ہفتہ , 18 اگست 2018

ایران کی اقتصادی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کا آپشن

(تحریر: سعید علی پٹھان)
آبنائے ہرمز جس کو فارسی میں تنگہ ہرمز کہتے ہیں، یہ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان وہ جگہ ہے جہان سے دنیا کے تیل کی 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے جبکہ سمندر کے ذریعے ہونے والی ترسیل کا 35 فیصد یہاں سے گزرتا ہے، جس کی چوڑائی 54 کلومیٹر یا 29 ناٹیکل میل ہے، یہ عالمی واپار کے حوالے سے نہایت ہی اہم جگہ ہے۔ خلیج فارس میں ایرانی بحریہ کی مشقوں سے امریکہ کو تشویش ہے، اس سلسلے میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزوف وٹل نے کہا کے کہ ہم حد سے زیادہ خلیج فارس پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو۔ امریکی جنگ کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کو بند کر لیتا ہے تو دنیا میں تیل کا بحران پیدا ہوگا، جس سے تیل کی قیمتیں ضرور بڑھیں گی، مگر مشرق وسطیٰ جنگ کی ایسی لپیٹ میں آئے گا، جس سے عالمی امن ختم ہو جائے گا۔

مئی 2018ء میں امریکہ کے ایران اور فائیو پلس ون سے نکلنے کے اعلان کے بعد ایران کی معاشی اور اقتصادی ناکہ بندی کرنے کیلئے ایران پر منگل کو پابندیاں عائد کی ہیں، جن کا مقصد امریکہ کی وہ درینہ خواہش ہے کہ ایران کو کمزور کیا جائے۔ دنیا کے امن کیلئے خطرہ امریکی صدر نے اپنی دھمکی میں کہا ہے کہ جو کوئی ایران کے ساتھ کاروبار کر رہا ہے، وہ امریکہ کے ساتھ تجارت نہیں کرسکتا، کیونکہ وہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور معیشت ہے۔ ایران کی معیشت کا زیادہ تر انحصار تیل کی برآمد پر ہے، اس لئے امریکہ پابندیوں کے ذریعے تیل کی برآمد کو روکنے کی سازش کر رہا ہے۔ چار دہائیوں سے زیادہ امریکی پابندیوں اور جنگوں کے باوجود ایران کو نظریاتی طور پر کمزور نہیں کرسکا تو اب یہ پابندیاں بھی امریکی ذلت کے سوا کچھ نہیں۔

ایرانی ان پابندیوں کو معاشی جنگ کے اعلان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے امریکی سازشوں کو "ایرانی قوم کے خلاف نفسیاتی جنگ” قرار دیا ہے۔ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ اگر ان کے ملک کی تیل کی برآمدات بند کر دی گئیں تو کوئی اور بھی خلیج کے ذریعے تیل لے کر جا نہیں سکے گا۔ مسٹر ٹرمپ دنیا میں امن کے بجائے مشرق وسطیٰ کو ایک اور تباہ کن جنگ میں دھکا دے رہے ہیں۔ القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلمانی نے کیا خوب جملہ کہا ہے کہ تم جنگ شروع کرسکتے ہو مگر وہ ختم ہمارے کہنے پر ہوگی۔ امریکہ کی 40 برس سے یہ کوشش ہے کہ وہ ایران کی حکومت کو تبدیل کرے، یہ وقت بتائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ خلائی فوج کیوں تیار کر رہا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خلائی فوج قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ...