ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

پاکستانی اور افغانی طالبان کے بعد عیسائی طالبان

(نغمہ حبیب)
امریکہ اس وقت دنیا کی واحد سپرپاور مانا جاتا ہے، وہ خود کو عالمی امن کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے اور امن کی بحالی کے نام پر نجانے کتنے ملکوں کو خون میں نہلا چکا ہے۔ وہ چاہے جو کہے کہ وہ پاکستان، افغانستان، عراق اور دوسرے ملکوں میں دہشتگردی کیخلاف لڑنے گیا تھا حقیقت یہ ہے کہ وہ خود دہشتگردی کا سب سے بڑا حامی بلکہ اس کی وجہ ہے۔ وہ جس ملک میں بھی گیا وہ ملک دہائیوں کی کوشش کے باوجود بھی اس عفریت سے نجات نہیں پا سکا نہ تو وہاں دھماکے بند ہوتے ہیں نہ معیشت بحال ہوتی ہے، نہ انفراسٹرکچر اپنی پرانی حالت پر آتا ہے اور امریکہ یہ ساری تباہ حالی چھوڑ کر چلتا بنتا ہے اور کسی اور ملک پر حملہ آور ہو جا تا ہے جو عموماً اسلامی ممالک ہوتے ہیں۔

خود کو انتہائی لبرل کہنے والا امریکہ دل میں اسلام کیلئے جو تعصب رکھتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، اس میں کسی صدر کی کوئی تخصیص نہیں۔ اگر ٹرمپ علی الاعلان یہ تعصب کرتا ہے تو باقی دل میں اسلام سے خوفزدہ ہو کر اس کے مخالف ہیں۔ امریکہ کبھی ایک نام سے دہشتگردوں کی نشونما کرتا ہے اور کبھی دوسرے سے، انہیں مالی اور تکنیکی مدد بہم پہنچاتا ہے اور جب ایک گمراہ گروہ کو اندازہ ہو جاتا ہے یا ہونے لگتا ہے کہ وہ کس بُری طرح استعمال ہو رہا ہے اور خود کو امریکی اثر سے آزاد کرنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے تو وہ دوسرے کو سامنے لے آتا ہے جسے امریکہ نے پہلے ہی تیار کرنا شروع کیا ہوتا ہے۔

آیئے اب امریکہ کے اندر کی خبر لیتے ہیں۔ امن امریکہ میں بھی نہیں اور انہی ’’امن پسند‘‘ امریکیوںکے ہاتھوں نہیں۔ اس وقت امریکہ میں سب سے زیادہ عوامی اسلحہ 265ملین بندوقیں عوام کے پاس موجود ہیں یعنی ہر بالغ امریکی کے پاس ایک سے زیادہ بندوق ہے، یہ تعداد اور تناسب دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں۔ یہ بندوقیں پہلے بھی دہشت پھیلانے کیلئے نکلتی تھیں لیکن اب بڑے تسلسل سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے اور پچھلے پانچ سال میں اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور عوامی مقامات پر قتلِ عام یا کھلے عام اجتماعی قتل کی وارداتیں مسلسل بڑھی ہیں۔

پچھلے سولہ سال یعنی 2001سے2017 تک امریکہ میں اسلامی تشدد پسندی کے سال شمار کئے جاتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر ایسے واقعات میں امریکی ہی مجرم پائے گئے یعنی ایسا کرنے والے ’’عیسائی طالبان‘‘ ہیں ناکہ ’’مسلمان طالبان‘‘ ویسے یہ مسلمان طالبان خاص کر پاکستانی مسلمان طالبان بھی امریکہ ساختہ ہیں۔ یہ عیسائی طالبان کبھی حقوق کیلئے جدوجہد کے نام پر قتلِ عام کرتے ہیں، کبھی سیاست کے نام پر، کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی قومیت کے نام پر ایسا ہوتا ہے۔ ان عیسائی طالبان میں ہمارے ہاں کے امریکی ساختہ طالبان کی طرح بچے اور نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں ملنے والے خودکش سر پندرہ سے بیس بائیس سال کی عمر تک کے ہوتے ہیں اور کچھ تعلیم یافتہ یا تعلیمی اداروں کے طلباء بھی امریکہ کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں اسی طرح امریکہ میں بھی اسی عمر کے افراد حملہ آور ہو کر کئی ایک کی جان لے لیتے ہیں بلکہ وہاں تو وہ اپنے ہی سکول کالج یا یونیورسٹی کے طلباء کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں کہیں اور سے یہ خودکش جیکٹ پہن کر آتے ہیں اور خود کو دوسروں کیساتھ ہی اُڑا دیتے ہیں جبکہ امریکہ میں یہ دوسروں کو مار کر خود کو بھی گولی مار دیتے ہیں خودکشی بہرحال دونوں کا مقدر بنتی ہے لیکن ایک طرف یہ دہشتگرد کہلاتے ہیں تو دوسری طرف ذہنی مریض۔

2000 میں ایک ایسے ہی بچے کی عمر صرف چھ سال تھی جس نے اپنے چھ سالہ ہم جماعت کو گولی ماری یہ کوئی بھی کم عمرترین قاتل ہے جس نے سکول کے اندر قتل کیا اور اسے مانا۔ اسی طرح ان تعلیمی اداروں کے دیگر بالغ طلباء اور اساتذہ نے بھی ایسے کئی حملے کئے ہیں ایک بیس سالہ طالب علم نے ایک حملے میں پہلی جماعت کے بیس بچوں کو قتل کیا جن کی عمریں چھ اور سات سال تھیں۔ صرف 2017-18 میں ایسے تقریباً چالیس واقعات ہوئے۔ کہنے کو امریکی بچہ بہت محفوظ ماحول میں پڑھتا ہے لیکن خود انہیں بچوں میں دہشتگردی کے رجحانات اتنے زیادہ ہیں اور مسلسل پرورش پا رہے ہیں کہ امریکہ جیسی سپرپاور کیلئے بھی اس پر قابو پانا مشکل ہے اور اس میں یقیناً زیادہ ہاتھ لفظ دہشتگردی کی اس گردان کا ہے جو وہ اپنی حکومت سے سنتے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ سوائے چند غیر ملکی حملہ آوروں کے یہ سب امریکی تھے لیکن پھر بھی امریکی دہشتگرد نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی حکومت انہیں دہشتگرد کہنے کو تیار ہے۔ یہ واقعات وہاں کی ہر ریاست اور معاشرے کے ہر حصے میں موجود ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ اوپر درج شدہ اعداد وشمار میں کوئی بھی واقعہ دشمنی کا نہیں بلکہ تمام کے تمام شدت پسندی اور دہشتگردی کے ہیں لیکن امریکہ پھر بھی ’’ شدت پسند‘‘ نہیں۔

امریکی نکتہ نظر کو تو چھوڑئیے ہمارے عام لوگوں سے لیکر دانشوروں تک سب امریکی لبرل ازم کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ ہم نے اپنی ہونہار طالبہ سبیکہ شیخ کی لاش وصول کر کے بھی اسے دہشتگردی نہیں بلکہ صرف جرم ہی کہا جبکہ نہ صرف پاکستان کو بلکہ امریکی دہشتگردی سے متاثر ممالک کو اس امریکی روئیے پر شدید احتجاج کرنا چاہئے اور اسے اس بات پر مجبور کرنا چاہئے کہ وہ ان تمام بقول خود جرائم کو دہشتگردی کے واقعات اور ان تمام حملہ آوروں کو جن کو وہ ذہنی مریض یا مجرم کہتا ہے دہشتگرد بلکہ ’’عیسائی طالبان‘‘ قرار دے کر ان کیخلاف اسی طرح کی جنگ کا اعلان اور آغاز کرے جس طرح کی جنگ کا اعلان اس نے پوری دنیا خاص کر اسلامی ممالک میں کر رکھا ہے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب نے صحافی جمالی خشوگی کے قتل کی تصدیق کردی

جمال خشوگی کو استنبول میں سعودی سفارتخانے میں قتل کیا گیا، سعودی عرب نے صحافی ...