بدھ , 15 اگست 2018

شاہ سلمان کی طبیعت ٹھیک نہیں ، مگر کیا اقتدار اپنے بیٹے کو دیں گے؟

(تسنیم خیالی)
سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی طبیعت کافی عرصے سے خراب چلی آرہی ہے اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، سبھی کو اس بات کا علم ہے کہ شاہ سلمان الزائمرکے دماغی مرض میں مبتلا ہیں جو کہ ’’خرف ‘‘ کی ایک عام شکل ہے یہ مرض انسان کو آہستہ آہستہ موت کے منہ کے طرف دھکیل دیتا ہے، شاہ سلمان کی صحت کے حوالے معروف امریکی ویب سائٹ ’’ٹاکٹیکل رپورٹ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ شاہ سلمان کی طبیعت بدسے بدتر ہوتی جارہی ہے، ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے آخر میں شاہ سلمان کا جدہ میں واقع ان کے محل میں طبی معاینہ کیا گیا جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں کم از کم دو ہفتے کےلئے آرام کا مشورہ دیا ہے ، ویب سائٹ کے مطابق طبی معائنے سے پتہ چلا ہے کہ شاہ سلمان کو اب سانس لینے میں دشواری اور جسم میں تھکاوٹ کاسامنا ہے اور مکہ مکرہ میں فریضہ حج ادا کرنے سے پہلے انہیں آرام کی اشد ضرورت ہے، شاہ سلمان نے اپنا طبی معائنہ کروانے کے بعد اپنی تمام مصروفیات ختم کردی ہیں جن میں خاندان کے متعدد افرا د کے ساتھ ملاقاتیں بھی شامل ہیں ، ان خبروں سے کے بعد ظاہر ہے کہ

سبھی یہی سوچ رہے ہونگے کہ کیا شاہ سلمان کا اپنے بیٹے اور ولی عہد محمد کے حق دستبردار ہونے کا وقت آن پہنچا ہے؟
اس حوالے سے امریکی ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ شاہ سلمان نے اپنے بیٹوں کے ساتھ ہونے والے ایک خصوصی اجلاس کے دوران اپنے بیٹوں سے کہا ہے کہ انہوں نے اب تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ ولی عہد محمدبن سلمان کے حق میں اقتدار سے کب دستبردار ہوںگے، ویب سائٹ کے مطابق اگرچہ شاہ سلمان نے اپنے بیٹے محمد کو فرمانروا بنانے کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کرلیے ہیں مگر ان کی نظر میں اس کی فی الوقت کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنے بیٹے کے حق سے دستبردار ہوجائیں، یہ بات تو طے ہے کہ شاہ سلمان کے بعد فرمانروا بن سلمان ہی ہوں گے (اگر وہ زندرہے کیونکہ ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں)، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا شاہ سلمان دستبردار ہوں گے یا اقتدار بن سلمان کو شاہ سلمان کی وفات کے بعد میں ملے گا؟

اس حوالے سے دونوں امکانات ہوسکتے ہیں یعنی شاہ سلمان ولی عہد کے حق میں دستبردار بھی ہوسکتے ہیں اور ولی عہد فرمانروا اپنے والد کے انتقال کے بعد بھی بن سکتے ہیں البتہ بن سلمان کےلیے بہتر آپشن یہ کہ شاہ سلمان ان کے حق میں دستبردار ہوجائیں کیونکہ حکمران خاندان میں بن سلمان کے مخالفین زیادہ ہیں اور وہ صرف اس لیے چپ ہیں کہ شاہ سلمان ابھی زندہ ہیں ، بن سلمان اس وقت جو کچھ کررہے ہیں مثال کے طور پر شہزادوں کی گرفتاری ، حکومت میں من مانی وہ سب اپنے والد کے بل بوتے پر کررہے ہیں اور جس دن شاہ سلمان دنیا سے رخصت ہوئے بن سلمان کا مشکل وقت شروع ہوجائےگا، اگر شاہ سلمان اپنے بیٹے کے حق میں دستبردار ہوتے ہیں تو اعتراض پر قابو پالیا جائےگا لیکن اگر شاہ سلمان اقتدار سے دستبردار ہوئے بغیر مرجاتے ہیں تو بن سلمان کا فرمانروا بننا آسان نہیں ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

یوم آزادی کاپیغام

(ڈاکٹر نذیر احمد صدیقی) 14اگست ایک تعبیر کا نام ہے جس کی دھندلی خواہش اس ...