جمعہ , 14 دسمبر 2018

عمران خان نے کیا کیا یاد دلادیا!

(تحریر: سید ثاقب اکبر)
میں سکول میں پڑھتا تھا کہ سورۃ ماعون یاد کرنا پڑی اور اس کا ترجمہ بھی، جس میں ہے کہ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے، جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے، یہ وہی شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔۔۔ سکول ہی میں فتح مکہ کا مضمون بھی پڑھنا پڑا، جس میں بتایا گیا کہ رسول اللہ ؐ نے اپنے خون کے پیاسوں کو فتح مکہ کے دن معاف کر دیا۔ نبی پاک کی سیرت اور ہمسایوں کے حقوق کے مضامین میں ہمیں یہ بھی پڑھایا گیا کہ آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص پیٹ بھر کر سو رہے اور اس کا ہمسایہ بھوکا ہو، وہ ایسے ہی ہے جیسے مجھ پر ایمان ہی نہیں لایا۔ نبی پاک ؐ کے بارے میں یہ بھی پڑھا کہ جب ایک بڑے خاندان کی عورت کو چوری کرنے پر آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو احباب نے آپ سے گزارش کی کہ یہ ایک بڑے خاندان کی عورت ہے، اس پر آپ نے فرمایا کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ؐ کی جان ہے کہ اگر محمد ؐ کی بیٹی فاطمہ ؑ بھی چوری کرے گی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ آپ کے اس فرمان سے مدینہ کی ریاست میں قانونی مساوات اور اس کی بالادستی کا تصور میرے ذہن میں جاگزیں ہوگیا۔

جوان ہوئے تو امیرالمومنین حضرت علی ؑ کی سیرت کے بارے میں کتابیں پڑھنے کا موقع ملا اور آپ کے خطبوں اور مکتوبات پر مشتمل کتاب نہج البلاغہ بھی زیر مطالعہ رہی۔ عجیب و غریب کتاب ہے اور علی عجیب و غریب رہبر ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:”خدایا تو جانتا ہے کہ قیام اور حکومت سے ہمارا مقصد، اقتدار سے محبت اور مال و دولت کا حصول نہیں بلکہ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ تیرے دین کو اس جگہ پر لوٹا سکیں، جہاں وہ تھا اور تیرے شہروں کی اصلاح کرسکیں، تاکہ تیرے مظلوم بندے امان میں رہیں اور تیری جن حدود کو ترک کر دیا گیا ہے، ان کو قائم کرسکیں۔” اپنے ایک گورنر عثمان ابن حنیفؓ کے نام لکھتے ہیں:”اے ابن حنیفؓ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ بصرہ کے جوانوں میں سے ایک شخص نے تمہیں کھانے پر بلایا اور تم لپک کر پہنچ گئے کہ رنگا رنگ کے عمدہ عمدہ کھانے تمھارے لئے چن چن کر لائے جا رہے تھے اور بڑے بڑے پیالے تمہاری طرف بڑھائے جا رہے تھے۔ مجھے امید نہ تھی کہ تم ان لوگوں کی دعوت قبول کر لو گے کہ جن کے یہاں سے فقیر و نادار دھتکارے گئے ہوں اور دولت مند مدعو ہوں۔”

یونیورسٹی میں پہنچے تو ایران میں انقلاب کی تحریک زوروں پر تھی، پھر ایک درویش صفت انسان امام خمینی کی قیادت میں انقلاب کامیاب ہوگیا، ہر روز امام خمینی کی تقاریر مختلف ذرائع سے پڑھنے اور سننے کو ملتیں۔ آپ کے واقعات سامنے آنے لگے۔ معلوم ہوا کہ جب انقلاب کی کامیابی کے بعد آپ کو رہائش کے لئے شاہ کے محلات میں سے کسی محل کے انتخاب کی تجویز دی گئی، تو آپ نے اسے ٹھکرا دیا اور اپنے لئے کسی سادہ عمارت کے انتخاب کا حکم دیا۔ بعد میں بھی عالی شان عمارتیں تجویز کی گئیں تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم نے میرے لئے کوئی سادہ عمارت انتخاب نہ کی تو میں قم چلا جاؤں گا اور تمھاری حکومت تمہارے حوالے کر جاؤں گا اور وہاں جا کر درس و تدریس میں مشغول ہو جاؤں گا۔ آخر کار تہران کے گنجان آباد محلے جماران میں اپنے لئے دو کمروں کا پرانا سا گھر انتخاب کر لیا گیا۔ ایک کمرہ ذاتی ضروریات کے لئے اور ایک مہمانوں اور وفود سے ملاقاتوں کے لئے۔ امام خمینی کی اس طرح کی باتیں سننے کو ملتیں کہ اسلام کمزوروں کے لئے آیا ہے اور اس کی پہلی نظر انہی پر ہے۔ اسلام کا راستہ یہ ہے کہ ہم محروموں کی حمایت کریں۔

ہم اسلام عظیم کی پیروی کرتے ہوئے تمام مستضعفین کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک موقع پر فرمایا:”اللہ جانتا ہے کہ میں آگاہ ہوں اور رنجیدہ رہتا ہوں، میں دور افتادہ دیہات اور قصبوں سے آگاہ ہوں، میں لوگوں کی بھوک سے واقف ہوں، میں زراعت اور کھیتی باڑی کی بے سروسامانی سے واقف ہوں، اللہ جانتا ہے کہ گاہے میں اس فکر میں پڑ جاتا ہوں کہ آنے والی سردیوں میں کیا گزرے گی، میں بہت غمزدہ ہو جاتا ہوں۔ ان بیچاروں کے پاس کیا روٹی بھی ہے یا نہیں۔ اس بدقسمت قوم پر ان سیاہ سردیوں میں کیا گزرے گی۔” وہ کبھی اپنے حکام سے فرماتے:”میرے عزیزو! اپنے تئیں اسلام اور محروم قوم کی خدمت کے لئے آمادہ کرو، بندگان خدا کی خدمت کے لئے کمر ہمت باندھ لو کہ انہی کی خدمت اللہ کی خدمت ہے۔” امام خمینی سرمایہ داروں کے لئے بہت سخت الفاظ استعمال کرتے تھے، وہ انہیں بے رحم اور موٹی گردنوں والے جیسے خطابات دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ بیشتر بری عادتیں عوام تک امراء اور سرمایہ دار طبقے سے پہنچی ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا:”گذشتہ ادوار میں ہم نے ان محل نشینوں سے بہت صدمے اٹھائے ہیں، ہماری پارلیمان انہی محل نشینوں سے بھری ہوتی تھی۔ ان کے درمیان گنتی کے چند جھونپڑی نشین تھے اور یہی چند جھونپڑی نشین تھے، جو بہت سے انحرافات کو روکتے تھے۔”

1987ء میں علامہ عارف حسینی شہید کی قیادت میں مینار پاکستان پر قرآن و سنت کانفرنس منعقد ہوئی، میں سٹیج سیکرٹری تھا۔ عظیم اجتماع تھا، جو جوش اور ولولے سے سرشار تھا۔ علامہ عارف حسینی نے تقریر شروع کی تو ایک ایک جملہ ان کے سوز دل کی تاثیر سے، دل سے نکلتا تھا اور دل میں جاگزیں ہو جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے اس موقع پر مولا علی ؑ کے ایک خطبے سے ان کا یہ فرمان سنایا:لو لا حضور الحاضر و قیام الححۃ بوجود الناصر۔۔۔ "اگر اس قدر جمعیت میری بیعت کے لئے ٹوٹ نہ پڑتی اور اس قدر مددگار میسر ہونے سے حجت قائم نہ ہو جاتی اور اللہ نے علماء سے یہ پیمان نہ لیا ہوتا کہ ظالم کے پیٹ بھرنے اور مظلوم کے بھوکا رہ جانے پر چین سے نہ بیٹھ جانا تو میں خلافت کی اونٹنی کی مہار اس کی کوہان پر پھینک دیتا۔”

عمران خان کی ویسے تو بہت سی تقاریر سنیں، لیکن ان کی وکٹری سپیچ نے مجھے حیران کرکے رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاوس میں نہیں رہوں گا، مجھے اس محل میں جاتے ہوئے شرم آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں سادگی اختیار کروں گا اور اپنے وزراء اور ساتھیوں سے سادگی اختیار کرنے کو کہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں عوام کے ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کروں گا۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں کس طرح کا پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں، میری انسپائریشن نبی کریم ؐ کی مدینہ کی ریاست ہے۔ اس ریاست میں جیسا انسانیت کا نظام آیا، پہلی دفعہ ایک فلاحی ریاست بنی، ایک ریاست نے ذمہ داری لی اپنے کمزور طبقے کی۔ پہلی دفعہ ایک ریاست نے بیواؤں، معذوروں اور یتیموں کی ذمہ داری لی۔ پہلی دفعہ یہ نوبت آئی کہ خلیفہ نے کہا کہ اگر کتا بھی بھوکا مرے تو میں ذمہ دار ہوں گا۔ میری انسپائریشن یہ ہے کہ پاکستان میں اس طرح کا انسانیت کا نظام آئے، جہاں ہم اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لیں۔ اس وقت ہماری ریاست اس کے برعکس ہے۔ یہاں جانوروں کا نظام ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ کمزور بھوکے مر رہے ہیں۔

جس ریاست کے اندر آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہو یا اس پر زندگی بسر کر رہی ہو، اس ریاست کے اندر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ عظیم خواب تھا، جو ہم نے پاکستان کے لئے دیکھا تھا۔ ہماری تمام پالیسیز کمزور طبقے کو اٹھانے کے لئے بنیں گی۔ انہوں نے مزید کہا: میری کوشش ہوگی کہ ہم اس نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کے لئے اپنا پورا زور لگائیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارا سارا ملک ایسے سوچے، کسی ملک کی پہچان یہ نہیں ہوتی کہ اس کے امیر لوگ کیسے رہتے ہیں، ملک کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ ان کا غریب طبقہ کیسے رہتا ہے۔ کوئی ملک جس میں امیر لوگوں کا ایک چھوٹا سا جزیرہ ہو اور غریبوں کا سمندر ہو، ترقی نہیں کرسکتا۔ ویسے تو انہوں نے بہت مرتبہ ریاست مدینہ کو اپنا ماڈل قرار دیا، تاہم انہوں نے اپنی وکٹری سپیچ میں اسے خاص طور پر اپنے ماڈل کی حیثیت سے ذکر کیا، مدینہ کی ریاست کس معنی میں ان کے لئے آئیڈیل ہے، اس کی انھوں نے مزید وضاحت کی: مدینہ کی ریاست وہ پہلی ریاست تھی، جو فلاحی ریاست تھی، انہوں اصول وضع کئے تھے، قانون کے سامنے سب برابر تھے، جہاں انسانیت تھی، جہاں میریٹ تھا، جہاں عدل تھا یعنی پیسے والے سے پیسہ لے کر نچلے طبقے پر خرچ کرتے تھے۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ کیسے ایک ریاست کو ایسے اصولوں پر قائم کیا جائے کہ اس سے دنیا کی ایک عظیم تہذیب جنم لے۔ ہم نے انہی اصولوں پر پاکستان کو لانا ہے۔

انہوں نے اپنے مخالفین کو معاف کرنے کے جذبے کا اس وقت مظاہرہ کیا ہے، جب وہ وزیر اعظم کی حیثیت سے اقتدار سنبھالنے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں، چنانچہ انہوں نے اپنی وکٹری سپیچ میں کہا: میں سب پاکستانیوں کا اتحاد چاہتا ہوں، میں اپنے تمام مخالفین جنہوں نے مجھ پر ذاتی حملے کئے ہیں۔ میں سب کچھ بھول چکا ہوں۔ یہ میری ذات کا مسئلہ نہیں، میرے ملک کا مسئلہ ہے۔ میرا ہدف میری ذات سے بہت بڑا ہے۔ میں ثابت کروں گا کہ یہ پہلی حکومت ہوگی، جو کسی قسم کے سیاسی عناد کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ کسی مخالف کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ہم قانون کی بالادستی قائم کریں گے۔ قانون کی بالادستی سے مراد ہمارا کوئی غلط کرے گا، اسے بھی قانون پکڑے گا۔ جو بھی ملک کے قانون کے خلاف جائے گا، اس کے خلاف اقدام کیا جائے گا۔

پنجاب اسمبلی کے اپنے منتخب اراکین سے انہوں نے 8 اگست کو خطاب کرتے ہوئے کہا: دو قسم کی سیاست ہے، ایک ذاتی سیاست جس میں پیسہ بنانے آتے ہیں اور ذاتی سیاست نے سیاست دانوں کو ذلت دی ہے، کیونکہ ذاتی سیاست میں عوام کا نام لے کر اقتدار میں آکر اپنی ذات کا سوچتے ہیں، دوسری سیاست وہ ہے، جو پیغمبروں نے کی ہے اور پیغمبر انسانیت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ میں لوگوں سے وعدہ کرکے آیا ہوں کہ مدینہ کی ریاست بنانی ہے۔ انصاف میرٹ پر کرنا ہے، میں فیصلے میرٹ پر اور قوم کے مفاد کے لئے کروں گا، آپ نے عوام کے پیسے کو اللہ کی امانت سمجھنا ہے اور قوم کا پیسہ بچانا ہے، تاکہ عوام کی فلاح پر خرچ کیا جاسکے۔ عمران خان نے اپنے ساتھیوں سے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ہم لوگوں کی امیدوں پر پورے نہ اترے تو وہ ہمارے ساتھ بھی وہی سلوک کریں گے، جو انہوں نے ایم ایم اے اور اے این پی کے ساتھ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی ذات کو مثال بناؤں گا۔ اپنے ساتھیوں سے بھی مثال بننے کے لئے کہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب میری ذات سے شروع ہوگا اور پھر میرے وزراء سے۔ انہوں نے وزیراعظم کا پروٹوکول مہیا کئے جانے کو ناپسند کیا اور انہوں نے کہا کہ میں اتنا بڑا پروٹوکول نہیں لوں گا اور یہی نصیحت اپنے ساتھیوں کو بھی کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میری وجہ سے عوام کو تکلیف نہیں ہونا چاہیے۔

میں مسلسل سوچ رہا ہوں کہ یااللہ! یہ میں کیا سن رہا ہوں؟ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ یہ پاکستان میں کیسا شخص سامنے آگیا ہے؟ یہ کیسی باتیں کر رہا ہے؟ اس کی ایسی ہر بات سن کر ’’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔‘‘ ہزار بدگمانیاں کی جاسکتی ہیں کہ ہم ماضی کے ڈسے ہوئے ہیں، طرح طرح کے وسوسے دل میں آتے ہیں کہ ناقدین کہتے ہیں کہ ماضی میں یہ شخص ایسا تھا، یہ شخص ویسا تھا، لیکن فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والوں کو رضی اللہ عنہ کی دعا دینے والے کیا خود ایک کامیاب ہونے والے راہنما کو موقع دیں گے کہ وہ اپنی سچائی کو ثابت کرسکے۔ ہمارا نقطہ نظر تو واضح ہے کہ عمران خان جو کچھ کہ رہے ہیں، اگر اسی راستے پر گامزن دکھائی دیئے تو ہم ان کے لئے دعا گو بھی ہیں، خیر خواہ بھی، انتظار بھی کریں گے اور حمایت بھی؛ لیکن اگر انہوں نے جو خواب دکھائے ہیں، انہی کے ہاتھوں ٹوٹ گئے تو پھر ٹوٹے ہوئے دلوں کی صدا عرش الٰہی سے پہلے کہیں نہیں رکتی۔

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...