت کو معرضِ وجود میں لانا چاہتے ہیں، اِس تنظیم نے جس کے سربراہ ابوبکر البغدادی ہیں، موصل، تکریت اور کرکوک کو فتح کر لیا اور فلوجہ جو بغداد سے کوئی 45 میل کے فاصلے پر ہے، جنگ جاری رہی۔ اس وقت کے عراقی وزیراعظم نورالمالکی نے موصل اور اس کے اطراف فوج کو بغداد کی حفاظت کیلئے بلا لیا اور اِنکے باغیوں کو اسلحہ کی ایک بڑی کھیپ ہاتھ لگ گئی جس میں اپاچی جیسے جدید ہیلی کاپٹر بھی ہیں اور اس طرح ملی ہے کہ جیسے اُن کو تحفے میں دی گئی ہو۔

یوں یہ بے ربط افراد بڑے ہتھیاروں سے مسلح ہوگئے اور شاید وہ اِن ہتھیاروں کو چلانا نہ جانتے ہوں مگر یہ کون سی بڑی بات ہے جس قوت نے اُن کو یہ ہتھیار بطور تحفہ دلوائے ہیں وہی اِن کو چلانے کی تربیت کا اہتمام بھی کردیا گیا۔ اِس کے ساتھ ساتھ امریکیوں نے اپنے سفارت خانے کی حفاظت کیلئے 5 ہزار فوجی تعینات کر دیے یہ تعداد دُنیا میں کسی سفارت خانے میں تعینات عملے میں سب سے زیادہ ہے، اِس کے علاوہ 375 اسپیشل فورسز پر مشتمل تازہ دم فوج بھی بغداد کے امریکی سفارت خانہ میں تعینات کر دی گئی۔ نہ صرف یہ بلکہ ایک ایئر کرافٹ کیریئر یو ایس ایس جارج بش کے ساتھ گائیڈڈ میزائل کروزر اور گائیڈڈ میزائل تباہ کن جہاز بھی خلیج میں پہنچا دیے گئے جبکہ بغداد سے کچھ عملے کو بصریٰ جو قدرے محفوظ ہے، بھیج دیا گیا اور ضرورت پڑنے پر تمام عملے کو ایئرکرافٹ کیریئر میں پہنچانے کا بندوبست کر لیا گیا۔ ساتھ ساتھ امریکہ نے ایران کو اِس تنازع میں ملوث کرنے کی کوشش کی۔ ویانا میں 16 جون 2014ء کو امریکی سفارت کار ولیم جے برنس نے ایک ایرانی سفارتکار سے ملاقات کر کے ایران سے تعاون مانگا، ایران نے وہاں دو فوجی بٹالین بھیج دی ہیں جس میں ایک ایرانی فوجی باغیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔

یہ ISIS امریکہ، اسرائیل اور کچھ عرب ممالک کی بنائی ہوئی ہے اور امریکہ نے ایران کے لئے عراق میں بھربھری دلدل بنائی ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ کیوں اس میں پھنسنے جا رہا ہے۔ امریکی ایسے دھوکہ باز ہیں کہ ایران سے دوستی کا ارادہ ظاہر کر کے چھرا گھونپ دیں گے۔ ہم اپنے کالموں میں لکھ چکے ہیں، ایدی داد یینون جو ایک یہودی سفارت کار تھا اس نے 1983ء میں عظیم تر اسرائیل کا منصوبہ پیش کیا اور پھر کرنل پیٹررالف نے اِس میں رنگ بھرے اور خونی سرحدوں کے نام سے کتاب لکھی جس میں اس نے تحریر کیا کہ دوسری عالمگیر جنگ کے بعد یہ ممالک معرضِ وجود میں آئے تھے وہ سب کے سب مصنوعی ہیں، اس لئے اب اِن کی ازسرنو حدبندی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس نے عراق کو تین ممالک میں تقسیم کر کے نقشہ ترتیب دیا جو انٹرنیٹ پر موجود ہے اور شام کو چار ممالک میں اور لبنان کو فونیشیا کی قدیم سلطنت بنانا مقصود ہے جو سکندر اعظم سے پہلے بحری طاقت تھی جس کو سکندر اعظم نے تباہ کیا۔ اسی طرح سعودی عرب، اردن، قطر، ایران اور پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اُس کو حملہ کر کے دوبدو جنگ کے ذریعے زیر نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں تفرقہ ڈال کر الجھنوں اور مشکلات میں پھنسا کر اور عدم استحکام کا شکار کر کے تقسیم کاری کا عمل مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ کیا رنگ لائے گا یہ تو معلوم نہیں مگر اس میں ایک غلط بات یہ ہو رہی ہے کہ شہری آبادی کا کچھ حصہ افغانستان منتقل ہو رہا ہے جہاں افغان حکومت اُن کی پذیرائی کر رہی ہے، ہر خاندان کو ایک ہزار ڈالر دے رہی ہے اور بعد میں وہ اُن کو کس طرح استعمال کرتی ہے پشتونستان کے لئے یا پاکستان پر مکتی باہنی کی طرح کام لینا چاہتی ہے، بنگلہ دیش کی طرح مکتی باہنی کا کام تو افغان حکومت اب بھی کر رہی ہے اور اُس کو بھارت اور امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی موجودہ حکومت کا رویہ بھی عجیب ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جب قوم فوجی آپریشن کی حمایت میں لگی ہوئی تھی لاہور میں طاہر القادری کے سینٹر پر دھاوا بول دیا گیا جس میں حکومت کی غلطی سے پچھلے کئی سالوں بعد 14 افراد شہید ہو گئے اور سو سے زیادہ زخمی۔ جس کے ذمہ دار حکمران ہی مانے جائیں گے کیونکہ وہ مبینہ طور پر طاہر القادری کی آمد سے پریشان ہو کر اُن کے کارکنوں کو خوفزدہ کرنا چاہتے تھے۔ ہے تو ایسا ہی مگر ایسا عملاً یہ ہوا ہے کہ آپریشن پر کاری وار خود ان کی طرف سے ہو گیا ہے۔

یہ عمل بھی پاکستان میں تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے اور خونریزی کا بھی اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا بھی۔ کرنل پیٹر رالف اور یینون منصوبہ اب جو امریکی نائب صدر جوبائیڈن کے نام سے مشہور ہے یا ’’مکمل صفایا‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں پاکستان اور ایران کو چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تبدیل کرنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور ایران کو آپس میں ملنے نہ دینے کے لئے ہر طرح کی رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔ ہمارے حکمران اس وقت امریکہ کے چکر میں آئے ہوئے ہیں۔ جہاں پاکستان نے گیس پائپ لائن بچھانے کا موقع گنوایا وہاں ایران نے اب اِس امکان کو محدود کر دیا ہے۔

متذکرہ منصوبہ میں کردستان کی ایک نئی ریاست کا قیام ہے جو پانچ ممالک ترکی، شام، عراق، ایران اور آذربائیجان کے ممالک کی زمین کاٹ کر بنائی جائے گی اور اِن ممالک کو عدم استحکام سے دوچار اور ان کی سرحدوں کو سکیڑ دے گی۔ کرنل پیٹر رالف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ روئے زمین پر اگر کردستان کی ریاست قائم ہو گئی تو وہ امریکہ کی سب سے زیادہ وفادار ریاست بن جائے گی۔ امریکہ بظاہر ISIL کی مخالفت کر رہا ہے، وہ ڈرون حملوں کے آپشن یا سرجیکل اسٹرائک کی سوچ رہا ہے مگر دراصل وہ عظیم تر مشرق وسطیٰ کے منصوبے کی تکمیل کر رہا ہے جس میں مسلمانوں کی ملک کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنانا اور اِن ریاستوں کو مسلک کی بنیاد پر لڑانا شامل ہے، وہ سعودی عرب کے بارے میں بھی اچھے عزائم نہیں رکھتے۔ اگر دیکھا جائے تو اِس جنگ میں جوعراق میں شروع کی گئی اب تقریباً تمام مشرق وسطیٰ الجھ کر رہ گیا ہے۔ امریکہ یہ چاہے گا کہ ایران اِس میں عملاً شریک ہو کر کمزور ہو تو اُس کو تقسیم کیا جا سکے۔ عظیم تر بلوچستان اور کردستان کی ریاستوں کو بنانا اُن کا منصوبہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ ایسے میں ہماری استدعا ہو گی کہ حکومت پاکستان یا جو بھی اِس ملک کو اپنا ملک سمجھتا ہے وہ سرجوڑ کر بیٹھے اور اس منصوبہ کا توڑ اس طرح کریں کہ جو آپریشن فاٹا میں جاری ہے وہ جاری رکھا جائے مگر IDPS کو افغانستان نہ جانے دیا جائے۔

یہ بھی دیکھیں

زمینی حقائق سے چشم پوشی کیوں؟

(حیدر جاوید سید)  اقلیتوں سے نامناسب برتاؤ اور مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کا الزام ...