بدھ , 19 دسمبر 2018

شام میں کون جیتا اور کون ہارا؟

(تسنیم خیالی)
شامی اپوزیشن (خواہ وہ سیاسی ہویا پھر مسلح) کا میڈیا اور اس کے ساتھ حامی ممالک کے میڈیا گروپس بھی کہتے پھرتے ہیں ایرانی اور روسی حمایت نے ہی شامی حکومت کو ختم ہونے سے بچایا، اس قسم کا میڈیا اسرائیلی اور امریکی ایجنڈوں پر عمل کرتا آرہا ہے اور یہی میڈیا ایک ایسے پروپیگنڈا کو ہوا دے رہا ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ ایران مقبوضہ فلسطین کی شمالی سرحد سے قریب ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے علاقے کو خطرات لاحق ہورہے ، یہ میڈیا اس بات سے واقف نہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ، اگر اسرائیل چیخ چیخ کر یہ کہتا ہے کہ ایرانی فوجی شام میں سرگرم ہیں تو یہ ایرانیوں کے مفاد میں ہے تاکہ ان کے خلاف کیونکہ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران عربوں کے برعکس مسئلہ فلسطین کو ترجیح سمجھتا ہے ۔

شامی حکومت کے حریف سیاستدان ، مسلح افراد اور دہشت گرد بڑھا چڑھا کر یہ کہہ رہے ہیں کہ ایرانی اور روس نے بڑے پیمانے پر شامی حکومت کا ساتھ دیا ، یہ لوگ اس بات کی مذمت کرتے ہیں کہ شامی حکومت نے ایران اور روس کی مدد لی جبکہ خود شام کو تباہ وبربادکرنے کیلئے ترکی ، سعودی عرب، قطر، امریکہ ، فرانس، اسرائیل، اردن اور ناجانے کس کس سے مدد لے رہے تھے، غیور شامی اس عالمی سازش کا بہادری سے مقابلہ کررہے تھے کہ پھر ایران اور روس شام کی مدد کی اور جنگ کا پانسا ہی پلٹ دیا، دہشت گرد ہارگئے اور حمایت کرنے والے ممالک پیچھے ہٹ گئے، تین سال قبل حالات آج سے بہت مختلف تھے ، دہشت گرد اور مسلح افراد شام کے بیشتر حصوں پر قابض تھے اور دمشق پر خطرات کے سائے منڈلاتے رہتے تھے۔

ساحلی شہروں کو خطرات لاحق ہوتے تھے، سرحدی راستے ان افراد کے زیر قبضہ تھے اور بہت سے عرب ممالک، ترکی اور مغربی ممالک میں شامی حکومت کے مخالفین کے لیڈرز موجود تھے، شام پر حد سے زائد دبائو تھا حتیٰ کہ سعودی عرب نے شامیوں کا حج بندکردیا اور عرب لیگ میں شام کی رکنیت منجمد کردی گئی، البتہ شامی افواج کے کی بہادری اور ایران اور روس کی حمایت اور مدد نے سب کچھ بدل دیا، آج شام کے بیشتر علاقوں کا شامی حکومت کنٹرول پھر سے حاصل کرلیاہے، درحقیقت شامی، ایرانی اور روسی اتحاد نے سعودی ، قطری، ترک ، امریکی ، اسرائیلی، فرانسیسی اور اردنی اتحاد کو شکست دی جو القاعدہ ، داعش اور النصرہ فرنٹ جیسی دہشت گرد تنظیموں کی مدد کررہے تھے۔

آج قطر اور سعودی عرب والے اپنی شکست تسلیم کرچکے ہیں ، امریکی اور فرانسیسی بشارالاسد اور شامی حکومت کو قبول کرنے پر مجبور ہیں جبکہ اسرائیل چپ چاپ موجودہ صورتحال کو ایک کڑوے گھونٹ کی طرح پی چکا ہے، اردنیوں کو باور ہوگیا ہے کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کی جبکہ ترک کردوں کے معاملے الجھ گیا ہے اور اسے اپنی قومی سلامتی کی فکر لاحق ہوگئی ہے اس طرح شامی ایرانی اور روسیوں نے اپنے مشن کو مکمل کامیابی سے ہمکنار کردیا ۔

یہ بھی دیکھیں

’’ریاست ِمدینہؔ جدِید، میں شہباز شریف ؔکا اعزاز؟

(اثر چوہان) معزز قارئین!۔ بعد از خرابی بسیار‘‘۔ وزیراعظم عمران خان اور اُن کی ہائی ...