جمعہ , 14 دسمبر 2018

پیوٹن ٹرمپ سے بازی لے گئے

(تسنیم خیالی)
ہلسنکی میں روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر امریکہ میں سینیٹرز، صحافیوں اور عوامی نمائندوں کی جانب سے شدید تنقید دیکھنے میں آئی، ٹرمپ کو اس ملاقات کے بعد ’’کمزور‘‘، غدار‘‘اور ’’جلد باز‘‘ قرار دیا گیا، اگر ’’خدانخواستہ‘‘ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مشیر ہوتا تو میں انہیں یہی نصیحت کرتا کہ وہ اپنے بیرونی دورے عرب ممالک تک ہی محدود رکھیں ،خاص طور پر خلیجی ممالک تک کیونکہ یہ دنیا کا وہ واحد علاقہ ہے جہاں سے یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ وہ طاقتور لیڈر ہیں اس علاقے میں ٹرمپ کو کمزور اور ان کے آگے جھکنے والے حکمران ملتے ہیں اور وہ حکمران جو ان کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہیں ، ان کی ہر توہین کو برداشت کرتے ہیں اور اسی علاقے سے ٹرمپ ڈالروں سے بھرے بکسے واشنگٹن لے جاتے ہیں۔

ٹرمپ پر ہونیوالی تنقید درست تھی کیونکہ وہ پیوٹن سے ملاقات کے دوران یوں لگ رہے تھے جیسے شاگرد اپنے استاد کے آگے گھبرایا ہوا ہو، ٹرمپ پیوٹن کی ہاں میں ہاں اور نا میں نا ملاتے ہیں، ٹرمپ نے ہر معاملے میں پیوٹن کے نقطہ نظر کو درست قرار دیا اور روسی قیادت پر کوئی تنقید نہیں کی خواہ وہ یو کرائن کا معاملہ ہو، جزیرہ کریمیا کا معاملہ ہو یا پھر شام کا، امریکی صدر نے ٹال مٹول کر اپنے کمزور موقف اور کارکردگی کا اعتراف کرلیا ہے اور انتہائی شرمناک انداز میں ہلسنکی میںکہی ہوئی اپنی باتوں سے مکر گئے ہیں جن میں انہوں نے 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کو بےبنیاد قرار دیا، ٹرمپ اس حوالے سے ہلسنکی میں ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اپنے منہ سے کہی باتوں کو نئی شکل اور مطلب دینے کی کوشش بھی کی۔

مثال کے طور پر ٹرمپ نے پیوٹن کے ساتھ ہونے والے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’’مجھے ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی جو امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کا موجب بنے‘‘ اب تنقید وصول کرنے کے بعد ٹرمپ نے اس جملے کو یوں بناڈالا ’’مجھے ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی کہ ہم روس کو امریکی انتخابات میں مداخلت کا ذمہ دار نہ ٹھہرائیں ‘‘، البتہ ٹرمپ کایہ اعتراف بہت دیر بعد سامنے آیا اور کوئی بھی خواہ وہ ان کے اپنی جماعت کا فرد ہی کیوں نہ ہو ٹرمپ کے نئے بیان سے مطمئن نہیں ۔

ٹرمپ کی اس ناکامی اور کمزوری کی وجوہات کی بات کی جائے تو وہ تین وجوہات پر منحصر ہے۔

۱۔ ٹرمپ ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جس کا نام باراک اوباما ہے، ٹرمپ کی پالیسی اوباما کی پالیسی کے عین برعکس ہے ، وہ روس کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں جبکہ اوباما روس کے ساتھ سختی سے پیش آتے تھے، اوباما سعودی عرب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے تھے جبکہ ٹرمپ نے اپنا پہلا غیر ملکی دورہ سعودی کا کیا، ٹرمپ پوری یونین کے ساتھ تعلقات کو بگاڑرہے ہیں جبکہ اوباما تعلقات کو مزید بہتر کرنے کو ترجیح دیتے تھے، ٹرمپ نے ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا جبکہ اوباما ایرانی معاہدے کے رکن اور حامی تھے۔

۲۔ ٹرمپ صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کو انتہائی مضبوط کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے انہوں نے بیت المقدس کو بطور اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا ،یہی نہیں بلکہ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتین یاہو کو گویا خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنا مشیراول بنادیا ہے ، ٹرمپ نتین یاہو کی ہر بات پر آمادگی کا اظہار کرتے ہیں جس میں ایران کے خلاف جنگ بھی شامل ہے ۔

۳۔ ٹرمپ ہر مسلم چیز یا شخص کے دشمن بن جاتے ہیں اور ہجرت یا پھر مہاجرین کے خلاف اعلان جنگ کردیتے ہیں کیونکہ اوباما کا تعلق ایک مہاجر خاندان سے تھا اور ان کے والد مسلمان تھے۔

پیوٹن ٹرمپ کو زیر کرنے میں کامیاب ہوئے اور ثابت کردیا کہ وہ ایک ماہر سیاسی کھلاڑی ہیں، جسے پتا ہے کہ وہ اپنے حریف کو کس طرح قابو کرسکتے ہیں پیوٹن کو سیاست میں اس گر کا پتا ہے کہ وہ اپنا ہدف اور مقصد حاصل کرنے کیلئے مد مقابل حریف کو کمترین فائدہ حاصل ہونے کس طرح دے ، امریکی اسٹیبلشمنٹ کو بھی پیوٹن کی اس حقیقت کا اداراک ہوگیا ہے تبھی تووہ ٹرمپ پر اس قدر آگ بگولا ہوچکی ہے۔

ٹرمپ نے شام میں روس کی بالادستی کا اعتراف کیا ہے، اور یہ بھی اقرار کیا ہے کہ جزیرہ کریمیا روس کا حصہ ہے یہی نہیں ، ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک لفظ بھی استعمال نہیں کیا اور ناہی شام میں ایرانی موجودگی کا ذکر کیا، مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ کاصرف یہی کہنا تھا کہ عراق اور شام میں داعش کی شکست سے ایران کو مستفید ہونے نہیں دیا جانا چاہیے پیوٹن کو اس سے زیادہ اور کیا چاہئے؟

یہ بھی دیکھیں

زمینی حقائق سے چشم پوشی کیوں؟

(حیدر جاوید سید)  اقلیتوں سے نامناسب برتاؤ اور مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کا الزام ...