جمعرات , 16 اگست 2018

ترس آرہا ہے

(مقتدا منصور) 
جیسے ہی تحریک انصاف اورمتحدہ قومی موومنٹ کے درمیان وفاق میں اشتراک عمل کا معاہدہ طے پایا ، اول الذکر جماعت کے اندرونی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آنے لگا ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ کراچی کے ان ووٹروں کے ساتھ زیادتی ہے، جنہوں نے تحریک انصاف کو ایم کیوایم کے متبادل (Replacemnet) کے طورپر منتخب کیا ہے۔

اس صورتحال میں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔اول، اس معاہدے کا اربن سندھ کے شہریوں کو کس حد تک فائدہ پہنچ سکے گا ؟ دوئم ،کیا اٹھارویں ترمیم کی موجودگی میں معاہدے میں دیے گئے نکات پر عملدرآمد ہوسکے گا ؟ سوئم ،کیا یہ معاہدہ دیرپا ثابت ہوسکے گا؟

معاہدے کے نکات کا جائزہ لیا جائے تو ’’ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘ کی تفسیر نظر آتا ہے۔ کیونکہ سوائے کراچی آپریشن پر نظر ثانی کے وعدے ،کوئی بھی نکتہ ایسا نہیں جو وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہو ۔ یہ وعدہ بھی محض وعدہ ہی رہتا نظرآرہاہے،کیونکہ اس نکتے پر عمل درآمد صرف وزیر اعظم کا اختیار نہیں ہے ۔ دوسرے اس معاہدے کے بقیہ نکات صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، وفاق کا ان سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔اس لیے اس معاہدے کے نتیجے میں عمران خان کو وزیر اعظم بننے کے لیے مطلوبہ تعداد تو مل جائے گی، لیکن ایم کیوایم کے ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی تہی دامن رہنے کے امکانات ہیں ۔ اس کا سبب اس کی سیاسی کمزوری اور نادیدہ حلقوں کے دباؤ کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔

آج سے تیس برس قبل اسی نوعیت کا معاہدہ پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم (جو اس وقت مہاجر قومی موومنٹ تھی) کے درمیان بھی ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آنے کے لیے درکار عددی اکثریت کے حصول کی خاطر ایم کیو ایم کے مرکز’’نائن زیرو‘‘ کی یاترا کرنا پڑی تھی۔ مگر وہ عقد گیارہ ماہ سے زیادہ نہ چل سکا ۔

کہتے ہیں کہ اس معاہدے کی تنسیخ میں پیپلزپارٹی کے اندرون خانہ دباؤ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، لیکن ایم کیو ایم کی سیاست میں ناتجربہ کاری کے ساتھ نادیدہ قوتوں کی شاطرانہ چالوں کا زیادہ دخل تھا ۔ حالانکہ اس زمانے میں پیپلز پارٹی وفاق کے ساتھ سندھ میں بھی حکمران تھی، مگر دونوں جماعتوں نے اس معاہدے پر سنجیدگی کے ساتھ عمل کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو بیوقوف بنانے کی پالیسی اختیارکر کے نادیدہ قوتوں کو سندھ کے معاملات میں مداخلت کا موقع فراہم کیا تھا ۔

پھر اگلا معاہدہ اسلامی جمہوری اتحاد(IJI)کے ساتھ ہوا۔اس معاہدے سے بھی کراچی سمیت اربن سندھ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ بلکہ سندھ میں سیاسی انتشار میں مزید اضافے کا باعث بنا۔ایک رائے یہ ہے کہ بااثر طاقتور حلقے ایم کیو ایم کی بڑھتی ہوئی سیاسی قوت سے پریشان تھے،کیونکہ اس طرح کراچی کے وسائل پر ان کی گرفت کمزور پڑنے کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ اس لیے ان حلقوں نے 72بڑی مچھلیوں کو پکڑنے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن کا رخ ایم کیوایم کی طرف موڑ کرا س معاہدے کو طاق نسیاں کردیا ۔جون 1992 اور اس کے بعد ہونے والے تمام آپریشنوں کا مقصد سندھ کے سیاسی اور انتظامی امور میں وفاق کی مداخلت کی راہ ہموار کرنا رہا ہے۔

اب جہاں تک ایم کیوایم کا تعلق ہے، تو اسے پرویز مشرف کے دور میں سنبھلنے اور اپنی تنظیم نو (Restructuring)کا موقع ملا تھا، مگراس نے اس موقعے کو ضائع کردیا۔ ایم کیوایم سے تسلسل کے ساتھ دو فاش غلطیاں ہوتی رہی ہیں ۔اول ، سخت گیر تنظیمی ڈھانچے کی جگہ اربن ڈیموکریٹک سیاسی جماعت کی شکل اختیار کرنے سے مسلسل گریز۔ دوئم، اربن سندھ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر راست انداز میں دباؤ ڈالنے سے گریز اور فروعی معاملات میں الجھنے رہنا شامل ہے۔ جو اس کی حالیہ ناکامی کی دیگر وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ہے۔

تمام غلطیاں اور کوتاہیاں اپنی جگہ، مگر اس کا حقیقی زوال2008کے بعد کیے گئے غلط فیصلوں اور ناقص کارکردگی کے باعث شروع ہوا ۔ خاص طور پر پیپلز پارٹی کے تیسرے دور(2008سے2013) میں اس کا بلاجواز حلیف بننا اورکوئی ایک بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکامی ہے۔اس دور میں بار بار حکومت میں شمولیت اور باہر نکلنے کے عمل نے اس کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا اور عوام بالخصوص نوجوان طبقہ اس سے متنفر ہوا ۔ جس کا اندازہ تجزیہ نگاروں سمیت بعض اہم ریاستی حلقوں کو بھی تھا۔اس صورتحال نے تحریک انصاف کے لیے اربن سندھ میں راہیں ہموار کرنے کا موقع فراہم کیا۔

اس بات میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ اربن سندھ کے عوام نے ایم کیو ایم کو حق نمائندگی اس لیے دیا تھا کہ وہ میرٹ کے طریقہ کار پر عمل درآمد کے ذریعے اربن سندھ کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے حصول کو یقینی بنائے گی۔ اختیارات کی نچلی ترین سطح تک منتقلی اور بااختیار مقامی حکومت کی تشکیل کے لیے جدوجہد کرے گی، تاکہ اربن معاملات احسن طور پر حل ہوسکیں ۔ سندھ میں صنعت کاری کے لیے منصوبہ بندی کرے گی اور انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرے گی، تاکہ معیشت میں بہتری آسکے، مگر اس نے ان اہداف پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

مئی 2013کے انتخابات میں تحریک انصاف کا شہر کے مختلف حلقوں میں حیران کن انداز میں جگہ بنانے اور ساڑھے چھ لاکھ ووٹ حاصل کرنے پر سیخ پا ہونے کے بجائے اپنی خامیوں، کمزوریوں اور غلطیوں کا کھلے قلب و ذہن کے ساتھ جائزہ لیا جاتا، تو آج کراچی شہر اس طرح PTIکی جھولی میں نہ گرتا ۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بعض طاقتور حلقے گزشتہ کئی دہائیوں سے کراچی کے مینڈیٹ کو تقسیم کرنے اور اس شہرکو مرکز سے چلانے کے خواہش مند چلے آرہے ہیں۔ وہ مختلف وجوہات کی بنا پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر اعتبار نہیں کرتے۔اس لیے ان اہداف کے حصول کے لیے تحریک انصاف کو استعمال کیا گیا، جس میں انھیں خاصی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

اگر حالیہ انتخابات کا جائزہ لیا جائے ،تو یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ ایم کیو ایم سے کراچی کا مینڈیٹ چھینے کے لیے نہایت باریک بینی کے ساتھ کھیل کھیلا گیا۔ یہ بات روز اول ہی سے واضح ہوگئی تھی کہ PSPکو الیکشن جتوانے کے لیے نہیں بلکہ ایم ایم کیوایم کے اندر شکست و ریخت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ایم کیو ایم کے ووٹ بینک میںPSP کے علاوہ دوسری دراڑ تحریک لبیک نے ڈالی۔ تیسرا فیکٹر بانی ایم کیو ایم کی جانب سے انتخابات کا بائیکاٹ تھا۔چنانچہ ان حلقوں میں جہاںاردو بولنے والی کمیونٹی اکثریت میں ہے، ووٹ پڑنے والے کی شرح 30فیصد سے زیادہ نہیں رہی۔ان حلقوں میں صرف ایم کیو ایم مخالف ووٹر باہر نکلا۔ دوسرے 18سے30برس عمر کا نوجوان جو ایم کیو ایم کی پالیسیوں سے متنفر ہوچکا تھا اس نے pit کو ووٹ دیا۔

وہ PTI جو ایم کیوایم پر مختلف نوعیت کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ اسے صرف وزارت عظمیٰ کے لیے درکار عددی تعدادکی تکمیل کے لیے ساتھ لے کر چل رہی ہے۔جس کا اظہار ان کے ایک رہنما نے کر بھی دیا ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ ایم کیوایم اپنے اندرونی خلفشار اور تقسیم کے باعث اس قدر کمزور ہوچکی ہے کہ وہ آزادانہ سیاسی میدان میں ٹھہرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس جماعت کی حلیف بننے پر مجبور ہوئی ہے، جس نے اس کے مضبوط حلقے چھینے ہیں، مگرصرف یہ ایم کیو ایم کی مجبوری ہی نہیں ہے بلکہ پس آئینہ بیٹھی قوتوں کا بھی یہی مطلوب و مقصود ہے ۔

یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ایم کیوایم کے حالیہ فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ اس نے اپنا سیاسی کیریئر داؤ پر لگا دیا ہے۔ وہ PTI کی حلیف نہیں بنی ہے، بلکہ اصل میں شہر کی کنجیاں اس کے حوالے کی ہیں ۔ جس کامطلب ہے کہ اس شہر ناپرساں کا کنٹرول اب مقامی قیادتوں کے بجائے وفاق میں بیٹھے منصوبہ سازوں کے ہاتھوں میں ہوگا۔ کارل مارکس نے درست کہا تھا کہ مڈل کلاس سے زیادہ ناقابل بھروسہ کوئی اور طبقہ نہیں ہوتا ۔ یہ پولیس کی دوگاڑیاں دیکھ کر گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔ایم کیوایم کی موجودہ قیادت نے اس قول کی عملی تفسیر پیش کردی ہے، لہٰذا اب واقعی ایم کیوایم پر ترس آ رہا ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

عارف علوی صدر پاکستان کے عہدے کے لیے نامزد ۔ ۔ ۔

عارف علوی صدر پاکستان کے عہدے کے لیے نامزد ۔ ۔ ۔