بدھ , 15 اگست 2018

’’اپنے ووٹ کی طاقت کو محسوس کرو‘‘

کاوش: حسنین اشرف راجپوت (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ)

اسلامی فلاحی ریاست، ہمارے ملک میں اسلامی فلاحی ریاست کا نظام کہاں ہے، ہمارے ملک میں تو افسر شاہی ہے، ذات بات کا نظام ہے، اقتدار کی جنگ ہے، اسلامی فلاحی ریاست کا نظام تو اسوقت آئے گا جب آپ اپنے ووٹ کی طاقت کو محسوس کریں گے۔

یہ جو ووٹ ہے نا، یہ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے، کہ ڈبے میں ڈالا اور چل دیئے، یہ ووٹ تمہارے خاندان، تمہارے ملک کی تقدیر کا فیصلہ ہے، یہ تو دو دھاری تلوار جو دونوں طرف سے کاٹتی ہے، صحیح آدمی کو دیا گیا تو ملک خوشحال، اور غلط آدمی کو دیا تو ملک کا ستیاناس۔

ارے بھائیو اور بہنوں، میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں، ہم بازار میں چھوٹی سے چھوٹی چیز خریدنے جاتے ہیں تو اس کی پوری تحقیق کرتے ہیں، کوئی بھی معاملہ ہو اس کے فائدے اور نقصانات کا پورا پورا جائزہ لیتے ہیں ، لیکن جن حکمرانوں نے ہمارے لیے قوانین بنائے ہیں، ہم پر حکمرانی کرنی ہے، ہم کسی بھی ایرے غیرے، نتھو خیرے کو ووٹ ڈال کے آ جائیں گے؟ ذرا سا بھی نہیں سوچیں گے کہ یہ ہمارے لیے یا ہمارے ملک کے لیے کتنے فائدہ مند یا نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، یہ ووٹ تو صرف قابل اعتماد، ایماندار (صادق و آمین) شخص کو دینا چاہیے مگر ہم لوگ کیا کرتے ہیں؟ اپنا ووٹ بیچتے ہیں، ووٹ کی بلیک مارکیٹگ کرتے ہیں، جس نے زیادہ پیسے دیے، اسے دے دیا، ہم ووٹ ایسے بانٹتے ہیں جیسے سڑک پر ملتا ہے۔ کبھی کسی دوست کو دے دیا، کبھی اپنی ذات برادری والے کو دے دیا اور کبھی بیچ دیا۔

جو ووٹ بیچتا ہے وہ بھی کرپٹ ہے اور جو ووٹ خریدتا ہے وہ بھی کرپٹ ہے تو پھر ہم کس منہ سے ان حکمرانوں کو کرپٹ کہتے ہیں؟ اگر کرپٹ لوگ حکومت بنائیں گے تو کرپٹ حکومت تو بنے گی، تو پھر ہم کیوں نعرے لگاتے ہیں؟ گو نواز گو، گو زرداری گو، گو شہباز گو، گو فلاں گو؟ جس دن ہم ووٹ خریدنے والوں کو دھکا دیکر گھر سے باہر پھینک دیں گے، اس دن یہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، اب زرا ہماری اس وزراء کی فوج، ظفر موج کو ہی دیکھو ، ان کرپٹ وزراء کو کس نے بھیجا؟ ان کو ہم لوگوں نے ہی منتخب کر کے بھیجا، اب یہ کرپشن نہیں کریں گے تو کیا کریں گے؟ آج سے پانچ سال بعد جب ان کو الیکشن لڑنا پڑے گا تو یہ پیسہ کہاں سے لائیں گے؟ رشوت، سفارش کرپشن منی لانڈنگ اور قومی خزانے کی لوٹ مار سے!

پھر ہم الزامات لگاتے ہیں کہ فلاں 300 ارب کھا گیا، فلاں اتنے ارب کھا گیا، فلاں نے اتنے ارب باہر بھیج دیئے، فلاں نے پوری دنیا میں اتنے ارب کی جائیداد خرید لی اور پوری دنیا میں کاروبار کا جال پھیلا دیا، آپ اندازہ کریں اگر ایک حکمران جماعت اپنے ڈھائی سالہ یا پانچ سالہ دور اقتدار میں اربوں کی کرپشن کر سکتی ہے، تو قیام پاکستان سے لیکر آج تک قومی خزانے کو کتنے اربوں، کھربوں روپے کا ٹیکہ لگ چکا ہو گا؟ ذرا سوچئے، غور سے سوچئے اور بار بار سوچئے؟ کیا حساب لگا سکتے ہیں آپ؟ اگر ہم ایک حکومت کی کرپشن کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے تو تمام حکومتوں کی کرپشن کا اندازہ کس طرح لگا سکتے ہیں؟

ہم کس طرح ان کی کرپشن کا حساب لے سکتے ہیں؟ کیوں کہ اب ان کو اچھی طرح پتہ چل چکا ہے کہ روپیہ کمانے کا طریقہ کونسے راستے سے ہوتا ہے، کرپشن کا پیسہ کس طریقے سے کمایا جاتا ہے؟ یہ ان کرپٹ حکمرانوں کو پتہ چل چکا ہے۔

ہم لوگ کہتے ہیں کہ یہ حکمران کرپٹ ہیں، یہ کرپشن کے بادشاہ ہیں، یہ گاڈ فادر ہیں، یہ سیسیلین مافیا ہیں، لیکن وہ کیا ہیں؟ وہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں، جس طرح سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ ’’اگر میرے اثاثے میری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے تو تمہیں اس سے کیا‘‘

ہم عوام ملکر کرپشن کے خلاف جلوس نکالتے اور دھرنے دیتے ہیں، سڑکوں پر پولیس اور گلو بٹوں کی زیادتیوں کا شکار ہوتے ہیں پھر بھی ہمارے ممبران اسمبلی اور سابق وزراء ان کرپٹ حکمرانوں کے خلاف زبان نہیں کھولیں گے، کیونکہ یہ کرپٹ حکمران ان تمام کرپٹ وزراء کا کچا چٹھا کھول دیں گے کیونکہ یہ سب اس کرپشن میں شریک جرم ہیں، اس لیے تو یہ جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنے والا تمام کرپٹ ٹولہ اپنے کرپٹ لیڈران کو اپناتا تاحیات لیڈر مانتا ہے اور بار بار انہیں کرپٹ لیڈروں کو اپنا وزیر، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں (کیا جمہوریت اسی کا نام ہے؟)

لیکن یہ کرپشن کا پیسہ جاتا کہاں ہے؟ کیا یہ پیسہ کرپٹ حکمران نگل جاتے ہیں؟ نہیں، وہ اس پیسے سے بڑے بڑے کاروبار کرتے ہیں، جائیدادیں خریدتے ہیں اور پھر ہمارے ہی پیسے سے ہماری مجبوریاں خریدتے ہیں، ہمیں دھتکارتے ہیں، ہم اپنی مجبوریاں بیچنے کیلئے اپنا ووٹ لے کر ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے ہیں؟ ایسے میں ایماندار لیڈر کہاں سے آئیں گے؟

ایماندار، اہل اور نیک لوگوں کے پاس حرام کی کمائی نہیں ہوتی کہ وہ غریب کی مجبوری خرید سکے اور اس کی مجبوری کا فائدہ اُٹھائے اور اس کا استحصال کرے اور نہ ہی یہ مجبور عوام نیک لوگوں کو ووٹ دیکر اپنی مجبوری بیچنے پر تیار ہوتے ہیں۔ جو بھی میٹھی میٹھی باتیں کرتا ہے سبز باغ دکھاتا ہے، ہم اسی کے پیچھے چل پڑتے ہیں اس کے جھوٹے وعدوں پر تالیاں بجانا شروع کرتے ہیں؟ سن کر خوش ہو جاتے ہیں؟ کبھی ہم نے ان سے پوچھا کہ غریب عوام کا پیسہ کہا ں لے گئے ہو؟ کہاں چھپا کے رکھا ہے؟ یہ تالیاں بجانے کا وقت نہیں ہے، ہمارے اسی سیدھے پن کا یہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور پھر بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ’’الحمداللہ یہ اپارٹمنٹس ہمارے ہیں‘‘ اور ’’اگر میرے اثاثے میری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے تو تمہیں اس سے کیا‘‘۔

پھر ہم کہتے ہیں کہ یہ لوگ بے ایمان ہیں رشوت خور ہیں، دھوکے باز ہیں، گاڈ فادر، سیسلین مافیا‘‘ کرپشن کے بادشاہ، مسٹر ٹین پرسنٹ اور نہ جانے کیا کیا۔

اگر ہم لوگوں کے پاس انہیں کرسی پر بٹھانے کا حق ہے، تو ان لوگوں کو کھینچ کر، گھسیٹ کر کرسی سے نیچے پھینکنے کا حق بھی ہونا چاہئے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب کا پاکستان کی جانب جھکاؤ ریاض کی بقا کا معاملہ ہے؟؟

(تحریر: ابوفجر لاہوری) لیجیئے صاحب! ریاض نے پھر اسلام آباد کا رخ کر لیا ہے۔ ...