جمعرات , 18 اکتوبر 2018

احتساب عدالت: نواز شریف اور واجد ضیا کو پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو 13 اگست کو طلب کرلیا۔نواز شریف کی جانب سے کیس کی دوسری عدالت میں منتقلی کی درخواست منظور ہونے کے بعد احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے عدالت نمبر 2 میں العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل شروع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا کی معطلی کی درخواستوں پر سماعت ہوگی، تاہم استغاثہ کے گواہ واجد ضیا پر جرح آئندہ جمعہ کو رکھ لی جائے۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اگر استغاثہ اس دوران فلیگ شپ ریفرنس میں واجد ضیا کا بیان قلمبند کرانا چاہے تو کرا سکتا ہے۔

جج ارشد ملک نے ریمارکس دیے کہ ریفرنسز کی سماعت 13 اگست کو رکھ لیتے ہیں اور اس کے بعد استغاثہ کے گواہ سے جرح بھی ہوجائے گی۔خواجہ حارث نے تجویز پیش کی کہ بہتر ہوگا کہ استغاثہ فلیگ شپ میں پہلے واجد ضیا کا بیان ریکارڈ کروالے اور سماعت کے دوران کوئی معاون وکیل پیش ہوجائے گا۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’ہائی کورٹ میں ہم نے بھی پیش ہونا ہوتا ہے، پہلے ایک کیس میں واجد ضیا پر جرح مکمل کی جائے، پھر دوسرے میں بیان شروع کیا جائے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ واجد ضیا ان ریفرنسز میں اہم گواہ ہیں تاہم انہیں بھی ذہنی سکون چاہیے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کیس کی سماعت 13 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے نواز شریف اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا کو بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ 7 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے زیر سماعت العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی دوسری عدالت میں منتقلی کے لیے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست منظور کرلی تھی۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس پر فیصلہ سنانے کے بعد زیر سماعت دیگر 2 ریفرنسز کو دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست کی تھی جس کو احتساب عدالت نے مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کو کہا تھا۔

بعدِ ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کے خلاف دائر ریفرنسز کی سماعت دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی منظوری دے دی تھی جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ریفرنسز کی مزید سماعت نہیں کرسکیں گے۔خیال رہے کہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ہی سزا سنائی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

سپریم کورٹ: تھرکول منصوبے کا فارنزک آڈٹ کا حکم

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے تھرکول منصوبے میں گیسی فکیشن سے بجلی پیدا ...