جمعہ , 19 جولائی 2019

ادلب کی آزادی اگلا ہدف ہے :شامی صدر بشارالاسد

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک)گولان کی بلندیوں پر واقع شام کے اہم علاقے قنیطرہ کی مکمل آزادی کے بعد اب مسلح افواج اور مقاومتی فورسز اگلے اہم ہدف ادلب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ صوبہ ادلب دہشت گردوں کے کنٹرول میں ہے اور اب اگلا ہدف یہی صوبہ ہے۔ شام کی افواج اس صوبہ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کریں گی۔ بشار الاسد نے کہا ایسے تمام وائیٹ ھیلمٹ دہشت گرد جو اپنا اسلحہ سرکاری افواج کے حوالے نہیں کریں گے ان کو ختم کر دیا جائے گا۔ واضح رہے وائیٹ ھیلمٹس دہشت گرد گروپ 2013ء میں برطانیہ کی خفیہ ایجنسی MI6 کے ذریعے شام میں تشکیل پایا تھا۔ اس گروپ کے ظاہری کام انسانی حقوق کے حوالے سے اور عام عوام کی مدد کرنا ہے لیکن حقیقت میں یہ شام کی مرکزی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر نفسیاتی جنگ کے ذمہ دار ہیں۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا کے مطابق شام کی مسلح افواج گذشتہ روز سرحدی علاقے قنیطرہ میں داخل ہو گئی ہیں اور دوار العلم نامی شہر کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ فوج کی انجینئر کور قنیطرہ اور اطراف کے علاقوں میں لگائے گئی مائنز اور بمب وغیرہ کو صاف کرنے کا کام انجام دے رہی ہے۔ شام کے کنٹرول میں آنے والے قنیطرہ کے صحرائی ہسپتال میں جہاں دہشت گردوں کا علاج معالجہ کیا جاتا تھا وہاں بڑے پیمانے پر صیہونی حکومت کی طرف سے بھیجے گئے میڈیکل کا ساز و سامان اور ادویات موجود ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران نےامریکا کیساتھ بات چیت کا امکان مسترد کردیا

اقوام متحدہ میں ایرانی ترجمان علی رضا میر یوسفی کا کہنا ہے کہ  امریکا کیساتھ …