منگل , 11 دسمبر 2018

کیا نقاب پر پابندی عائد کرنے سے دہشت گردی پر قابو پایا جاسکتا ہے ؟

(تسنیم خیالی)
مسلمان خواتین کا نقاب کرنا ایک انتہائی حساس معاملہ ہے ، من حیث الجواز اگر بات کی جائے تو علماء کرام کی نقاب کے حوالے سے مختلف آراء ہیں کسی نے نقاب کو ضروری قرار دیا ہے تو کسی نے نہیں، البتہ صورتحال یہ ہے کہ نقاب اسلامی ثقافت کا ایک حصہ بن چکا ہے جس سے کسی کو انکا رنہیں ، یورپ میں مقیم بانقاب مسلم خواتین یورپی ممالک کیلئے ’’بلاوجہ‘‘ درسربن چکی ہیں اور یہ ممالک آئے دن نقاب پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے قوانین ایجاد کرتے رہتے ہیں جس کے پیچھے اصل مقصد دہشت گرد ی کی روک تھام ہے، حالانکہ دہشت گردی کا نقاب سےسے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی نقاب کا دہشت گردی سے تعلق ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح داڑھی کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی دہشت گردی کا داڑھی سے۔

حال ہی میں یورپی ملک ڈنمارک میں ایک قانون کی منظوری ہوئی ہے جس میں ’’چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کی گئی ہے ‘‘ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس قانون کا نفاذ صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ بلا تفرقہ تمام شہریوں پر ہوگا البتہ سبھی جانتے ہیں کہ یہ قانون بانقاب مسلم خواتین کیلئے بنایا گیا ہے کہ کیونکہ چہرے کو نقاب سے ڈھانپنا صرف مسلم خواتین میں ہی پایا جاتا ہے ، دیگر مذاہب میں یہ روایت قائم نہیں ، جرمنی، ہالینڈ، فرانس ، اسپین ، بیلجیئم ، اٹلی ، حتی کہ کینیڈا جسے ملک میں نقاب پر پابندی عائد ہے ہاں یہ بات قابل غور ہے ان ممالک میں سے کسی میں مکمل طور پر پابندی عائد ہے اور کسی میں جزوی طور پر ،جیسا کہ اٹلی میں صرف ’’لومبارڈی‘‘ نامی شہر میں اس پابندی کا اطلاق ہے جبکہ اٹلی کے باقی حصوں میں ایسا نہیں اس پابندی کی اصل جڑاسلاموفومیا اور دہشت گردی ہے جسے مغربی ممالک نے سوچی سمجھی سازش کے تحت اسلام سے منسوب کیا۔

مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ یہی مغربی ممالک امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کو معرض وجود میں لائےاور پھر یہ تصور قائم کروایا کہ دہشت گردی اسلام اور مسلمانوں کا شاخسانہ ہے جبکہ حقیقت اس کے عین برعکس ہے دہشت گردی کا نہ تو دین مذہب ہے اور ناہی دہشت گرد کا کسی مذہب سے تعلق ہوتا ہے، جب مغربی ممالک اور امریکہ کی یہ پیداوار وہاں پلنے بڑھنے لگی تو ان ممالک کو اس کی روک تھام کیلئے اقدامات کی سوجھی اور یہاں بھی ان ممالک نے اسلام دشمنی کو ترک نہیں کیا اور نشانہ بنایا حجاب، برقعہ اور نقاب جیسی چیزوں کو جسکا دہشت گردی کے ساتھ دور دور تک تعلق نہیں ، یہ ضروری نہیں کہ کوئی بانقاب ، باحجاب یا پھر بابرقعہ خاتون کا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے ہو یا وہ کسی دہشت گرد کی ماں ، بہن ، بیٹی یا پھر بیوی ہو آپ افغانستان کو ہی دیکھ لیں وہاں پر برقعہ پہننے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد ہے مگر کیا ان تمام خواتین کا تعلق طالبان یا داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں سے ہے؟

نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ ان خواتین میں سے بیشتر کا ان تنظیموں سے تعلق نہیں اور وہ اس وقت کا انتظار کررہی ہیں کہ کب ان کی جان ان تنظیموں سے چھوٹے، یہ ضروری نہیں کہ دہشت گرد خواتین بانقاب یا باحجاب یا پھر با برقعہ ہوں کیونکہ یورپ میں ایسی کئی خواتین گرفتار ہو چکی ہیں جن کا تعلق دہشت گرد تنظیموں سے ہے اور یہ خواتین نہ تو برقعہ پہنتی ہیں نا حجاب اور ناہی نقاب کرتی تھیں بلکہ یہ قوانین مغربی لباس زیب تن کرتی تھیں ، ان گرفتار خواتین میں کچھ دہشت گرد تنظیموں کے لئے لوگوں کو بھرتی کیا کرتی تھیں ، کچھ دہشت گرد تنظیموں کے رکن تھیںاور کچھ کسی دہشت گرد کی عزیز یا پھر اہلیہ، مغرب میں دہشت گرد ی کے فروغ کے پیچھے خود مغربی ممالک کا ہاتھ ہے جنہوں نے اس ناسور کو بنایا، انہی کے دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوئے تھے اور یہ سب کچھ انہیں ممالک کی سرپرستی میں ہوتا تھا اور اب جب یہ دہشت گرد اپنے اپنے ممالک کو واپس آچکے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ ان ممالک میں بھی دہشت گردوں نے اپنی دہشت گردی کا مظاہرہ کرنا ہے۔

مغربی ممالک نے اگر دہشت گردی پر قابو پا نا ہے تو برقعہ ، نقاب اور حجاب کو چھوڑ یں اور اپنی دوغلی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں ان دہشت گردوں کوگرفتار کریں جو شام اور عراق سے واپس آئے ہیں ، ویسے تو یہ بھی قابل غور ہے کہ ان ممالک نے جان بوجھ کر واپس آنے والے دہشت گردوں کو گرفتار نہیں کیا تاکہ یہ دہشت گرد دہشت گردی کریں اور عوام کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جلتی ہوئی آگ مزید تیزہو، یا د رہے دہشت گردی اور دہشت گرد کا کوئی مذہب اور دین نہیں نہ تو وہ مسلمان ہیں نا عیسائی ناہی یہودی نہ ہندو ناہی کسی اور مذہب کے ۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...