منگل , 11 دسمبر 2018

عمران خان کی زندگی کی مختصر داستان


عمران خان نیازی پاکستانی سیاست دان اور سابق کرکٹ کھلاڑی ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان، شوکت خانم میموریل ہسپتال کے بانی اور تحریک انصاف کے سربراہ بھی ہیں۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے 1971ء سے 1992ء تک کھیلتے رہے۔

تاریخ پیدائش:5 اکتوبر 1952 (66 سال)
جائے پیدائش :لاہور
والد : اکرام اللہ خان نیازی
والدہ: شوکت خانم صاحبہ
زوجہ: جمائما گولڈ سمتھ ( – 1995–2004)
ریحام خان: (2015 – 2015)
بشریٰ وٹو: (18 فروری 2018)
بچوں کی تعداد: 2 ( قاسم اور سلیمان پھلی بیوی جمائما سے)
مادر علمی: کیبل کالج، ایچی سن کالج، رائل گرائمر اسکول ووسٹر

ابتدائی زندگی و تعلیم:
عمران کی پیدائش 25 نومبر، 1952ء کو لاہور پاکستان میں ہوئی۔ وہ پشتونوں کے مشہور نیازی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کی والدہ شوکت خانم صاحبہ زیادہ تر میانوالی میں سکونت پزیر رہیں۔ وہ اکرام اللہ خان نیازی کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ عمران خان نے ابتدائی تعلیم لاہور میں کیتھیڈرل اسکول اور ایچیسن کالج، لاہور سے حاصل کی، اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ وہاں رائل گرائمر اسکول میں تعلیم حاصل کی اور پھر اوکسفرڈ یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ وہ 1974ء میں اوکسفرڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔

کرکٹ
عمران خان نے کرکٹ کی دنیا میں بھی اپنا ایک اعلیٰ مقام بنایا اور بین الاقوامی سطح پر اس وقت وہ سیاست کی بجائے کرکٹ کے حوالے سے زیادہ متعارف کرائے جاتے ہیں۔ انہیں کی قیادت میں پاکستان نے 1992ء میں عالمی کرکٹ کپ جیتا تھا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 1969ء – 1970ء میں لاہور کی طرف سے سرگودھا کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا۔ 1971ء میں انگلستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔

کرکٹ ریکارڈز:

ٹیسٹ ریکارڈ:
انہوں نے 88 ٹیسٹ میچ کھیل کر 362 وکٹیں 22.81 کی اوسط سے حاصل کیں۔ 1981ء-1982ء میں لاہور میں سری لنکا کے 8 کھلاڑی صرف 58 رنز دے کر آؤٹ کیے۔ اور 23 مرتبہ ایک اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 63.69 کی اوسط سے 3807 رنز بنائے جن میں 5 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور ایڈی لینڈ میں 1991ء میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے 132 رنز رہا۔ ان کا شمار پاکستان کرکٹ کے کامیاب ترین کپتانوں میں ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ پاکستان کے پہلے کپتان تھے جن کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے بھارت کو بھارت اور انگلستان کو انگلش سرزمیں پر ہرایا۔ بطور کپتان انہوں نے 48 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے 14 جیتے اور 8 ہارے اور 26 برابر یا بغیر کسی نتیجے سے ختم ہوئے۔

ون ڈے ریکارڈ:
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 1992ء میں ان کی قیادت میں کھیلتے ہوئے پانچواں کرکٹ عالمی کپ جیتا۔ یہ اعزاز ابھی تک پاکستان صرف ایک دفعہ ہی حاصل کر سکا ہے۔ انھوں نے 175 ایک روزہ میچوں میں حصہ لیا۔ اور 182 وکٹیں حاصل کیں۔ 3709 رنز 33.41 کی اوسط سے بنائے۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 102 ناٹ آؤٹ تھا جو انھوں نے سری لنکا کے خلاف 1983ء میں کھیلتے ہوئے بنائے۔ ان کی قیادت میں 139 ایک روزہ میچ کھیلے گئے جن میں سے 77 جیتے 57 ہارے، چار بے نتیجہ رہے جبکہ 1 میچ برابر رہا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 5 عالمی کرکٹ کپ میں حصہ لیا جو 1975ء، 1979ء، 1983ء، 1987ء اور 1992ء میں منعقد ہوئے۔

ازدواجی زندگی:
عمران خان کو اپنی ازدواجی زندگی میں کافی اتار چڑھاؤ کا سامنا رہا ہے ، وہ اب تک تین مرتبہ شادی کر چکے ہیں۔

جمائما خان سے شادی:
1995ء میں عمران خان نے برطانوی ارب پتی یہودی تاجر سر جیمز گولڈ سمتھ کی بیٹی، جمائما گولڈ سمتھ سے شادی کی۔ جمائما گولڈ سمتھ نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلامی نام جمائما خان ہے۔ اس شادی کی شہرت پوری دنیا میں ہوئی اور عالمی میڈیا نے اس کو خصوصی اہمیت دی۔ 22 جون، 2004ء کو انہوں نے طلاق کا اعلان کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے انہیں وقت نہیں دے پاتے تھے۔ جمائما سے عمران خان کے دو بیٹے ہیں قاسم اور سلیمان۔

ریحام خان سے شادی:
8 جنوری، 2015ء کو عمران خان برطانوی و پاکستانی صحافی ریحام خان کے ساتھ رشتہِ ازدواج میں بندھ گئے۔ 30 اکتوبر، 2015ء کو دونوں نے طلاق کی کارروائی شروع کرنے کی تصدیق کر دی۔

بشری مانیکا سے شادی:
2017ء کے اواخر اور 2018ء کے آغاز میں کئی خبریں آئیں کہ عمران خان نے اپنی روحانی پیشوا بشری وٹو سے شادی کر لی ہے۔ تاہم عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر افراد اور مانیکا خاندان نے اس افواہ کی نفی کی۔ 7 جنوری 2018ء کو پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹریٹ نے ایک بیان جاری کیا کہ عمران خان نے بشری مانیکا کو شادی کے لیے پیغام دیا ہے تاہم ابھی اسے قبول نہیں کیا گیا۔ 18 فروری 2018ء کو، پی ٹی آئی نے تصدیق کی کہ عمران خان نے بشری سے شادی کر لی ہے۔

سماجی کام:
شوکت خانم میموریل اسپتال
عمران خان نےعالمی کرکٹ کپ منعقدہ 1992ء کے بعد بین الااقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس کے بعد سماجی کاموں میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کے لیے لاہور میں ایشیا کا سب سے بڑا اسپتال شوکت خانم میموریل اسپتال ایک ٹرسٹ کے ذریعے قائم کیا۔ عمران خان پاکستانی عوام کو اس اسپتال کا بانی قرار دیتے ہیں۔

قومی اور بین الااقوامی ایواڈز
انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے صدراتی ایوارڈ دیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں 1992ء میں انسانی حقوق کا ایشیا ایوارڈ اور ہلال امتیاز (1992ء) میں عطا ہوئے۔ عمران خان بریڈفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ (University of Bradford) کے چانسلر کے طور پر 2005ء تا 2014ء خدمات انجام دے چکے ہیں۔

سیاسی زندگی

25 اپریل، 1996ء کو تحریک انصاف قائم کر کے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ ابتدائی طور پر انہیں کامیابی نہ مل سکی۔ البتہ آہستہ آہستہ وہ اپنی جدوجہد اور اصول پرستی کی بدولت پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کرتے گئے، آخری چند سالوں میں اس مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

1997ء میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں عمران خان قومی اسمبلی کی صرف ایک نشت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔ 3 نومبر، 2007ء کو فوجی آمر پرویز مشرف کے "ہنگامی حالت” کے اعلان کے بعد آپ کو نظربند کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہ پولیس کو جُل دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ 14 نومبر کو پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔ انتظامیہ کے مطابق ان پر "دہشت گردی” قانون کے تحت مقدمہ بنایا جائے گا۔ عمران نے کہا ہے کہ ان کی زندگی اور کراچی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ برطانوی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے یہ لوگ شیر ہو کر تشدد کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ عمران خان متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے قائد الطاف حسین کے خلاف الزامات تو لگاتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ الطاف حسین کے خلاف ثبوت لیکر لندن جائیں گے۔ وہ گئے بھی لیکن اپنے الزامات کو کسی عدالت میں کبھی ثابت نہ کر سکے۔ دنیا بھر کی اخبارات نے عمران کی فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف جدوجہد کو سراہا ہے۔ 18 نومبر کو عمران خان نے ڈیرہ غازی خان جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی۔22 نومبر کو انہیں اچانک رہا کر دیا گیا۔

عمران خان نے 2008ء میں منعقد ہونے والے عام اتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔2013ء کے عام انتخابات میں عمران خان اور انکی سیاسی جماعت تحریک انصاف نے پاکستان پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 32، ایوان بالا میں 7، صوبائی اسمبلی سندھ
میں 4، صوبائی اسمبلی پنجاب میں 30 اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں 59 نشستیں حاصل کی۔ عمران کے بقول 2013ء کے انتخابات میں پاکستان کی تاریخ میں بدترین دھاندلی ہوئی اور بطور احتجاج انہوں نے پارٹی ممبران اور کارکنوں سمیت پارلیمنٹ کے سامنے 126 دن تک دہرنا دیا۔

2018ء کے عام انتخابات میں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف قومی اسمبلی کی 116، پنجاب اسمبلی کی 123، سندھ اسمبلی کی 23، خیبر پختونخوا اسمبلی کی 66 اور بلوچستان اسمبلی کی 4 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جس کے بعد تحریک انصاف نے مرکز، پنجاب اورخیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کا اعلان کیا جبکہ بلوچستان میں حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

فلم
عمران خان کی جدو جہد پر 2013ء میں ایک فلم کپتان ریلیز ہوئی، جس میں عمران خان کے 1992ء سے لے کر 2013ء تک کے عوامی تبدیلی تک کے ادوار کو دکھایا گیا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے واضح کیا گیا کہ مذکورہ فلم کی سرمایہ کاری و پیشکش کا عمران خان اور اس کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایک قطعی غیر وابستہ منصوبہ ہے جو فلم اور میڈيا سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے بنائی گئی ہے۔

انتخابی مہم میں زخمی
انتخابات سے صرف چار دن قبل 7 مئی 2013ء کو ایک فورک لفٹ سے گرنے کے بعد عمران خان کو لاہور میں شوکت خانم ہسپتال لے جایا گیا۔ طبی معائنے کے بعد بتایا گیا کہ عمران خان بخریت ہیں کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ اس سانحے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے منسوخ کر دیے گئے۔

خود نوشت
عمران خان نے اپنی زندگی پر دو کتابیں لکھیں:
Warrior Race : A Journey Through The Land Of The Tribal Pathans
پاکستان: اےپرسنل ہسٹری

یہ بھی دیکھیں

ہم وفاقی حکومت سے بالکل خوش نہیں، سپریم کورٹ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے جج جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے کہ ہم ...