ہفتہ , 18 اگست 2018

مشرق وسطیٰ کی نئی تقسیم اور صیہونی عزائم

(غلام نبی مدنی)
تھیوڈور ہرزل انیسویں صدی کا متنازع کردار ہے۔ آج دنیا میں جتنی خوفناک جنگیں ہو رہی ہیں ان کے پیچھے اسی ہرزل کی سوچ کارفرما ہے۔ ہرزل اگرچہ 1904ء میں مر گیا تھا لیکن دنیا میں آج بھی اس کی آئیڈیالوجی زندہ ہے۔ تاریخ میں چنگیز خان اور اس کے پوتے ہلاکو خان کو بربریت کا استعارہ سمجھاجاتا ہے، جنہوں نے دنیا کو انسانوں کے خون سے رنگین کر دیا تھا، لیکن ان کی درندگی چند سالوں بعد ختم ہو گئی تھی۔ جب کہ یہ ہرزل ہے جس کے خون ریز منصوبوں سے سوسال بعد بھی دنیا خون سے رنگین ہو رہی ہے۔

ہرزل کو جدید صیہونیت کا باپ کہا جاتاہے۔ جس نے یہودیوں کو ساڑھے تین ہزارسال سے کھوئی ہوئی شناخت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایک علیحدہ ملک حاصل کر کے دنیا پر یہودیوں کی حکمرانی کرنے کا منصوبہ دیا۔ ہرزل نے مرتے دم تک علیحدہ ملک کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ ہرزل کے مرنے کے 44 سال بعد یہودیوں نے فلسطین پر قبضہ کر کے اسرائیل نام سے الگ ملک اگر چہ بنا لیا، لیکن ہرزل کا منصوبہ صرف فلسطین پر قبضہ کرنا ہرگز نہ تھا، بلکہ اس کے منصوبے میں مصر، عراق، سعودی عرب، شام، اردن، لبنان، ترکی اور ایران سے لے کر خلیج عربی، خلیج عقبہ سمیت بحیرہ عرب، افریقہ کے کچھ حصہ اور پاکستان تک کا خطہ شامل تھا۔ ہرزل کے منصوبے پر پچھلے سوسالوں سے کام جاری ہے۔ چنانچہ 1948 میں اس منصوبے کے تحت پہلے فلسطین کے محدود علاقے پر قبضہ کیا گیا، پھر1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے ذریعے، مصر، اردن، لبنان اور شام کے کچھ حصے پر قبضہ کر کے فلسطین میں قائم کی گئی غاصب اسرائیلی ریاست کو توسیع دی گئی۔ بعدازاں 2003ء میں امریکا عراق جنگ اور 2011 میں عرب بہار کے ذریعے اس منصوبے کے اگلے اہداف پر کام کو بڑھایا گیا جو تاحال مشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی کی صورت جاری ہے۔

اسرائیل کے مشہور اخبار Haaretz میں 1982ء میں اسرائیل کے دفاعی تجزیہ کار نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ اسرائیل کی سٹریٹجی شروع سے یہ ہے کہ وہ اپنی حدود وسیع کرنے کے لیے عرب ممالک کو رفتہ رفتہ توڑ کر چھوٹے چھوٹے ملک بنائے گا۔ چنانچہ 1980ء میں شروع ہونے والی ایران عراق جنگ کے ذریعے اسرائیل نے اپنے خفیہ منصوبے کو مکمل ہوتا دیکھ کر خوشی منائی تھی۔ گریٹر اسرائیل نامی مذموم منصوبے کی تکمیل کے لیے اسرائیل بنیادی طور پر تین کام کر رہا ہے۔ دنیا میں دفاعی اور معاشی طور پرورلڈ پاوربن جائے۔ دوسرا فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کو بڑھایا جائے۔ فلسطین کی مغربی پٹی اور غزہ میں اسرائیلی غاصب تیزی سے اس منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔ جس کے لیے اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو ماضی کی نسبت سب سے زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔ چنانچہ ایک رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو دور میں غیرقانونی طور پرفلسطینی علاقوں میں 100 فیصد اسرائیلی آبادکاری میں اضافہ ہوا ہے۔

اس وقت مشرق وسطیٰ میں جو خانہ جنگی کی آگ بھڑک رہی ہے اس کے پیچھے دراصل ہرزل کا منصوبہ ہی کارفرما ہے جس پر پہلی جنگ عظیم کے وقت 1916 میں سائیکس پیکونامی معاہدے کے ذریعے کام شروع ہوا، بعدازاں دوسری جنگ عظیم کے بعد اسرائیل کے قیام کے ساتھ اس میں تیزی لائی گئی پھرنائن الیون کے ذریعے عراق میں امریکا کی مداخلت کے بعد اس منصوبہ کا دوسرا راؤنڈ شروع ہوا جو عرب بہار کے بعد داعش کے قیام اور شامی و عراقی خانہ جنگی کی صورت اب اختتام کی جانب رواں دواں ہے۔ اس منصوبے کے اختتام میں اگرچہ عراق، شام، ترکی کو تقسیم کرنا شامل ہے۔ لیکن ترکی اورمشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کی مزاحمت سے فی الحال صیہونیوں کا یہ خواب ادھورا پڑا ہے لیکن اگر مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک باہمی مفادات کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے اور عالمی طاقتوں کی باتوں میں آ کر ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار رہے تو شاید صیہونیوں کا یہ خواب جلد پورا ہوجائے۔ اس لیے مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کو اپنے مفادات کے ساتھ پورے خطے کے مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ اس خطے میں صیہونی عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ ذمہ داری سعودی عرب، مصر، ترکی، اردن اور لبنان پرعائد ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ان ممالک میں باہمی اعتماد کمزور ہے۔ چنانچہ ایک طرف سعودی عرب اور مصر کے مابین اختلافات کروانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف ترکی اور مصر کو ایک دوسرے کے قریب ہونے سے روکا جا رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں صیہو نی عزائم کو روکنے کے لیے پوری دنیا کے اسلامی ممالک کو متحرک ہونا ہو گا اور فلسطین میں اسرائیل کی غیرقانونی آباد کاری کے خلاف بھرپور مہم چلانی ہو گی۔ اس کے ساتھ عراق، شام اور دیگر ممالک میں مداخلت سے نہ صرف مغربی ممالک کو روکنا ہو گا بلکہ ایران، سعودی عرب ، مصر سمیت دوسرے ملکوں کو بھی اپنے ہمسایہ ممالک میں بےجا دخل اندازی سے خود کو باز رکھنا ہو گا۔ بالخصوص مشرق وسطٰی کے ممالک کو عراق، شام اور یمن میں فریق بننے کی پالیسی ترک کرنا ہو گی کیوں کہ صیہونی لابی مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کو مسلکی بنیادوں پر لڑا کر نہ صرف ان کے وسائل کو لوٹنا چاہتی ہے، بلکہ ہرزل کے منصوبے کے تحت مشرق وسطیٰ کی نئی تقسیم کر کے اور پھر گریٹراسرائیل کے ذریعے یہودیوں کی پوری دنیا پر حکمرانی کے دیرینہ خواب کو بھی پایہ تکمیل تک پہچانا چاہتی ہے۔ بشکریہ : روزنامہ مشرق

یہ بھی دیکھیں

امریکہ خلائی فوج کیوں تیار کر رہا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خلائی فوج قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ...