جمعرات , 18 اکتوبر 2018

اسلامی محاذ مزاحمت سرزمین شام ہی کیوں؟

اس وقت جب شام میں امریکی صہیونی دھشتگردوں کو ہمیشہ کے لیے شکست ہو چکی ہے اور امریکہ اسرائیل اور سعودی عرب کے تمام مقاصد پر شام میں پانی پھر چکا ہے ایسے میں عالمی سامراج کے زیر پروردہ ذھنیتوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ سرزمین شام کو ہی کیوں محاذ مزاحمت نے اپنا اڈہ بنا لیا ہے؟ بالفاظ دیگر ایران اور حزب اللہ شام کی کیوں حمایت کر رہے ہیں جبکہ شام میں ایک بادشاہی نظام حکومت ہے، اسے بدلنا چاہیے اور وہاں جمہوریت نافذ ہونا چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شام کے ملک، قوم اور حکومت کو لبنان اور فلسطین میں محاذ مزاحمت کی زبردست حمایت کے بدلے سامراجی طاقتوں کے غیظ و غضب کا نشانہ بننا پڑا ہے اور شاید سامراجی طاقتیں، یہودی ریاست اور علاقے میں استعمار کے کٹھ پتلی شام سے اسلامی جمہوریہ ایران کی بےلوث حمایت کا بھی بدلہ لینا چاہتے تھے؛ اور بہرحال شام فلسطین میں مغربی استکباری مورچے کے محاذ مزاحمت کا اگلا مورچہ ہے اور محاذ مزاحمت کے فلسفے کا تقاضا ہے کہ اس حکومت اور اس ملک کا دفاع کیا جائے۔

جس طرح کہ مزاحمت کے دو “دینی اور تزویری” پہلو ہیں، شام میں مزاحمت کے بھی دو پہلو ہیں اور ایک اسلامی ملک، اس میں موجود مقامات مقدسہ، اس کی سرزمینی سالمیت اور جغرافیائی اعتقادی سرحدوں کا تحفظ دینی لحاظ سے بھی واجب ہے اور تزویری لحاظ سے بھی “غیور، فعال، سیاسی اور با استقامت اسلام نیز اسلامی مزاحمت کی بقاء کا تحفظ اور اسلام کی قلمرو میں کفر کی پیشقدمی روکنا” واجب اور ضروری ہے۔

حکومت شام کی درخواست
قانونی لحاظ سے، صرف وہ ممالک کسی ملک میں بحران کی کیفیت ظاہر ہونے کی صورت میں مداخلت کرسکتے ہیں جنہیں اس ملک کی قانونی حکومت نے ایسا کرنے کی دعوت دی ہو اور اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی مزاحمت محاذ شام کی قانونی اور آئینی حکومت کی درخواست پر اس سرزمین شام میں حاضر ہوا اور اس کو استکبار کے حلق سے کھینچ کر محفوظ بنایا اور اس کے استقلال اور سالمیت کو تحفظ دیا۔ اور ۱۰ سالہ، ۵۰ سالہ اور ۱۰۰ سالہ منصوبوں کے خاکہ کشوں کو ۲۰۰۶ع‍کی ۳۳ روزہ جنگ کے بعد، ایک بار پھر اپنے منصوبہ بندیوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا؛ اور اب وہ مسائل کی فروعات پر بحث و مباحثے کررہے ہیں اور شام کے سیاسی نظام کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرچکے ہیں۔

شام میں محاذ مزاحمت کی موجودگی، بنی سعود، قطر، ترکی، امارات، امریکہ، فرانس نیز القاعدہ، النصرہ، داعش اور درجنوں چھوٹے بڑے دہشت گرد ٹولوں کی طرح ناجائز اور غیر قانونی نہیں ہے کیونکہ یہ ممالک اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کے لئے شام کی سرزمین پر آموجود ہوئے ہیں اور یہ دہشت گرد ٹولے ان ہی ممالک کے حمایت یافتہ ہیں اور ان ہی کے لئے خون خرابے میں مصروف ہیں جبکہ محاذ مزاحمت حکومت شام کی دعوت پر یہاں کے عوام اور سرزمین کی حفاظت کے لئے کردار ادا کررہا ہے۔

دوستی اور دفاع مظلوم کے تقاضے
جیسا کہ بیان ہوا، جس وقت اسلامی جمہوریہ ایران بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر بالکل تنہا تھا، اس کے پاس طاقتور فوج نہیں تھی، اور کوئی اس کو ہتھیار نہیں بیچ رہا تھا اور تمام عرب ممالک صدام کی پشت پر کھڑے تھے، شام اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑا ہوا گوکہ ان دنوں لیبیا، الجزائر اور جنوبی یمن نے بھی ایران کے ساتھ دشمنی نہیں کی۔ عرب جمہوریہ شام کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کی ہمہ جہت حمایت کی وجہ سے صدام کی قیادت میں قائم عرب محاذ میں دراڑ پڑ گئی، جو ان دنوں اسلامی جمہوریہ کی ضرورت تھی۔

اس وقت کے شامی صدر حافظ الاسد نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ “اگر کبھی شام پر برا وقت آیا تو ایران سے مدد مانگ لو، اور ایران وہ واحد ملک ہے جو شام کی مدد کو آئے گا”؛ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ جس وقت شام ایران کو امداد فراہم کررہا تھا، اسے یہ بھی توقع تھی کہ ایران دوستی کے تقاضوں کو پورا کرے گا، گوکہ ایران ان ہی ایام میں بھی جولان کی طرف سے یہودی ریاست کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے شامی افواج کی مدد کررہا تھا اور جاننے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں؛ یا یوں کہئے کہ اسلامی جمہوری نظام، دنیا بھر کے اسلامی ترین اور اخلاقی ترین نظام کے طور پر کبھی بھی اپنے فرائض کی انجام دہی سے غافل نہيں رہا اور اسے یقین راسخ ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ اور نہیں ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ذوالجلال والاحسان عز و جل کا ارشاد ہے: “هَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ؛ کیا اچھائی کا بدلہ اچھائی کے سوا کچھ اور ہے؟”. (رحمٰن، ۶۰)

اسلامی جمہوریہ ایران کے وجود کا فلسفہ دنیا کے مستضعفین اور مسلمانوں کی حمایت پر استوار ہے اور حتی کہ اس کے آئین کے تقاضے بھی کچھ ایسے ہی ہیں، یہ اسلامی اخلاقیات کا مبلغ ملک ہے، پہلے خود عمل کرتا ہے اور پھر دوسروں کو دعوت عمل دیتا ہے۔ یہاں سب اس حدیث شریف پر یقین کامل رکھتے ہیں کہ ” مَنْ اَصْبَحَ لا يَهْتَمُّ بِاُمورِ الْمُسْلِمينَ فَلَيْسَ مَنْهُمْ وَمَنْ سَمِعَ رَجُلاً يُنادى يا لَلْمُسْلِمينَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَيْسَ بِمُسْلِمٍ ؛ جس نے صبح کی جبکہ مسلمانوں کے امور کو اہمیت نہیں دے رہا ہے، وہ مسلمان نہیں ہے اور جس نے ایک مسلمان کی مدد کی پکار سنی اور لبیک کہنے سے گریز کیا، تو وہ مسلمان نہيں ہے”۔ (الکافی، ج۲، ص۱۶۳) گوکہ اس حدیث کی بنیاد پر، جب ایک مسلم ملک کو کفر کی یلغار کا سامنا ہو تو ہر اس شخص پر اس کی مدد کرنا فرض ہے جو مسلمان کہلاتا اور کہلواتا ہے۔ نیز حضرت امیرالمؤمنین علی علیه السلام نے امام حسن اور امام حسین علیهما السلام سے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: “كُونا لِلظّالِمِ خَصماً ولِلمَظلُومِ عَوناً؛ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار بنے رہنا”۔ (مکتوب نمبر ۴۷، نہج البلاغہ)

شرعی اور دینی واجب
مغربی حکومتیں اور ان کی چوٹی پر مستکبر امریکہ، حال ہی میں شام اور عراق میں اپنی ہمہ جہت شکستوں کے بعد، شام میں اور علاقے کے دوسرے ممالک میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اثر و رسوخ یا موجودگی اور اس کی میزائل قوت پر شور مچائے ہوئے ہیں، جو در حقیقت مستکبر طاقتوں اور علاقے میں ان کے کٹھ پتلیوں کی کمزوری اور بے بسی کا ضمنی اعتراف ہے۔

مسٹر ٹرمپ نے حال ہی میں “مدعی سست گواہ چست” کا مصداق بن کر اپنے متنازعہ اور نامعقول پیغامات اور خطابات میں اس جملے کو مسلسل دہرا رہے ہیں کہ “اسلامی جمہوری حکومت ایرانی عوام کی دولت کو شام اور دوسرے ممالک میں ضائع کررہی ہے اور اس کے اپنے عوام کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں؛ جبکہ وہ اس بات کی ہرگز وضاحت نہیں کرتے کہ امریکہ شام، عراق، قطر، بحرین، سعودی عرب، کویت، افغانستان، یمن، کوریا، اور جاپان سمیت دنیا بھر کے سینکڑوں علاقوں میں کیوں موجود ہے؟ کیا اس سلسلے میں جو اخراجات امریکی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، ان کے لئے کوئی منطقی اور عقلی جواز ہے؟ اور اگر ان سے یہی سوال پوچھا جائے تو بے دھڑک کہیں گے کہ امریکہ سے کئی ہزار میل دور کے “ان علاقوں میں ہم امریکی مفادات کا تحفظ کررہے ہیں”، لیکن وہ اسی اثناء میں یہی حق اسلامی جمہوریہ ایران یا کسی بھی دوسرے ملک کو دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ امریکی استکبار دنیا کو اپنی ملکیت سمجھنے پر اصرار کرتا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران جیسی ابھرتی طاقتوں کے عالمی اور علاقائی کردار کو برداشت نہیں کرتا؛ گوکہ زبانی نعروں اور تنقید و اعتراض اس کی کمزوری کی علامت ہے ورنہ تو جب وہ طاقتور تھا تو کوئی جواز پیش کئے بغیر معمولی بہانوں سے ممالک پر چڑھائی کرتا رہا ہے لیکن اب اسے زبانی لڑائی پر اکتفا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران پوری طاقت کے ساتھ عالمی سیاست میں کردار ادا کرنے کے لئے میدان میں موجود ہے۔اور دوسری طرف سے خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ خُذُواْ حِذْرَكُمْ فَانفِرُواْ ثُبَاتٍ أَوِ انفِرُواْ جَمِيعاً؛ اے ایمان لانے والو!اپنی حفاظت کا سامان مکمل رکھو اور پھر جب وقت آئے تو نکل کھڑے ہو خواہ دستہ دستہ ہو کر الگ الگ اور خواہ اکٹھا نکلو”۔ (نساء، ۷۱)

نیز حضرت حق تعالی ٰ ارشاد فرماتا ہے:
“وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةً وَاحِدَةً؛ کفار کی تو آرزو یہ ہے کہ تم لوگ اپنے ہتھیاروں اور سامانوں سے غافل ہو جاؤ تو وہ تم پر ایک دم ٹوٹ پڑیں”۔ (نساء، ۱۰۲)

نیز فرماتا ہے:
“وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدْوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لاَ تَعْلَمُونَهُمُ اللّهُ يَعْلَمُهُمْ؛ اور مہیا رکھو ان کے لیے جو تم فراہم کر سکو طاقت کی قسم سے (افرادی قوت، جدیدترین ہتھیار اور جنگی اخراجات اور) اور بندھے ہوئے تیار گھوڑوں (اور نقل و حرکت کے مناسب وسائل) کو مورچوں پر تیار رکھنے کی صورت سے، جن کے ذریعے سے تم خوفزدہ بناؤ اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن اور دوسروں کو جو ان کے علاوہ ہیں، جنہیں تم نہیں جانتے ہو، اللہ انہیں جانتا ہے”۔ (انفال، ص۶۰)بشکریہ ابنا نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

ہم سے ایسا کیا گناہ ہو گیا؟

(وسعت اللہ خان)  نواز شریف دیوانہ وار حامیوں کے جلو میں ووٹ دینے پولنگ اسٹیشن ...