جمعہ , 14 دسمبر 2018

دہشت گردی کی نئی لہر۔۔۔ داعش اور انڈیا شیروشکر

(چوہدری فرخ شہزاد)
پاکستان میں 2018 ء کے الیکشن کے موقع پر خون ریزی کے حالیہ واقعات میں شہداء کی تعداد 75 سے تجاوز کر چکی ہے جو کہ گزشتہ کئی انتخابات کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اے این پی کے امیدوار ہارون بلور کوئٹہ میں ساتھیوں سمیت ظلم کا شکار ہوئے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے سراج رئیسانی کو مستونگ کوئٹہ میں نشانہ بنایا گیا۔ جس دن ہمارا قومی میڈیا میاں نواز شریف کی وطن واپسی کی لمحہ بہ لمحہ کوریج میں مصروف تھا دہشت گردوں نے اپنے مکروہ پروگرام کو اس دن کے ساتھ منسلک کیا انہیں پتہ تھا کہ میڈیا کے لیے نواز شریف سے نظریں ہٹانا ممکن نہیں ہے۔ چاہے ملک کے دیگر حصوں میں جو مرضی ہوتا رہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ باوجود یہ کہ ن لیگ کی ریلیاں میڈیا کوریج کا حصہ نہ تھیں۔ پھر بھی اس کوریج میں بلوچستان سانحہ کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر تھا۔ حالیہ سالوں میں دسمبر 2014 ء کا اے پی ایس واقع ایک () کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس میں 152 افراد لقمہء بھل بنے تھے۔ بلوچستان واقع میں شہداء کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے کیونکہ بہت سے افراد اب بھی زخمی ہیں۔

بلوچستان میں جاری نیا متی جنگ پر غور کیا جائے تو وہاں اس وقت دو قسم کی سیاسی پارٹیاں ہیں ایک وہ ہیں جو پاکستان کی بات کرتی ہیں جن میں سراج رئیسانی کی پارٹی شامل ہے اور دوسری وہ پارٹیاں ہیں جو علیحدگی پسندوں کی کھلے عام حمایت کا اعلان کرتی ہیں جس میں محمود اچکزئی کو پختونخواہ ملی عوامی پارٹی ہے۔ سراج رئیسانی پاکستان کی بات کرتا تھا غداروں اور کرائے پر لڑنے والوں کی مذمت کرتا تھا۔ انڈین پیسے سے پاکستان میں تحزیب کاری کرنے والوں کو بے نقاب کرتا تھا اوریہی وہ وجوہات ہیں جو اس کی موت کا سبب بنی۔ وہ انڈین جھنڈے کے جوتے بان کر پاؤں میں پہنے ہوئے تھے جس کی تصاویر موجود ہیں۔ اس غیرت مند اور بہادر بلوچ نے ہمیشہ پاکستان آرمی کے اقدامات کی حمایت کی اور پاک فوج کے شانہ بشانہ ملک دشمنوں سے لڑنے کا عزم جاری رکھا۔ اطلاعات ہیں کہ افغانستان میں موجود داعش تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے یہ بات کوئی راز نہیں رہی کے افغانستان کی داعش کے انڈیا کے ساتھ گہرے رابطے ہیں اور سراج رئیسانی کو انڈیا کی مخالفت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان واقعات کا براہ راست گہرا تعلق افغانستان اور علاقائی صورت حال کے ساتھ ہے۔ اس وقت افغانستان میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا عمل چل رہا ہے۔ 17 سال میں پہلی بار طالبان نے عید الفطر پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ طالبان جو اس وقت ملک کے آدھے سے زیادہ حصے پر قابض ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم اشرف غنی کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے تو اس کے ساتھ مزاکرات کیسے کریں بلکہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم غیر ملکی حملہ آوروں (امریکہ) کے غلاموں سے بات نہیں کریں گے۔ طالبان کا یہ مطالبہ امریکہ نے مان لیا ہے اور طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا اعلان کر دیا ہے۔ جب سے یہ اعلان ہوا ہے اس پر انڈیا کو بہت تخفظات ہیں کیونکہ انڈیا گزشتہ ایک دہائی سے افغانستان کے حالات سے فائدہ اٹھا کر وہی صورت حال Insurgency بلوچستان میں پیدا کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انڈیا کو فکر یہ ہے کہ اگر افغانستان میں امن قائم ہو گیا تو اس کے نتیجے میں بلوچستان بھی پر امن ہو جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم ہو جایے گی جو ہو نہیں چاہتے انڈیا چاہتا ہے کہ پاکستان آرمی مغربی سرحدوں پر جنگ میں مصروف رہے تاکہ مشرقی بارڈر پر انڈیا کے لیے مسائل پیدا نہ کر سکے۔ جب انڈیا نے دیکھا کہ مذاکرات کا سلسلہ اب عملاً آگے بڑھنے کا راستہ صاف نظر آ رہا ہے تو اس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے یہ حملہ کروایا ہے مگر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور صدر اشرف غنی کو حملے کے بعد ملاقات کی وجہ سے معاملات کو سنبھال لیا گیا۔

انڈیا کو حال ہی میں ہونے والے دو اعلیٰ سطحی امریکی دوروں کے بعد افغانستان میں اپنے جاسوسی نیٹ ورک پر کی گئی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آ رہی ہے گزشتہ دنوں افغانستان اور ایشین امور کی امریکی سربراہ ایلیس ویل نے پاکستان کا دورہ کیا اور حکام کو مذاکرات میں اپنا رول ادا کرنے کو کہا، اس کے بعد امریکی سیکرٹری آف اسلہٹ مائیک پومیو نے افغانستان کا خفیہ دورہ کیا جس کی خبر ان کی افغانستان سے واپسی روانگی کے بعد جاری کی گئی۔ امریکہ کے افغانستان کے اعلیٰ سطحی سارے دورے خفیہ اس لیے ہوتے ہیں کہ کہیں طالبان حملہ نہ کر دیں۔ ان دو دوروں کے بعد سے انڈیا کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں اور وہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایسی فضاء پیدا کرنا چاہتا ہے کہ مذاکرات کے عمل کو سبو تاژ کیا جا سکے۔

مستونگ حملہ کے بعد قوم کے اندر جو اے پی ایس پشاور حملے والا ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا۔ البتہ سب سے پہلے آرمی چیف وہاں پہنچے اور انہوں نے رئیسانی بلور کو سولجر آف پاکستان قرار دیا ۔ ملک کی سیاسی قیادت اپنے اپنے جلسوں اور ریلیوں میں مصروف رہے اور واقعہ کے تین دن کے بعد سیاستدانوں نے رسماً جا کر تعزیت کی ۔ ان شہداء کی قربانیوں کا کمادقہ طور پر اعتراف نہ کرنا پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔

بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے افغانستان کا امن ناگزیر ضرورت ہے۔ اگر وہں پر طالبان سیاسی دھارے میں آ جاتے ہین تو یہ مستقبل میں وہاں اپنی حکومت قائم کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی عوام میں کافی مقبولیت ہے ، دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی طرح افغانستان کا سیاسی کلچر بھی electable کے لیے مددگار ہے جب طالبان فیصلہ کن سیاسی طاقت حاصل کر لیں گے تو مقامی سیاستدان اپنے مقاصد کے لیے ان کے ساتھ مل جائیں گے۔

لیکن ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی براہ راست مذاکرات کی دعوت پر طالبان کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے وہ یہ کہتے نظر آئے ہیں کہ امریکہ غیر مشروط طور پر وہاں سے انخلاء کر لے اس کے بعد ہم مذاکرات کریں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ نے وہاں سے غیر مشروط نکلنا ہو تو اس کے لیے مذاکرات کی کیا ضرورت ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جھزم ایئر پورٹ اور ایئر بیس کا علاقہ امریکہ کے لیے ایک ریاست کی حیثیت رکھتا ہے جسے وہ کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔ بلکہ یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ طالبان کے ساتھ صلح کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں سکون حاصل کر کے ایران کے بارے میں سوچ سکے اور ایران پر حملے کی صورت میں بگرام بیس کلیدی حیثیت رکھتا ہے جس طرح پاکستان پر ڈرون حملے افغانستان سے کیے جاتے ہیں اسی طرح ایران کو بھی افغانستان میں بیٹھ کر نشانہ بنایا جائے گا۔

Eric prince کا نام پاکستان میں بہت کم لوگ جانتے ہیں مگر جب اس کا نام آپ کو بتائیں تو اسے پاکستان نہیں بلکہ دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے بلیک واٹر سیکورٹی ایجنسی بنا کر امریکہ کی حکومت سے کروڑوں اربوں ڈالر لیے ہیں یہ اپنے تربیت یافتہ فائنڈ امریکی فوج کو کرائے پر دیتا ہے۔ یہ منظر عام پر اس لیے نہیں آتا کہ یہ شخص عراق افغانستان اور پاکستان میں لاکھوں بے گناہوں کا قاتل ہے۔ بلیک واٹر پر دنیا بھر میں تنقید کے بعد اس نے اپنی کمپنی کا نام اکیڈمی رکھ دیا ہے۔ Eric prince نے حال ہی میں امریکی حکومت کو افغانستان کے بارے میں مشورہ دیا ہے کہ وہاں آپ کے ریگولر فوج مہنگی بھی ہے اور نا کام بھی اس لیے افغان جنگ آپ مجھے ٹھیکے پر دے دیں ، پرنس کے الفاظ یہ ہیں کہ جنگ کو پرائیوٹائز کر دیا جائے تو امریکی حکومت کے اخراجات آدھے رہ جائیں گے ۔ اس سے پہلے پرنس نے ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کر کے کہنا تھا کہ میرے پاس ایسا پروگرام موجود ہے کہ 17 سالہ جنگ کے سارے اخراجات پورے ہو جائیں گے۔ اس کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بامیان اور دیگر علاقوں میں کاپر کے وسیع زخائر موجود ہیں جن کی مالیت ٹریلین ڈالرز میں ہے۔ پرنس کی باتوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ امریکہ افغانستان سے مکمل انخلاء کبھی نہیں چاہے گا۔

آنے والا وقت پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ افغانستان میں جب بھی امن مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے وہاں پر RAW حرکت میں آ جاتی ہے۔ اور ایسے واقعات ہو جاتے ہیں کہ یہ سارا پراسیس ڈیڈ لاک کا شکار ہو جاتا ہے۔ پاکستان کو سفارت اور جنگی محاذ پر مسقد رھنا ہو گا ۔ کیونکہ دونوں ملکوں کا امن ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ امریکہ نے دیکھ لیا ہے کہ پاکستان کو شامل کیے بغیر افغانستان میں قیام امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا ۔

یہ بھی دیکھیں

زمینی حقائق سے چشم پوشی کیوں؟

(حیدر جاوید سید)  اقلیتوں سے نامناسب برتاؤ اور مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کا الزام ...