جمعرات , 18 اکتوبر 2018

چین نے نیا تیز ترین سپر کمپیوٹر ’سن وے‘ لانچ کردیا

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے نیا تیز ترین سپر کمپیوٹر سن وے لانچ کردیا ہے، سپر کمپیوٹر سائنس اور طب کی تحقیق میں مددگار ثابت ہوگا۔سائنس دانوں کے مطابق یہ کمپیوٹر ایک سیکنڈ میں کوانٹیلن کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، چین اس سے پہلے بھی دو سپر کمپیوٹرز مارکیٹ میں پیش کرچکا ہے۔جرمنی میں منعقدہ ایس سی 16 کانفرنس میں ٹاپ 500 کمپیوٹرز کی فہرست کا اعلان کیا گیا، جس میں ایک بار پھر چین کے سپر کمپیوٹر نے پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ٹاپ کمپیوٹرز کی فہرست میں،

جرمنی 26 سسٹمز کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر موجود ہے جبکہ فرانس 18 سسٹم اور برطانیہ 12 سسٹم کے ساتھ فہرست میں موجود ہے۔چینی سائنس دان دو ہزار بیس تک اسکا ڈیو لائٹ کے نام سے حتمی سپر کمپیوٹر پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔سینکڑوں ملین ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے اس سپر کمپیوٹر کو ڈیزائن کرنے والے سینکڑوں انجینئرز کو طویل عرصہ لگا اور پھر ہی یہ سپر کمپیوٹر سینکڑوں ریفریجریٹرز جتنے بڑے کیبنٹس میں سمایا ہے۔سپر کمپیوٹر سن وے میں تمام سسٹم کو ٹھنڈا رکھنے،

کے لیے بھی جدید نظام نصب کیا گیا ہے اور اس میں پاور سپلائی سسٹم بھی موجود ہے۔واضح رہے کہ دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹرز کی لسٹ مرتب کرنے والے ادارے کی جانب سے جاری کی گئی 48ویں سالانہ فہرست میں تیہو لائٹ پہلی پوزیشن پر موجود ہے۔

یہ بھی دیکھیں

فیس بک میسنجر میں ان سینڈ فیچر کی آزمائش

سان فرانسیسکو (مانیترنگ ڈیسک) دنیا کی سب سے بڑی ویب سائیٹ فیس بک نے رواں ...