منگل , 11 دسمبر 2018

کیا میزائل کے دفاعی سسٹمز واقعی میں دفاع کرسکتے ہیں ؟

(تسنیم خیالی)
فوجی دنیا میںمیزائل دفاع سسٹمز کچھ عرصہ سے کافی چرچے ہورہے ہیں جنگی ساز وسامان بنانے والے ممالک ان سسٹمز کی فروخت سے کافی منافع کمارہے ہیں، موجودہ دور میں دفاعی سسٹمز کے حوالے سے امریکہ اور روس سب سے زیادہ مشہور ہیں اور اس دوڑ میں اسرائیل بھی اپنے دفاعی سسٹم کے ساتھ شامل ہے، دفاعی سسٹمز کا استعمال دشمنوں کی طرف سے داغے جانے والے میزائلز کو روکنے میں ہوتا ہے، جب دشمنوں کے میزائل کا دفاعی سسٹمز کے ریڈار سسٹم میں تعین ہوجاتا ہے تو خود کار دفاعی سسٹم اس میزائل کو مار گرانے کیلئے میزائل لانچ کردیتا ہے اور اس عمل کے لئے دشمنوں کے ایک میزائل کو مار گرانے کیلئے متعدد میزائل بیک وقت داغے بھی جاسکتے ہیں۔

امریکہ اس وقت دومیزائل دفاعی سسٹم تیار کررہا ہے ایک کا نام ’’پیٹریاٹ‘‘جبکہ دوسرے کانام ’’تھاڈ ‘‘ ہے، دونوں سسٹمز کی خصوصیات میں فرق ہے (مثلاًرینج، استعمال ہونے والے میزائل ، رفتار وغیرہ وغیرہ) اور امریکہ اپنے دونوں سسٹمز پر کافی فخر کرتا دکھا ئی دیتا ہے اور انکی مارکیٹنگ کرتا پھرتا ہے، دنیا کے بہت سے ممالک جیسا کہ سعودی عرب اور امارات امریکی ساختہ دفاعی سسٹمز خرید کر استعمال کررہے ہیں دونوں ممالک میںیہ دفاعی سسٹمز ’’بیکار‘‘ ثابت ہوچکے ہیں، 3سال سے بھی زائد عرصے سے جاری یمن جنگ میں ایک اہم تبدیلی اس وقت رونما ہوئی جب یمنی مزاحمت نے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائلز داغنے شروع کئے ، توقع یہی تھی کہ سعودی عرب میں نصب امریکی میزائل سسٹمز یمنی میزائلز کو روکنے میں کامیاب ہوجائے گاالبتہ ایسا نہیں ہوا، یہ امریکی سسٹمز یمنی بیلسٹک میزائلز کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے۔

یمنیوں کے بیشتر میزائلز اپنے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے ،جیسا کہ ریاض میں واقع الیمامہ محل، شاہ فہد ائیرپورٹ، شاہ فیصل ائیربیس اور آرامکوکمپنی، امریکی دفاعی سسٹمز کی اس ناکامی نے امریکہ کی ناکامی اور جھوٹ سے پردہ فاش کردیا ہے اور سبھی کو ان امریکی ’’شاہکاروں ‘‘ پر شک ہوگیا ہے ، امریکی دفاعی میزائل سسٹمز کو ایک اور زوردار جھٹکا اس وقت لگا جب یمنی مزاحمت نے امارات میں واقع متعد اہداف کو بیلسٹک میزائلز سے نشانہ بنایا، ان اہداف میں ایک جوہری پلانٹ اور ابوظہبی انٹرنیشنل ائیرپورٹ شامل ہیں، یوں امریکی دفاعی سسٹمز امارات میں بھی ناکام ہوگئے ، اسرائیل بھی ’’ائرن ڈوم ‘‘ نامی میزائل دفاعی سسٹمز پر بہت زیادہ فخر کرتا ہے۔

البتہ اسرائیلی ساختہ یہ سسٹمز حماس کی جانب سے داغے جانے والے میزائلز میں سے بیشتر کو روکنے میں ناکام ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ’’ائرون ڈوم‘‘ ایک بیکار سسٹم ثابت ہوچکا ہے، اسرائیلی وزارت وفاع نے اپنے ایک بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ روز حماس نےا سرائیل کے مختلف علاقوں پر 150 میزائل داغے ہیں جن میں سے’’آئرن ڈوم ‘‘ نے صرف 25 کو گرانے میں کامیابی حاصل کی ہے ‘‘ اس ضمن میں اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ حماس کے میزائلز سے بڑےپیمانے پر مالی نقصان پیش آیا ہے جبکہ بیسیوں اسرائیلی شہری زخمی بھی ہوئے ہیں، ان اسرائیلی اعترافات سے واضح ہوتا ہے کہ ’’آئرن ڈوم‘‘ بھی ایک ناکام دفاعی سسٹم ہے جس کی اسرائیل جھوٹی تعریفیں کرتا پھرتا ہے ۔

روس بھی میزائل دفاعی سسٹم بنانے کےحوالے سے کافی شہرت کا حامل ہے ، اور اس سلسلے میں روسی ایس۔300 اور ایس ۔400 جیسے سسٹمز بنا رہے ہیں بعض ممالک نے روسیوں سے یہ سسٹمز خرید رکھے ہیں جیسا کہ چین مگر اب تک ان سسٹمز کی کارکردگی سامنے نہیں آئی جس کی وجہ یہ ہے کہ ان سسٹمز کا فی الحال حقیقی جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا، عام طور پر یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ میزائلز دفاعی سسٹمز اب تک ناکام رہے ہیں ، ان کے حوالے سے جو دعوے کیے جاتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اور اس حقیقت سے یہی ثابت ہوتا ہے ان سسٹمز کے ذریعے صرف مال کمایا جارہا ہے اور حقیقت میں یہ سسٹمز وہ کام نہیں کرپارہے جس کیلئےان کی خریدوفروخت کی جا رہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...