جمعرات , 18 اکتوبر 2018

اسرائیلی ’تعصب‘ سے متعلق ’الاسکوا‘ کی رپورٹ جاری!

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سماجی واقتصادی کونسل ’الاسکوا‘ کی جانب سے گذشتہ برس اسرائیلی ریاست کے نسلی امتیاز سے متعلق جاری کی گئی رپورٹ کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ’الاسکوا‘ کی ایک سال پیشتر’فلسطینی قوم کے خلاف اسرائیلی اقدامات اور نسلی امتیاز کا معاملہ‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے نسل پرستانہ جرائم، اپارتھائیڈ اور امتیازی برتاؤ کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

’الاسکوا‘ کی طرف سےیہ رپورٹ مارچ 2017ء کو جاری کی گئی تھی جسے بعد ازاں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے کہنے اور صہیونی لابی کے دباؤ پر واپس لے لیا گیا تھا۔اب اس رپورٹ کا عربی میں متن انسانی حقوق کی تنظیم’یورو مڈل ایسزٹ‘ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق گروپ کے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے سابق رابطہ کار رچرڈ فولک اور ان کے معاون پروفیسر ورجینیا ٹیلی کی زیرگرانی تیار کردہ رپورٹ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے نسلی امتیاز پرمبنی جرائم کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان دائمی امن کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک نسل پرستی کے ڈھانچے کو ختم نہیں کردیا جاتا۔ مزید یہ کہ اسرائیل کا نسل پرستانہ پالیسی بری طرح ناکامی سے دوچار ہوگی۔

رچرڈ فولک اور ٹیلی کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے نسل پرستانہ جرائم کے ان گنت ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اور انہی شواہد کی روشنی میں یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے مندوبین اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم منظم پالیسی کا حصہ ہیں اور اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بین الاقوامی قوانین کی پامالیوں کا مرتکب ہونے کے ساتھ اپارتھائیڈ اور نوآبادیاتی نظام پر عمل پیرا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے اسرائیلی جرائم پر اس کے نسل پرستانہ اقدامات کا مواخذہ ضروری ہے۔

رچرڈ فولک اور ٹیلی نے فسلطینیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی اسرائیلی پالیسی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ صہیونیوں کو تکلیف اس بات پر ہوئی کہ ’الاسکو‘ کی رپورٹ میں ’اپارتھائیڈ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ اس پر صہیونی ریاست اور اسرائیلی لابی نےاقوام متحدہ پر دباؤ ڈالا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں جس کے بعد انہوں نے رپورٹ واپس لینے کا حکم صادر کردیا۔

’الاسکوا‘ کی طرف سے تیار کی گئی رپورٹ واپس لینے سے قبل معلوم ہوا کہ تنظیم کے قیام کے 45 سالہ عرصے میں یہ واحد رپورٹ ہے جس میں صہیونی ریاست پر کلی طورپر فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز پر مورد الزام ٹھہرایا گیا۔

’یورو مڈل ایسٹ‘ کی خاتون ترجمان سارہ بریٹشٹ کا کہنا ہے کہ ’الاسکوا‘ کی رپورٹ اپنے زمانی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں منظرعام پر لائی گئی ہے جب دوسری جانب صہیونی ریاست فلسطینیوں کے وجود اور ان کے حق خود ارادیت سے انکار کے واضح اور خطرناک حربوں کا استعمال کررہا ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] نے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی جس میں اسرائیل کو یہودیوں کا قومی ملک قراردیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورو مڈل ایسٹ نے ’الاسکوا‘ کی انگریزی رپورٹ کا اردو میں پیشہ وارانہ انداز میں ترجمہ کیا ہے۔ اس سے قبل یہ رپورٹ الاسکوا کی ویب سائیٹ پر بھی شائع کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے عربی زبان میں ترجمہ کا مقصد عرب دنیا کے مبصرین، محقیقین، دانشوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں ، عرب اور فلسطینی قوم تک اس کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔

ایک سال قبل ’الاسکوا‘ کی چیئرپرسن ریما خلف نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے انہیں ہدایت کی ہے کہ اسرائیلی نسلی امتیاز بارے رپورٹ وہاں سے ہٹا دیں۔ انہوں نے رپورٹ تو ہٹا دی مگر ساتھ ہی بہ طور احتجاج اس پر استعفیٰ بھی دے دیا۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

ہم سے ایسا کیا گناہ ہو گیا؟

(وسعت اللہ خان)  نواز شریف دیوانہ وار حامیوں کے جلو میں ووٹ دینے پولنگ اسٹیشن ...