جمعہ , 14 دسمبر 2018

اسرائیلی پابندیاں، غزہ کی صنعت تباہی کے دھانے پر!

دو ہفتے قبل اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی اورمقبوضہ مغربی کنارے کے درمیان تجارتی آمد ورفت کے لیے استعمال ہونے والی ’کرم ابو سالم‘ گزرگاہ مکمل طور پر بند کردی تھی۔غزہ کی پٹی اور غرب اردن کی تزویراتی گذرگاہ کی بندش کے باعث سب سے زیادہ نقصان اہالیان غزہ کو پہنچ رہا ہے۔ غزہ کی پٹی میں پہلے سے تباہی سے دوچار صنعت کے شعبے کو مزید غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے۔

غزہ میں مقامی سطح پر اب بہت کم کارخانے باقی رہ گئے ہیں۔ زیادہ تر فیکٹریاں خام مال کی عدم موجودگی کے باعث بند ہوچکے ہیں۔ حالیہ پابندیوں کے بعد مزید کئی کارخانے بند اور بعض بندش کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

غزہ میں ایک مقامی کولڈرنگ کمپنی کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ عاھد مھدی نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ غرب اردن سے خام مال کی سپلائی بند ہونے کے بعد ان کی فیکٹری بھی بند ہوچکی ہے جس کے باعث نہ صرف عام شہریوں کو کولڈرنک کی فراہمی متاثر ہے بلکہ درجنوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کرم ابو سالم گذرگاہ کی بندش کے بعد اگلے پانچ روز میں انہوں نے 70 فی صد کام بند کردیا تھا۔ ان کے پاس موجود خام مال کا تمام اسٹاک ختم ہو چکا ہے اور اب وہ افسوس کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ خام مال کی عدم دستیابی کے باعث وہ فیکٹری کا کام مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کولڈرنک فیکٹری سے 90 افراد کا روزگار وابستہ ہے اور فیکٹری کی بندش سے ایک سو خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔

فلسطینی قومی صنعت تباہ کرنا اسرائیل کا ہدف
عاھد مہدی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے کرم ابو سالم گذرگاہ بند کرکے نہ صرف غزہ کو تجارتی سامان کی فراہمی بند کی ہے بلکہ اس سازش کا ایک مقصد غزہ کی پٹی کی قومی صنعت کو تباہ کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کولڈرنک کمپنی سنہ 2005ء میں قائم کی گئی تھی۔ سنہ 2008ء کی جنگ میں اسے بمباری کر کے مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔ انہوں نے پھر اپنی مدد آپ کے تحت اس کا ڈھانچہ کھڑا کیا۔ سنہ 2014ء کی جنگ میں اسے دوبارہ بمباری کر کے ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ صہیونی حکام نے یہ الزام عاید کیا کہ ان کی فیکٹری میں سوڈا تیار کیا جاتا ہے جسے جنگی مقاصد کے لیے بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں فلسطینی کاروباری شخصیت نے کہا کہ ان کی فیکٹری میں 330 ملی لیٹر، ایک لیٹر اور دو لیٹر کی کولڈرنگ کی بوتلیں تیار کی جاتی ہیں۔جون سے اکتوبر تک ان کے ہاں کولڈرنک مشروبات کی کافی طلب رہتی ہے۔

بے روزگاروں کی فوج
فلسطینی اقتصادی امور کے تجزیہ نگارمحمد ابو جیاب نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پٹی پہلے ہی غیرمعمولی اور غیر مسبوق اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے۔ غزہ کو بنیادی استعمال کے خام مال کی شدید قلت کا سامنا ہے۔خام مال کی شدید قلت کے باعث غزہ میں پہلے ہی دسیوں کار خانے بند ہوچکے ہیں اور غزہ کی پٹی میں کارخانوں کی بندش کے باعث بے روزگاروں کی ایک فوج بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں جاری معاشی بحران کے باعث مقامی شہریوں کی قوت خرید بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور علاقے میں کاروباری سرگرمیاں اور شاپنگ کا تناس تاریخ کی نچلی ترین سطح پر آگیا ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...