جمعہ , 14 دسمبر 2018

پاک روس تعاون

پاکستان اور روس کے مابین فوجی تعاون بڑھانے کا حالیہ معاہدہ جہاں دونوں فریقین کے تعلقات میں فروغ کا باعث بنے گا وہیں یہ خطے کے دیگر ممالک سے ملکی تعلقات میں توازن کی جانب بھی اہم پیش رفت ہے۔کیونکہ بین الاقوامی تعلقات میں توازن کا پہلو نظر انداز کرکے کوئی بھی ریاست اپنی سلامتی و مفادات کا تحفظ یقینی نہیں بناسکتی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق راولپنڈی جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے روس کے نائب وزیر دفاع کرنل جنرل الیگزینڈر وی فومن کی ملاقات میں علاقائی سلامتی کی صورتحال،دفاعی اور سیکورٹی تعاون کے امور زیر غور آئے ۔روسی نائب وزیر دفاع کی جانب سے دہشت گردی کیخلاف پاک فوج کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے انتہاپسندی کو شکست دینے کیلئے عالمی برادری کے مابین وسیع تر تعاون اور اشتراک کار کی ضرورت پر زور دیا جانا درحقیقت دہشت گردی و انتہاپسندی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر مربوط اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے پاکستانی موقف کی تائید ہی ہے۔

سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر)ضمیرالحسن شاہ کی دعوت پر جنرل الیگزینڈر کی سربراہی میں روسی وفد نےدو رو زہ دورے میں روس پاکستان مشترکہ مشاورتی ملٹری کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔جس میں روسی تربیتی اداروں میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کی تربیت کے حوالے سےمعاہدے پر دستخط کئے گئے۔ توقع ہے کہ اس سے مستقبل میں دوطرفہ تعاون کی نئی راہیں ہموار ہوں گی ۔مذکورہ اجلاس میں فریقین میں باہمی اشتراک کی وسعت اور مشرق وسطیٰ و افغانستان کی صورتحال سمیت دو طرفہ اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال بھی ہوا۔یہ بڑی خوش آئند بات ہے پاک روس تعلقات جو سوویت یونین کے زوال کے بعد سرد مہری کا شکار تھے ،بتدریج اب بہتری کی جانب گامزن ہیںاور مختلف شعبوں میں پاک روس اشتراک بڑھ رہا ہے۔ وطن عزیز کو اس وقت جن اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے اس میں خطے کی اہم طاقت روس سے تعلقات کا فروغ یقیناً مثبت پیش رفت ہے۔بشکریہ جنگ نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...