بدھ , 19 دسمبر 2018

ترکی میں 2 سال سے جاری ایمرجنسی کا خاتمہ

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردگان کی انتخابات میں کامیابی کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر اقتدار سنبھالنے کے بعد ترکی نے ملک میں 2 سال سے جاری ایمرجنسی ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ نیوز کے مطابق مبینہ طور پر امریکا میں مقیم رہنما فتح اللہ گولن کی تنظیم کی جانب سے 20 جولائی 2016 کو ترکی میں ہونے والی پرتشدد بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد ایمرجنسی لگائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں ترک حکومت نے ساتویں مرتبہ ایمرجنسی کی مدت میں توسیع کی تھی۔اس حوالے سے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کا کہنا تھا کہ ترکی میں ایمرجنسی کے دوران ہزاروں لوگوں کو نوکریوں سے برطرف اور گرفتار کیا گیا۔

خیال رہے کہ ایمرجنسی اٹھانے کے فیصلہ ترک صدر رجب طیب اردگان کی انتخابات میں کامیابی کے بعد سامنے آیا جبکہ انتخابی مہم کے دوران اپوزیشن امیدواروں نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اگر وہ کامیاب ہوئے تو سب سے پہلا کام ایمرجنسی کا خاتمہ ہوگا۔

اس ضمن میں ترکی کے سرکاری اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایمرجنسی کے دوران ایک لاکھ 7 ہزار سے زائد افراد کو سرکاری ملازمتوں سے بر طرف کیا گیا جبکہ 50 ہزار سے زائد افراد کو جیل بھیجا گیا جن کے مقدمات زیر التوا ہیں۔

خیال رہے کہ برطرف کیے جانے والے افراد پر امریکا میں مقیم جلا وطن اسلامی رہنما فتح اللہ گولن کے حمایتی ہونے کا الزام ہے، جن کو ترک حکومت بغاوت کی کوشش کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔یاد رہے کہ 2 سال قبل ترک صدر طیب اردگان کا تختہ الٹنے کے لیے بغاوت کی ناکام کوشش کی گئی تھی جس کے نتیجے میں پرتشدد واقعات میں 251 افراد ہلاک اور 2 ہزار 2 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ اور اسرائیل دہشت گردوں کو منظم کر رہے ہیں، ایرانی وزیر انٹیلی جینس

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے وزیر انٹیلی جینس نے کہا ہے کہ اسرائیل کے جاسوسی ادارے ...