جمعرات , 18 اکتوبر 2018

‘صدی کی ڈیل‘ کی اصل کہانی کیا ہے؟

ان دنوں امریکا کے مشرق وسطیٰ کے لیے مجوزہ امن منصوبے ’صدی کی ڈیل‘ کے کافی چرچے ہیں۔ گو کہ امریکیوں نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔ میڈیا میں اس کے بے پناہ چرچے اور سیاسی محلفوں پر اس پر تبصرہ آرائی کی جاتی ہے۔یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا میڈیا کے ذریعے لیک ہو کر آنے والی معلومات ہی ’صدی کی ڈیل‘ میں شامل ہیں یا یہ ھنوز پردہ رازمیں ہے۔ اس کے انکشاف کے بعد رد عمل کیا ہوگا۔ خطے کے فریقین اس کے ساتھ کیسے نمٹیں گے۔ کیا اس کا استقبال ایک نومولود کی طرح کیا جائے گا؟

چاہے جو کچھ بھی ہو۔ یہ بات طے ہے کہ ’صدی کی ڈیل‘ فریقین یا کم سے کم فلسطینیوں کے لیے قابل قبول اور تاریخ ساز فارمولا نہیں ہوگا جس میں صہیونی ریاست کے ساتھ جاری ہماری کشمکش کو اصولی طریقے سے ختم کرنے کی کوئی بات کی جائے گی بلکہ ہم قضیہ فلسطین کو ختم کرنے کے ایک نئے سازشی منصوبے کا سامنا کرنے والے ہیں۔

صدی کی ڈیل فریقین کے درمیان باہمی مشاورت سے طے پانے والا منصوبہ نہیں بلکہ متکبر امریکا اور اس کے پالتو اسرائیل کی سازشی اسکیم ہے جس میں فلسطینی قوم پر صہیونیوں کے ارادے اور مذموم عزائم مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس طرح کے امن فارمولوں کی جو بھی تفصیلات ہوں اور انہیں چسکے دار عنوانات سے مزین کرنے کی کوشش کی بھی جائے مگر وہ تاریخ ساز نہیں بلکہ مخصوص لابی اور گروپ کی سازش کو مسلط کرنے کی کوشش ہوگی۔

یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ ‘صدی کی ڈیل‘ کوئی نئی اصطلاح ہرگز نہیں۔ سنہ 2006ء میں جب ایہود اولمرٹ صہیونی وزیراعظم تھے تو ’اولمرٹ ۔ محمود عباس مفاہمت‘ کافی مشہور ہوا۔ اس مجوزہ خفیہ پلان کی جو تفصیلات سامنے آئیں ان میں بتایا گیا کہ اسرائیل میں نئے انتخابات کے بعد فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کسی امن معاہدے کی اہم پیش رفت ہونے والی ہے۔ مگر وہ انتخابات جیسا کہ اولمرٹ کی مرضی اور منشا تھی نہیں ہوئے۔

’صدی کی ڈیل‘ کی طرز پر سنہ 2010ء میں اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر جیورا آئلنڈ نے ایک فارمولے کی تجویز پیش کی اوراسے قضیہ فلسطین کا ممکنہ حل بتایا گیا مگر اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

ایک فارمولہ ’اردن/ فلسطین وفاق‘ کے نام سے سامنے آیا۔ اس میں اردن کی طرز پر تین ریاستوں مشرقی غرب اردن، مغربی غرب اردن اور غزہ پر مشتمل تین ریاستیں تجویز دی گئیں۔

دوسرا یہ ’علاقوں کا تبادلہ‘ جس میں تجویز دی گئی کہ مصر جزیرہ نما سیناء کے 720 مربع کلو میٹر کے علاقے کو فلسطینیوں کے لیے چھوڑ دے گا۔ یوں یہ ریاست مستطیل کی شکل میں رفح سے العریش شہر تک 24 کلو میٹر طویل اور 30 کلو میٹر چوڑی ہوگی۔ یہ رقبہ مقبوضہ مغربی کنارے کے کل رقبے کا 12 فی صد بنتا ہے۔ حال ہی میں اسرائیل نے غرب اردن کو بھی ضم کرنے کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔

مصر کو جزیرہ سینا کے کچھ حصے کے بدلے میں سنہ 1948ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے جزیرہ نما النقب کے جنوب سے اتنا رقبہ وادی فیران سے الاٹ کیا جائے گا۔ اس تبدیلی کا مصر کو ایک فائدہ یہ ہوگا کہ وہ وہاں سے 10 کلو میٹر کی ایک سرنگ کے ذریعے اردن تک پہنچ سکے گا۔ صرف سنگ نہیں بلکہ مصر وہاں پر ریلوے لائن، تیل پائپ لائن اور سڑکیں بھی تعمیر کرسکے گا اور وہاں سے حاصل ہونے والا ٹیکس مصر کو ملے گا۔

اس منصوبے کے تحت غزہ کے فلسطینیوں کو جزیرہ نما سیناء تک پھیلنے کا موقع ملے گا۔ انہیں ایک عدد ہوائی اڈہ اور ایک بندرگاہ کی بھی سہولت ہوگی۔ بحرمتوسط کی اس بندرگاہ سے اردن بھی مستفید ہوگا اور اس کےخلیجی ملکوں، عراق اور یورپی ممالک تک آبی رسائی آسان ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ اردن کو غزہ کے 70 ہزار فلسطینیوں کو واپس کرکے ان کا بوجھ اتارنے کا موقع ملے گا جب کہ دوسری طرف غرب اردن اور دیوار فاصل کے دونوں اطراف کے علاقے اسرائیل میں ضم کردیے جائیں گے۔

زمین کے تبادلے کے اس فارمولے کو آگے بڑھانے کے لیے وادی عقبہ میں 21 فروری 2016ء کو امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایک اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کا انکشاف 19 فروری 2017ء کو اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ نے پردہ چاک کیا۔ اس میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم اور امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری شریک تھے۔ انہوں نے جزیرہ نما سیناء کا کچھ حصہ فلسطینیوں کو دینے پر رضامندی کا اظہار کیا اور اسے قضیہ فلسطین کا ’حتمی حمل‘ کرانے کی کوشش کی گئی۔

اس اجلاس میں نیتن یاھو نے فلسطینیوں کے ساتھ اعتماد سازی کےاقدامات کی تجویز پیش کی اور کہا کہ وہ معاہدے کی صورت میں خلیجی ملکوں سے تعلقات کے عوض اقتصادی سہولیات دینے کو تیار ہیں۔ جان کیری نے اسرائیل کو ’یہودی ریاست‘ تسلیم کرانے کے نظریات پر بات کی اور فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر زور دیا۔

اس کے بعد حسب معمول نیتن یاھو نے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور یہ منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا۔ فلسطینی اتھارٹی جو پہلے ہی ایسی کسی ڈیل کے حوالے سے پس وپیش میں تھی منظر ہی سے غائب ہوگئی۔

20 ستمبر 2017ء کو امریکی اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد محمود عباس کا ایک بیان نقل کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے حل کے لیے ’صدی کی ڈیل‘ کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ بعد میں امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیریڈ کوشنر اور اسرائیل نواز یہودی جیسن گرین بیلٹ کو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان میل ملاقات کے لیے متعین کیا۔ یہ دونوں شخصیات آٹھ ماہ میں 20 سے زاید بار اسرائیل اور فلسطینی قیادت سے ملے۔

کوشنر اور گرین بیلٹ نے مصر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی قیادت سے ملاقاتیں جاری رکھیں تاکہ ’پرامن تصفیے‘ کے لیے علاقائی سطح پر ماحول ساز گار بنایا جاسکے۔

تنظیم آزادی فلسطین کے رُکن احمد مجدلا نے نو جنوری 2019ء ایک بیان میں بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’صدی کی ڈیل‘ کے جس منصوبے کی بات کرتے ہیں اس کا مقصد قضیہ فلسطین کا مکمل طورپر تصفیہ کرنا ہے۔ امریکا نے اپنے امن منصوبے کے بارے میں سعودی عرب کو آگاہ کردیا ہے، بہ الفاظ دیگر امریکا سعودی عرب کے توسط سے اپنا فارمولہ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ امریکی منصوبے کی تفصیلات سعودی عرب ہی کے ذریعے فلسطینیوں تک پہنچی ہیں۔

امریکی فارمولے میں یہ بات شامل کی گئی کہ قضیہ فلسطین کے تصفیے کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین صہیونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرلیں گے۔ یہ ممالک مل کر فلسطینی اتھارٹی کو اپنے حصار میں لیں گے جو ایران اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے سعوعدی عرب کی قیادت میں اسرائیل کی صف میں کھڑے ہو جائیں گے۔

’صدی کی ڈیل‘ جیورا آئلنڈ کے نظریات سے مختلف نہیں۔ دونوں میں دوطرفہ اعتماد سازی کے لیے طویل وقت کی بات کی گئی، فلسطینیوں بالخصوص غزہ کی پٹی کے مجاھدین کو غیر مسلح کرنے اور ایک ایسی فلسطینی عبوری ریاست جس کا قیام کئی سال کے طویل مذاکرات کی مرہون منت ہوگا۔ اس دوران اسرائیل اور اس کے سرپرست فلسطینیوں کا چال چلن بھی دیکھیں گے۔ اگر فلسطینی اعتماد پر پورا اترتے رہےتو عین ممکن ہے انہیں چند مزید داخلی سطح پر آزادیاں یا اقتصادی مراعات مل جائیں ورنہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولہ ہی چلے گا۔

اس کے بعد فلسطینیوں کے ساتھ تبادلہ اراضی کا مرحلہ شروع ہوگا۔ فلسطینی اتھارٹی اور تنظیم آزادی فلسطین کو غرب اردن کے 88 فی صد رقبے سے دست بردار ہوکر فقط 12 فی صد پر اکتفا کرنا ہوگا۔ غرب اردن اور وادی اردن اسرائیل میں ضم ہوجائیں گے۔ یہی منصوبہ جیورا ائیلنڈ نے پیش کیا جس میں غزہ کو جزیرہ نما سیناء تک وسعت دی گئی۔

چند داخلی مراعات کے سوا عبوری فلسطینی ریاست اور کوئی حق نہیں دیا جائے گا۔ فلسطینی ریاست کا بری، بحری اور فضائی کنٹرول اسرائیل کے ہاتھ میں رہے گا۔ القدس اور فلسطینی پناہ گزینوں کے مسائل نظرانداز کر دیے جائیں گے۔ یوں فلسطینیوں کو داخلی خود مختاری کے باوجود اسرائیل کا باجگزار اور صہیونیوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے گا۔

بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا ٹرمپ کا فیصلہ’صدی کی ڈیل‘ کا حصہ ہے۔ امریکا اور اسرائیل کو عرب اور مسلمان ممالک کی طرف سے اس پر آنے والے رد عمل کی توقع نہیں تھی۔

جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے تو اس نے سرکاری سطح پر ٹرمپ کے اعلان القدس کی مخالفت ضرور کی مگر جب پوری اسلامی دنیا کی مساجد میں القدس کی حمایت میں قراردادیں اور ٹرمپ کے اعلان القدس کے خلاف مذمتی بیانات جاری تھی مسجد حرام کے امام اورخطیب دور دور تک بھی القدس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ حتیٰ کہ اس دن ان کے خطاب کا موضوع والدین کے ساتھ حسن سلوک ٹھہرا۔ احتجاج تو سب نے کیا مگر اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھنے والے کسی مسلمان یا عرب ملک نے تعلقات ختم نہیں کیے۔ سفارتی درجہ کم کیا اور نہ ہی سفیروں کو واپس بلایا گیا۔

یہ ظاہر ہے کہ صہیونیوں اور امریکیوں کو اپنے عزائم کو آگے بڑھانے اور مشرق وسطیٰ بالخصوص فلسطینی قوم پر مسلط کرنے کے لیے موجودہ وقت نہایت مناسب موقع ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالم اسلام انتشار کا شکار اور فلسطینی قوم بھی دھڑوں تقسیم ہے۔ عرب ملکوں میں خون خرابے، فرقہ واریت اور طوائف الملوکی کی دیوار مسلسل بلند سے بلند تر ہو رہی ہے۔

اس کے باوجود فلسطینی قوم نا امید اور مایوس ہرگز نہیں۔ مسلمانوں اور فلسطینیوں کی طویل تاریخ ہے اور صہیونی صرف موسمی بٹیرے ہیں۔ دوام صرف اسلام مسلمانوں اور فلسطینی قوم کو حاصل ہوگا۔ آج نہیں تو کل صدی کی ڈیل جیسے مذموم عزائم اپنے بدتر انجام کو پہنچیں گے۔

مگر اس کے لے فلسطینی قوم کو کچھ کام کرنا ہوں گے۔ فلسطینیوں کو اپنے دیرینہ حقوق، مطالبات اور اصولوں پرقائم رہنا ہوگا۔ فلسطینی اپنے کسی ایک معمولی حق سے بھی دست بردار نہ ہوں۔ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ فلسطینی اندرون اور بیرون ملک متحد ہونے کے ساتھ پوری مسلم کہ کے ساتھ شامل ہوجائیں۔ اوسلو معاہدہ پیچھے جا چکا۔ فلسطینیوں کو اپنے مستقبل کا تعین خود کرنا ہوگا۔ عالم اسلام کے ساتھ مل کر فلسطینی قوم عظیم طاقت بن سکتے ہیں۔

’صدی کی ڈیل‘ کے خدو خال
فلسطینی اتھارٹی کے مذاکرات کار صائب عریقات نے 12 نکات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی جس میں امریکی امن منصوبے کے حوالے سے درج ذیل نکات اور اس کے خدو خال بیان کیے گئے۔• بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کر امریکی سفارت کانے کی القدس منتقلی

• امریکی انتظامیہ نے ایک نئی اختراع پیش کی کہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بیت المقدس کا ایک نواحی علاقہ بنایا جائے گا جو القدس سے چھ کلو میٹر دور اور سنہ 1967ء کی حدود سے باہر ہوگا۔

• اس کے دو یا تین ماہ کے اندر اندر امریکی انتظامیہ فلسطین میں قائم کی گئی یہودی کالونیوں کواسرائیل کا آئینی حصہ تسلیم کرنا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت امریکی حکومت کے ہاں زیرغور ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم یہودی کالونیوں کا 15 فی صد اور امریکا 10 فی صد اسرائیل میں ضم کرنے پرمصر ہیں۔

• صدی کی ڈیل میں مشترکہ سیکیورٹی کنٹرول کا پلان تجویز کیا گیا ہے۔ یعنی فلسطینی اور اسرائیلی حکومتیں سیکیورٹی کے معاملات کو مل کرچلائیں گی۔ اس میں چار اہم نکات پیش کئے گئے ہیں۔ فلسطینی ریاست ہرطرح کے اسلحہ سے پاک ہوگی تاہم مضبوط پولیس رکھ سکے گی۔ علاقائی اور عالمی سیکیورٹی تعاون کا فارمولہ وضع کیا جائے گا جس میں اردن، مصر اور امریکا شامل ہوں گے تاہم دوسرے ممالک کے لیے بھی اس میں شمولیت کے دروازے کھلے رہیں گے۔ پورے دریائے اردن کے اطراف میں کنٹرول اسرائیلی فوج کے پاس رہے گا۔ وسطی پہاڑی راستوں پر بھی اسرائیل ہوگا جو دونوں ریاستوں فلسطین اور اسرائیل کا تحفظ کرے گی۔ اسرائیل کے پاس ہنگامی حالت کے نفاذ سمیت آخری درجے کے سیکیورٹی کے انتظامات کا اختیارہوگا اور اسرائیل جب چاہے فلسطینی علاقوں بھی فوجی ایمرجنسی نافذ کرسکے گا۔• اسرائیلی فوج غرب اردن کے سیکٹر ’A‘ اور سیکٹر ’B‘ سے بہ تدریج نکل جائے گی۔

سیکٹر A غرب اردن کے کل 18 فی صد رقبے اور سیکٹر B 21 فی صد رقبے پر مشتمل ہے۔ سیکٹر اے میں انتظامی اور سیکیورٹی کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہوگا جب کہ سیکٹر بی میں سول انتظامیہ فلسطینی اتھارٹی کی اور سیکیورٹی کے امور اسرائیل کے پاس ہوں گے۔ یوں غزہ سمیت کل 39 فی صد رقبے پر فلسطینی مملکت قائم کی جائے گی۔

• دنیا اسرائیل کو یہودیوں کے قومی وطن کے طورپر تسلیم کرے گی اور فلسطین کو فلسطینیوں کا قومی وطن قرار دیا جائے گا۔• اسرائیل اپنے تسلط میں آنے والے مذہبی مقامات پر عبادت کی مکمل آزادی فراہم کرے گا۔• اسدود اور حیفا بندرگاہوں اور اللد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا کچھ حصہ فلسطینیوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی مگر اس پر سیکیورٹی کے تمام انتظامات اسرائیل ہی کے پاس ہوں گے۔

• غزہ اور غرب اردن کے درمیان پر امن گذرگاہ قائم کی جائے گی اور اس کا کنٹرول فلسطینیوں کے پاس نہیں بلکہ اسرائیل کے پاس ہوگا۔• علاقائی پانی، فضاء برقی مقناطیسی لہریں اسرائیل کے کنٹرول میں ہوں گی۔• پناہ گزینوں کے مسئلے کا منصفانہ حل فلسطینی ریاست کے قیام کے بعد دیکھا جائے گا۔

صدی کی ڈیل کے عمومی اصول
مستقبل میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والا کوئی بھی منصوبہ اسرائیلی ریاست کے مفادات کے خلاف نہیں ہوگا بلکہ صہیونی ریاست کے مستقبل کے ویژن کے عین مطابق ہوگا۔ بلا شبہ اس منصوبے کو اسرائیل کے مذہبی حلقوں کی طرف سے بھی منظوری حاصل ہوگی۔

صدی کی ڈیل میں طے کردہ فریم ورک کے مطابق ’دو ریاستی حل‘ کا مطالبہ پورا ہوجائے گا اور مستقبل میں اسرائیل سے سنہ 1967ء کی حدود کی طرف واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جاسکے گا۔

مستقبل میں القدس کو کسی دوسرے مذاکراتی عمل میں شامل نہیں کیا جائے گا اور اسرائیل کو اپنے ویژن کے مطابق مشرقی اور مغربی بیت المقدس میں یہودیوں کی آبادی 88 فی صد کرنے کی اجازت ہوگی۔فلسطینی جہاں ہیں جیسے ہیں کی بنیاد پر مستقل کردیے جائیں گے جب کہ غزہ میں رہنے والے فلسطینی پناہ گزینوں کی مختصر سی تعداد کو واپس جانے کی اجازت ہوگی۔

فلسطینی رجیم کے قیام کے ساتھ غرب اردن میں اردن اور غزہ کی پٹی کی طرف سے مصر کو سیکیورٹی کنٹرول کا اختیار ہوگا۔غزہ اور غرب اردن کو دو الگ الگ علاقون کے طور پر ڈیل کیا جائے گا۔ غزہ کو شمالی سیناء یا سمندر کے ساتھ توسیع دی جاسکے گی۔

جغرافیائی حل
مزعومہ صدی کی ڈیل منصوبے کو زمینی حقائق کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔ غرب اردن کی یہودی کالونیوں پر اسرائیل کا کنٹرول رہے گا۔ غزہ اور غرب اردن میں سیاسی اور جغرافیائی تقسیم برقرار رہے گی۔

جیورا آئلنڈ منصوبہ
’صدی کی ڈیل‘ کی طرز پر سنہ 2010ء میں اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر جیورا آئلنڈ نے ایک فارمولے کی تجویز پیش کی اوراسے قضیہ فلسطین کا ممکنہ حل بتایا گیا مگر اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ایک فارمولہ ’اردن/ فلسطین وفاق‘ کے نام سے سامنے آیا۔ اس میں اردن کی طرز پر تین ریاستوں مشرقی غرب اردن، مغربی غرب اردن اور غزہ پر مشتمل تین ریاستیں تجویز دی گئیں۔

دوسرا یہ ’علاقوں کا تبادلہ‘ جس میں تجویز دی گئی کہ مصر جزیرہ نما سیناء کے 720 مربع کلو میٹر کے علاقے کو فلسطینیوں کے لیے چھوڑ دے گا۔ یوں یہ ریاست مستطیل کی شکل میں رفح سے العریش شہر تک 24 کول میٹر طویل اور 30 کلو میٹر چوڑی ہوگی۔ یہ رقبہ مقبوضہ مغربی کنارے کے کل رقبے کا 12 فی صد بنتا ہے۔ حال ہی میں اسرائیل نے غرب اردن کو بھی ضم کرنے کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔

مصر کو جزیزہ سینا کے کچھ حصے کے بدلے میں سنہ 1948ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے جزیرہ نما النقب کے جنوب سے اتنا رقبہ وادی فیران سے الاٹ کیا جائے گا۔ اس تبدیلی کا مصر کو ایک فائدہ یہ ہوگا کہ وہ وہاں سے 10 کلو میٹر کی ایک سرنگ کے ذریعے اردن تک پہنچ سکے گا۔ صرف سنگ نہیں بلکہ مصر وہاں پر ریلوے لائن، تیل پائپ لائن اور سڑکیں بھی تعمیر کرسکے گا اور وہاں سے حاصل ہونے والا ٹیکس مصر کو ملے گا۔

اس منصوبے کے تحت غزہ کے فلسطینیوں کو جزیرہ نما سیناء تک پھیلنے کا موقع ملے گا۔ انہیں ایک عدد ہوائی اڈہ اور ایک بندرگاہ کی بھی سہولت ہوگی۔ بحرمتوسط کی اس بندرگاہ سے اردن بھی مستفید ہوگا اور اس کےخلیجی ملکوں، عراق اور یورپی ممالک تک آبی رسائی آسان ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ اردن کو غزہ کے 70 ہزار فلسطینیوں کو واپس کرکے ان کا بوجھ اتارنے کا موقع ملے گا جب کہ دوسری طرف غرب اردن اور دیوار فاصل کے دونوں اطراف کے علاقے اسرائیل میں ضم کردیے جائیں گے۔

نفتالی بینٹ کا منصوبہ
اسرائیلی وزیر نفتالی بینٹ نے سنہ 2016ء میں تنازع فلسطین کے حل کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا جسے نفتالی بینٹ اسکیم کہا جاتا ہے۔ان کے س منصوبے کے مطابق غرب اردن کے سیکٹر C کو مستقبل میں اسرائیل کا حصہ قرار دیا جائے اور غرب اردن اور اسرائیل کے درمیان مواصلاتی رابطے کے لیے سڑکیں، ریلوے لائن اور دیگر منصوبے شروع کیے جائیں۔

لائبرمین منصوبہ
موجودہ اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لایبرمین نے منصوبہ پیش کیا غرب اردن کی وسیع اراضی کو اسرائیل میں ضم کیا جائے اور اس کے بدلے میں فلسطینیوں کو شمالی فلسطین کے علاقے ’مثلث‘ سے رقبہ فراہم کیا جائے ۔

اسرائیل کاٹز منصوبہ
اسرائیلی وزیرمواصلات اسرائیل کاٹز نے تجویز پیش کی کہ غزہ کی پٹی کے ساحل پر ایک مصنوعی جزیرہ تیار کیا جائے جو ساحل سے ساڑھے چار کلو میٹر کے فاصلے پر ہو اور اسے ایک پل کے ذریعے غزہ سے ملایا جائے۔ اس کا کنٹرول اسرائیلی فوج کے پاس ہو۔ اس میں ایک بندرگاہ، توانائی تنصیبات اور ایک ہوائی اڈہ بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔

فلسطینی موقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری کشمکش کو ختم کرنے کے لیے ’صدی کی ڈیل‘ کے جس منصوبے کے چرچے ہیں وہ ہنوز شکوک وشبہات کے تہہ درتہہ پردوں کی دبیز تہہ کے اندر ہے۔ سیاسی ماہرین امریکا کے مجوزہ امن منصوبے کو سامنے رکھ کر فلسطین کی موجودہ سیاسی صورت حال کا جائزہ لینے میں کافی دقت کا سامنا کررہے ہیں۔

بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی مجوزہ امن اسکیم فلسطینیوں کے بنیادی حق خود ارادیت کو ساقط کرنے بلکہ پورے قضیہ فلسطین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی سازش ہے۔ ’صدی کی ڈیل‘ کو دیگر جتنے بھی ناموں کے ساتھ لکھا جائے مگر حقیقی معنوں میں یہ فلسطین کے حوالے سے صہیونی ریاست کا ’ویژن‘ ہے۔

یاد رہے کہ 6 دسمبر 2017ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کہا کہ وہ جلد ہی امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کردیں گے۔ حال ہی میں امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کا عمل رواں سال مئی میں فلسطین میں اسرائیلی قیام کی سالگرہ پر منتقل کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ سنہ 1948ء کو مئی کے مہینے میں صہیونی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ فلسطینی اسے’نکبہ‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

حماس کا اصولی موقف
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے دو ٹوک اور کھلے الفاظ میں ’صدی کی ڈیل‘ کو مسترد کرتے ہوئے اس سازش کے خلاف ہرسطح پر مزاحمت کرنے کی جدو جہد کا اعلان کیا ہے۔حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ پرعزم ہیں کہ فلسطینی قوم صدی کی ڈیل کی سازش کو ناکام بنا کر چھوڑے گی۔

اسرائیل کا طرز عمل
اسرائیل کی طرف سے حالیہ عرصے کے دوران اٹھائے گئے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست ’صدی کی ڈیل‘ کو قبول کر چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صدی کی ڈیل کا منصوبہ تیار امریکا نے کیا ہے مگر اس میں پیش کردہ پیش تر تجاویز اسرائیل کی ہیں۔ فلسطین میں یہودی آباد کاری کا تسلسل، فلسطینیوں کے خلاف کنیسٹ میں نسل پرستانہ قوانین کی منظوری، القدس کو صہیونی ریاست کا متحدہ دارالحکومت قرار دینے کے لیے قانونی اقدامات اور شہر کو یہودیوں کے ابدی دارالحکومت کے طورپر پیش کرنے لگتا ہے کہ اسرائیل صدی کی ڈیل کو پیش کرنے سے قبل ہی اس پرعمل درآمد شروع کر چکا ہے۔

عرب ممالک کی ’منافقانہ‘ پالیسی
بہ ظاہر بیشتر عرب ممالک فلسطینیوں کے حقوق کے خلاف کسی بھی عالمی امن منصوبے کو مسترد کرچکے ہیں مگر عالمی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے عرب ممالک فلسطین کے بارے میں امریکی ویژن سے متفق ہیں۔جزیرہ نما سیناء سے ہزاروں افراد کو بے دخل کرنے سے یہ عندیہ مل رہا ہے کہ صدی کی ڈیل کو آگے بڑھانے کے لیے عرب ممالک امریکا کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔

صدی کی ڈیل کے ممکنہ سیناریو
فلسطینی تجزیہ نگار اور مسارات مرکز کے ڈائریکٹر ھانی المصری کا کہنا ہے کہ صدی کی ڈیل کو آگے بڑھانے کے حوالے سے تین ممکنہ سیناریو ہیں۔

پہلا سیناریو
صدی کی ڈیل سرے سے پیش ہی نہیں کی جائے گی۔ امریکی انتظامیہ ایک سال سے کہہ رہی ہے کہ وہ صدی کی ڈیل کا منصوبہ پیش کرنے کی تیاری کررہی ہے مگر ابھی تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

دوسرا سیناریو
صدی کی ڈیل کے حوالے سے دوسرا ممکنہ سیاریو فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی بحالی ہے۔ ممکن ہے فلسطینی اتھارٹی امریکی اور علاقائی دباؤ کے تحت صدی کی ڈیل کے بعض نکات کو قبول کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ بات چیت پرآمادہ ہوجائے۔ مگر یہ اتنا آسان نہیں۔

تیسرا سیناریو
تیسرا سیناریو یہ ہے کہ امریکا صدی کی ڈیل کا فارمولہ پیش کرے اور اس کے نتائج کا ذمہ دار فلسطینیوں کو قرار دے۔ ایسا اس لیے بھی ممکن ہے کہ بعض عرب ممالک امریکی انتظامیہ کے ساتھ ساز باز کررہےہیں۔ ان کا اصل مقصد قضیہ فلسطین کا منصفانہ حل نہیں بلکہ ایران کا گھیراؤکرنا ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

ہم سے ایسا کیا گناہ ہو گیا؟

(وسعت اللہ خان)  نواز شریف دیوانہ وار حامیوں کے جلو میں ووٹ دینے پولنگ اسٹیشن ...