جمعرات , 18 اکتوبر 2018

مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی بامقصد بدامنی

(علی منتظری)

شام میں جاری بدامنی اور سکیورٹی بحران کو شروع ہوئے سات سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ شام آرمی اور اس کی اتحادی فورسز کی مسلسل فوجی کامیابیوں اور اکثر علاقے دہشت گرد عناصر کے قبضے سے چھڑوا لئے جانے کے باوجود اب بھی کھلم کھلا اور ڈھکے چھپے انداز میں مسلح جھڑپیں جاری ہیں۔ مغرب کے اسٹریٹجک صحافی اور تجزیہ کار آج شام کے کھنڈروں اور لاکھوں افراد کی قبروں پر بیٹھ کر یہ تجزیئے پیش کر رہے ہیں کہ شام کا حکومتی نظام بدستور برپا ہے اور صدر بشار اسد ایک بڑے بھنور سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ ہر گز اس حقیقت کی جانب اشارہ نہیں کرتے کہ اس خوفناک خانہ جنگی کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا اور اس عظیم قتل عام کے پیچھے کیا سازشیں کارفرما تھیں؟

امریکی میگزین "ایٹلنٹک” میں کریسٹوفر فیلیپس کے قلم سے "شام کی جنگ میں بشار اسد فاتح کیوں” کے عنوان سے شائع ہونے والے تجزیئے میں کہا گیا ہے: "شام میں خانہ جنگی کے سات سال بعد جس میں اس ملک کی نصف آبادی جلاوطن ہو گئی، بہت سے شہر کھنڈر بن گئے اور پانچ لاکھ سے زائد افراد قتل کر دیئے گئے اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بشار اسد فتح سے ہمکنار ہونے والے ہیں۔

کریسٹوفر فیلیپس مزید لکھتے ہیں: ”
شاید باہر سے بشار اسد کی کامیابی ایک مکمل فتح نظر نہ آئے لیکن وہ ملبے اور کھنڈر کے بادشاہ ہیں اور اپنے صدارتی محل سے ویران ہوئے ملک پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔”

اسی طرح ایک اور امریکی میگزین "بوسٹن گلوب” میں جیف کلائن اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں: "شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر مبنی امریکی پالیسیوں کا تسلسل نہ صرف امریکہ کے مفادات کے حق میں نہیں بلکہ عظیم سانحہ رونما ہونے کا باعث بنا ہے۔” وہ اپنی رپورٹ میں مزید لکھتے ہیں: "رچرڈ نارتھ پیٹرسن نے 24 جولائی کو "ٹرمپ کی جانب سے شام کی آزادی” کے عنوان سے شائع ہونے والے اپنے مقالے میں حقیقت سے بالکل برعکس تصویر پیش کی۔ شام کا سانحہ ڈونلڈ ٹرمپ یا براک اوباما کی کم مداخلت کے باعث پیش نہیں آیا بلکہ ان کی حد سے زیادہ مداخلت کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ براک اوباما کی مدت صدارت کے دوران امریکہ نے شام میں ایسے سرگرم باغی گروہوں کو اربوں ڈالر کا اسلحہ اور مالی امداد فراہم کی جو آخرکار القاعدہ اور داعش سے جا ملے اور ترکی نے بھی نیٹو کا رکن ملک ہونے کے ناطے دسیوں ہزار غیر ملکی مسلح افراد کا اپنی سرحد سے شام میں داخلے کا مقدمہ فراہم کیا۔”

امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس اور تجزیاتی مقالات کے بہت کم مصنفین ایسے ہیں جو شام، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں جاری بدامنی اور خانہ جنگی کی حقیقی وجوہات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ وہ جب ان خطوں کے بارے میں قلم فرسائی کرتے ہیں تو انسانی حقوق، جمہوریت اور ڈکٹیٹرز کی سرنگونی جیسے عناوین بروئے کار لاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ حسنی مبارک، بن علی، معمر قذافی اور علی عبداللہ صالح جیسے صدور مملکت ایسے سربراہان مملکت یا حکومتیں تھیں جنہیں یا تو براہ راست امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل تھی یا امریکہ سے ان کے بعض معاہدات کی وجہ سے مغربی ممالک بھی ان کی حمایت کرنے میں مصروف تھے۔ کیا کریسٹوفر فیلیپس کے بقول ملبے اور کھنڈر میں تبدیل ہونے والی سرزمین میں صرف شام ہی شامل ہے یا لیبیا، یمن، عراق اور لبنان بھی اس میں شامل ہیں؟ کیا امریکہ ان تباہ شدہ سرزمینوں کو صرف انہیں ممالک کی حدود تک محدود رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا یا اس میں ایران جیسے دیگر ممالک کو بھی شامل کرنے کا منصوبہ بنا چکا تھا؟

کیا جیف کلائن کی جانب سے اپنی رپورٹ میں برعکس امریکی پالیسیوں کے بارے میں جو مطالب ذکر کئے گئے ہیں وہ صرف 2011ء کے بعد شام سے متعلق امریکی پالیسیوں سے مخصوص ہیں یا انہیں 2001ء کے بعد مشرق وسطی میں اپنائی جانے والی تمام امریکی پالیسیوں پر لاگو کیا جا سکتا ہے؟ یہ تمام تجزیہ کار اس اہم موضوعات کے بارے میں لکھنا بھول جاتے ہیں کہ امریکہ اپنی حدود سے 7 ہزار میل اس طرف مشرق وسطی میں کیا کرنے آیا ہے؟ وہ اس نکتے کا جائزہ لینا بھی بھول جاتے ہیں کہ مشرق وسطی کی تمام تباہ کن جنگوں میں اسرائیل کہاں کھڑا ہے اور ان جنگوں کے آغاز خاص طور پر 2003ء سے اب تک عراق اور شام میں رونما ہونے والے فوجی واقعات میں اسرائیل کا کھلم کھلا اور خفیہ کردار کیا رہا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ یہ تجزیہ کار شام اور مشرق وسطی کے صرف ان حالات کا جائزہ لیتے ہیں جو 2011ء میں شام میں بدامنی شروع ہونے کے بعد پیش آئے ہیں اور 2001ء سے 2011ء تک اس خطے میں رونما ہونے والے حالات و واقعات سے چشم پوشی کرتے ہیں؟

اگر مغربی خاص طور پر امریکی لکھاری اور تجزیہ کاران دیکھنا چاہتے ہیں کہ آج شام کے سیاسی اور فوجی میدان میں امریکہ کہاں کھڑا ہے تو انہیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ 2006ء میں حزب اللہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 33 روزہ جنگ کے بعد اور 2009ء کے بعد شام حکومت سرنگون کرنے اور مشرق وسطی میں اینٹلی جنٹ بدامنی پھیلانے کی کوششیں کس کی سربراہی میں انجام پائی ہیں؟ اگر وہ اس سوال کا جواب پانا چاہتے ہیں تو انہیں یہ دیکھنا ہو گا کہ اس وقت شام میں ایسی کون سی غیر ملکی فورسز موجود ہیں جو شام کی مرکزی حکومت اور اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر اس ملک میں موجود ہیں؟ اور وہ کون سے ممالک ہیں جو شام حکومت کے مخالفین کی حمایت کر کے اس ملک اور مشرق وسطی میں انجام پانے والے فوجی اخراجات اور آپریشنز کے نتائج پر قبضہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ملک امریکہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ امریکہ گذشتہ دس برس کے دوران عراق اور شام میں داعش جیسے تکفیری دہشت گروہوں کی پیدائش کا حقیقی منشا رہا ہے۔ مزید برآں، امریکہ سعودی عرب جیسے اپنے اتحادی ممالک کی تمام تر فوجی اور مالی توانائیوں کو ان دہشت گرد عناصر کی تقویت اور مدد کیلئے بروئے کار لایا ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد پہلے مرحلے پر شام کی مکمل نابودی اور اس کے بعد اسے توڑ کر چھوٹے ممالک میں تقسیم کرنا تھا۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ خطے میں ایک طویل المیعاد جنگ شروع کرنا تھا تاکہ مذاکرات کی آڑ میں شام حکومت کے سیاسی مخالفین کو مضبوط بنا کر اس ملک میں مطلوبہ سیاسی نظام حکمفرما کیا جا سکے۔ امریکہ نے مذکورہ بالا اہداف کے حصول کیلئے نہ صرف دہشت گرد عناصر کی بھرپور فوجی اور سیاسی حمایت کی بلکہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ امریکہ نے داعش کے زیر قبضہ علاقوں کیلئے علیحدہ سے ڈالر چھاپے جو سینکڑوں صندوقوں کے ذریعے داعش کے سپرد کئے گئے تاکہ اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں داعش کی حکومت باہر سے اسلحہ بھی خرید سکے اور عراق اور شام میں اپنی اندرونی ضروریات بھی پوری کر سکے۔

جب داعش کو معلوم ہوا کہ امریکہ کی جانب سے اسے فراہم کئے گئے ڈالرز مخصوص کوڈ اور نمبرز کے حامل ہیں جن کے باعث انہیں عالمی بینکاری نظام میں استعمال نہیں کیا جا سکتا تو انہوں نے لبنان کی سرحد پر واقع علاقے "اشتورہ” میں صرف چالیس امریکی ڈالرز کے مقابلے میں سو ڈالر کے نوٹ بیچنا شروع کر دیئے تاکہ اس طرح اپنی سیاہ حکومت میں اصلی ڈالرز سے بہرہ مند ہو سکیں۔ داعش کے زیر کنٹرول علاقوں کیلئے ایسے مخصوص ڈالرز چھاپنے کا یہ امریکی حربہ جو حقیقی ڈالرز سے کم قیمت رکھتے ہوں اور عالمی بینکاری نظام میں بھی استعمال کے قابل نہ ہوں اور داعش کی جانب سے انہیں سستے داموں بیچنے پر مبنی اقدام اس قدر کارگر ثابت ہوا کہ خطے کے ایک ملک نے بیرونی کرنسی کے ایک بڑے تاجر کے ذریعے بڑے پیمانے پر وہ ڈالرز خرید لئے جس کے نتیجے میں آخرکار اسے بہت زیادہ مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

امریکہ نے سابق سوویت یونین کے بلاک میں شامل ممالک سے داعش کو اسلحہ فراہمی کی راہ ہموار کی، بارہا ہیلی برن آپریشن کے ذریعے داعش کے کمانڈرز کو عراق اور شام میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا، کرائے کے جہازوں کے ذریعے پیراشوٹ سے داعش کے زیر کنٹرول علاقوں میں لاجسٹک امداد فراہم کی، خام تیل کی خرید و فروخت کرنے والے مافیائی گروہوں کی مدد سے داعش کیلئے خام تیل بیچنے کا موقع مہیا کیا اور دنیا بھر سے نام نہاد جہادی فورسز کی شام اور عراق منتقلی کا راستہ فراہم کیا تاکہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش ایک بڑے قوم پرست عرب ملک کی صورت میں مشرق وسطی میں موجود سیاسی قوتوں کے خلاف کھڑی ہو سکے اور اس طرح عراق، شام، ایران اور ترکی جیسے ممالک کے گلے میں ہڈی ثابت ہو سکے۔

اس وقت امریکہ شام کی نابودی کیلئے سب سے زیادہ اقدامات انجام دے چکا ہے۔ امریکہ نے نہ صرف شام بلکہ پورے مشرق وسطی میں بھی بدامنی پھیلا رکھی ہے تاکہ خطے کے ممالک میں ہر قسم کے سیاسی اور مالی تعاون اور اقتصادی ترقی کو ناممکن بنا سکے اور انہیں اپنے پاوں پر کھڑا نہ ہونے دے۔ آپ فرض کریں اگر شام اور خطے میں جنگ کا مسئلہ نہ ہوتا اور ایران، ترکی، سعودی عرب، عراق، شام، یمن اور لبنان کے درمیان دوستانہ تعلقات ہوتے اور ان کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعاون عروج پر ہوتا تو خطے میں کس قدر ترقی ہوتی۔ ایسی صورت میں یہ اقتصادی بلاک ایک طرف بحیرہ روم، دوسری طرف بحیرہ احمر اور تیسری طرف بحر ہند سے متصل ہوتا اور اپنی سڑکوں اور ریلوے ٹریکس کے ذریعے مغرب، مشرق، شمال اور جنوب کو ایکدوسرے سے ملا سکتا تھا۔ اسی طرح ایران، سعودی عرب اور عراق کی خام تیل کی پیداوار اور یمن میں موجود تیل کے ذخائر کی مدد سے دنیا میں انرجی اور قدرتی ذخائر کا سب سے بڑا ذخیرہ ہونے کے ناطے خطے کی ترقی اور پیشرفت کیلئے عظیم ترین سرمایہ کا مالک ہوتا۔

لیکن امریکہ نے مشرق وسطی خطے میں بدامنی، آشوب اور جنگ کی سازش بنائی تاکہ خطے میں جنگ اور عدم استحکام کی فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات کا حصول یقینی بنا سکے اور اب جب ہم 2018ء میں داخل ہو چکے ہیں بخوبی اس حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ امریکہ نے نہ صرف اپنی سازش آگے بڑھائی ہے بلکہ اس افراتفری کے عالم میں سیاسی مفادات بھی حاصل کئے ہیں۔ اگر امریکہ کو خطے سے کچھ بھی نہ ملا ہو تب بھی اس نے کم از کم ایسا کام انجام دیا ہے جس کے نتیجے میں اگلے کئی سالوں تک مشرق وسطی خطے میں انتقام اور خونی بدلہ لینے کا احساس جاگا رہے گا۔ امریکہ نے اپنی شیطنت آمیز پالیسیوں کے ذریعے خطے کے ممالک میں اس قدر عدم اعتماد اور دشمنی کے بیج بوئے ہیں کہ ان کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کیلئے ایک لمبا عرصہ درکار ہو گا۔ اس وقت تک نہ تو خطے میں کوئی اقتصادی بلاک تشکیل پا سکتا ہے اور نہ ہی سیاسی بلاک کی کوئی صورت نظر آتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ہم سے ایسا کیا گناہ ہو گیا؟

(وسعت اللہ خان)  نواز شریف دیوانہ وار حامیوں کے جلو میں ووٹ دینے پولنگ اسٹیشن ...