جمعہ , 14 دسمبر 2018

پاکستان میں داعش پھر متحرک۔۔۔ نئی حکومت کی اولین ترجیح کیا ہونی چاہیے؟

(تحریر: محمد حسن جمالی)
راقم سمیت مذہبی، لسانی اور علاقائی تعصبات سے ماوراء ہوکر انسانیت کی بھلائی کے لئے قلم استعمال کرنے والے دلسوز قلمکاروں نے بار بار اپنی تحریروں میں اس نکتے کی جانب ہر خاص و عام کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ داعش انسانیت کے خلاف پروان چڑھی ہوئی ایک بےبنیاد فکر کا نام ہے، جس نے شروع میں کمزور عقیدے کے حامل لوگوں کے دل و دماغ میں اپنے لئے جگہ بنائی اور بہت کم مدت میں اس کا دائرہ پھیلتا گیا۔ بشمول پاکستان دنیا کے مختلف ممالک میں اس غلط فکر کی خوب تبلیغ ہوئی جس کے نتیجے میں بہت سارے جوان و نوجوان داعشی فکر کی تبیلغ کرنے والے زرخرید غلاموں کی تبلیغ سے متاثر ہوکر گمراہ ہوئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس غلط فکر کی تبلیغ کرنے والے عناصر کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ کیوں وہ جوانوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف جلب کرکے اپنا ہمفکر بنانے میں کامیاب ہوئے؟ جواب یہ ہے کہ داعشی فکر کی تبلیغ کرنے والوں کی ظاہری کامیابی کے بہت سارے اسباب و عوامل گنے جا سکتے ہیں، سر دست ایک بڑا سبب جہاد جیسی عظیم عبادت کے مفہوم کو توڑ مروڑ کر اس کا غیر حقیقی اپنے من گھڑت مفہوم سے جوانوں کے خالی شاداب ذہنوں کو پر کرنا ہے۔

قرآن و سنت میں جہاد کی بڑی اہمیت بیان ہوئی ہے اور علمائے حقہ نے اپنی فقہی کتابوں میں منابع اصلی سے مفہوم جہاد اور اس کی شرائط استخراج کی ہیں۔ فقہ کے اندر جہاد خود ایک مستقل باب ہے جس میں اس عظیم عبادت کی تفصیلات موجود ہیں، جنہیں سمجھ کر غور سے مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ جس جہاد کی طرف داعشی مبلغین تبلیغ کرتے ہیں اس کا اسلامی جہاد سے دور دور کا بھی تعلق نہیں۔ اسلام کے تمام فرائض و احکامات انسان کی فطرت، عقل اور منطق کے موافق ہوتے ہیں نہ مخالف اور داعشی ٹولے جس جہاد کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اسے نہ انسان کی فطرت قبول کرتی ہے اور نہ ہی عقل سلیم کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جو بھی سلفی اور تکفیری نظریات کو قبول نہ کرے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم اس کے خلاف تلوار اور بندوق اٹھاکر جہاد کرنا واجب ہے اور اسے قتل کرنے والا بغیر کسی تردید کے جنتی ہے۔ چنانچہ اسی غلط عقیدے کے بل بوتے پر شام، عراق، افغانستان اور پاکستان میں اس نجس ٹولے نے بے شمار مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے، اس منحوس گروپ کا سرپرست اعلیٰ امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں آل سعود نے نواز شریف کے اقتدار کے دوران اس فکر کو پروان چڑھا کر تناور درخت کی شکل میں تبدیل کردیا اور جس کی شاخیں ملک کے کونے کونے میں پھیلادئے گیے البتہ اس فکر کا نام ضرور تبدیل ہوتا رہا، کھبی طالبان، کبھی القاعدہ رہا تو کھبی داعش –
یہاں تک کہ امنیت کے اعتبار سے پاکستان کے تمام شہروں کے لئے آئیڈیل بنا ہوا خطہ امن گلگت بلتستان بھی طالبانی یا داعشی فکر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، بلکہ گلگت بلتستان کے کچھ مقامات پر تو سعودی عرب کے ريال نے لوگوں کے دلوں میں داعش یا طالبان کی اتنی محبت پیدا کی کہ وہ اسے ہی اپنا مسیحا سمجھنے لگے جن میں سرفہرست چلاس دیامر وغیرہ شامل ہیں۔ ان جگہوں کے باسیوں نے خطے کی امنیت اور اپنے علاقائی محبت سمیت حمیت و غيرت دینی کو داؤ پر رکھتے ہوئے طالبان یا داعشی فکر کا استقبال کیا اور بہت سے اس فکر کو قبول کرکے طالبان یا داعشی ٹولے میں شامل ہوگئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ ان پر امن جگہوں پر شدت پسندی میں اضافہ ہوتا گیا اور وہاں کے رہنے والوں نے مختلف صورتوں میں کھبی چھپ کر تو کھبی آشکارا طور پر اپنی شدت پسندی کا مظاہرہ کرتے رہے اور دو اپریل 2012ء کو تو دن دھاڑے اس لعین ٹولے نے سکردو جانے والے مسافرين کی بسوں پر حملہ کرکے اپنے نجس وجود کا کھل کر اظہار کردیا، انہوں نے بسوں سے مسافروں کا شناختی کارڈ چیک کرتے ہوئے انہیں بسوں سے اتار کر 20 افراد کو فقط شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے کے جرم میں پتھروں سے کچلنے کے بعد ان کی لاشوں کو جلا کر ان کی بے حرمتی کر کے رہتی دنیا تک کے لئے تاریخ گلگت بلتستان میں ایسی درندگی کا ریکارڈ ثبت کرایا جو بے سابقہ تھا اور تاقیامت آنے والی نسلیں ان دہشتگردوں پر لعنت بھیجتی رہیں گی- اس دلخراش سانحے کے بعد پوری دنیا پر یہ واضح ہوا کہ چلاس میں دہشتگردوں کی ٹھیک طریقے سے تربیت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود متعلقہ ذمہ دار افراد نے پوری توجہ سے دہشتگردوں کے اس مرکز پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی یہاں تک کہ قاتل آج بھی دندناتے آذاد پھر رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چلاس میں مضبوط ہوتے گئے.

وہاں کے مقیم لوگوں نے یہ سوچ کر خاموشی اختیار کی کہ طالبان ایک خاص مسلک کے دشمن ہیں لیکن انہی شدت پسندوں نے چھے سال بعد دیامر میں ایک درجن سے زائد سکولوں کو نذر آتش کرکے عملی طور پر یہ ثابت کردکھایا کہ داعش یا طالبان کسی خاص مسلک کے دشمن نہیں بلکہ وہ تو انسانیت کے دشمن ہیں، وہ علم ترقی اور پیشرفت کے مخالف ہیں، وہ نہیں چاہتے ہیں کہ خود اپنے علاقے کے بچے بھی تعلیم یافتہ ہوں۔ اہلیان دیامر یاد رکھیں یہ سانحہ آخری ہرگز نہیں، جب تک آپ شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے مل بیٹھ کر سر جوڑ کر اپنے علاقے اور گاؤں سے دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کے لئے سنجیدہ لائحہ عمل طے نہیں کریں گے، جب تک آپ طالبانی یا داعشی فکر کی تبلیغ کرنے والوں کا راستہ نہیں روکیں گے اور جب تک آپ اپنے علاقے اور گاؤں سے ان کے ہمفکر سہولت کار کالی بھیڑوں کو نکال باہر نہیں کریں گے آپ کو ایسے سانحات اور واقعات کا سامنا کرتے رہنا پڑے گا۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق سکولز جلانے والے شرپسندوں کے خلاف پولیس اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔ اب تک 31 شرپسندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے فورسز پر فائرنگ کی گئی جس سے پولیس اہلکار عارف حسین شہید ہو گیا، 3 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ فورسز کی جوابی کارروائی میں ایک دہشت گرد ہلاک جبکہ 2 کو گرفتار کر لیا گیا۔ ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق دہشت گرد کی شناخت شفیق کے نام سے ہوئی جو علاقہ میں کمانڈر شفیق کے نام سے مشہور تھا۔ سرچ آپریشن کے دوران دہشت گرد کے ٹھکانے سے خودکش جیکٹ، دستی بم اور اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ الیکشن میں بہت سارے دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو بری طرح شکست کا سامنا ہوا ہے جس کے بعد سے پاکستان میں داعشی ٹولے ایک بار پھر متحرک دکھائی دے رہے ہیں، سانحہ دیامر سمیت دو دن قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں اسی ٹولے کے ہاتھوں چند منٹ میں دہشت گردی کے 3 واقعات میں تین افراد شھید ہو چکے ہیں،۔ ٹارگٹ کلنگ کا پہلا سانحہ چودھوان موڑ عربی مسجد کے قریب پیش آیا ہے، جس میں دہشتگردوں نے باقر حسین بلوچ نامی شخص پہ فائرنگ کی۔ متعدد گولیاں لگنے سے باقر حسین ولد ہاشم حسین سکنہ ببر پکہ موقع پہ ہی شہید ہوگیا۔ قاتل ارتکاب جرم کے بعد فرار ہوگئے۔ شہید باقر حسین کے پہلے بھی 2 بھائی دہشت گردی میں شہید ہو چکے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کی دوسری کارروائی پروا تھانہ کی حدود ماہڑہ اڈا کے قریب ہوئی، جس میں نامعلوم افراد نے کالو خان ولد حیدر خان پر فائرنگ کی۔ جس سے وہ موقع پہ ہی دم توڑ گیا۔ ٹارگٹ کلنگ کی تیسری کارروائی بھی پروا ہی کی حدود میں ہوئی، جس میں حفاظت اللہ سکنہ پکہ ببر جاں بحق ہو گیا۔ یکے بعد دیگرے تیسرے بھائی کی شہادت کے خلاف شہید باقر حسین کے لواحقین نے قریشی موڑ کے قریب لاش سڑک پہ رکھ کر دھرنا دے دیا ہے اور انڈس ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دیا ہے۔ جس سے دونوں جانب ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ ڈی پی او ڈیرہ موقع پہ پہنچ گئے ہیں، جہاں لواحقین اور ڈی پی او کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ شہید باقر حسین کے بھائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ علاقے میں شیعہ نسل کشی جاری ہے، میرے تین بھائی دہشتگردی میں شہید ہو چکے ہیں جبکہ کوئی پرسان حال نہیں۔ عدم تحفظ کے باعث اہل تشیع نقل مکانی پہ مجبور ہیں۔ بے شک پاکستان میں داعش پھر متحرک ہو چکی ہے ایسے میں پاکستان میں موجود دہشتگردوں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن کرکے وطن عزیز کو داعشی، تکفیری اور سلفی انسانیت کے دشمن دہشتگرد عناصر سے پاک کرنا نئی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔

یہ بھی دیکھیں

پی ایم پورٹل کے اثرات

(مظہر بر لاس)  یہ لاہور کی ایک سانولی دوپہر تھی، میں چند دوستوں کے ساتھ ...