ہفتہ , 18 اگست 2018

کیا بچوں سے بھری بس ’’ملٹری ٹارگٹ‘‘ ہے ؟

(تسنیم خیالی)
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن میں تمام حدیں پار کردیں اور اب یہ سمجھ سے بالا تر ہوگیا ہے کہ کس بےغیرتی سے سعودی اتحاد کے ترجمان ان فضائی کارروائیوں کو جائز قرار دے رہے ہیں جن مین بیسیوں بچے مارے جارتے ہیں 4سال ہونے کو ہیں سعودی اتحاد جدید ترین لڑاکا طیاروںکے ذریعے یمنی شہروں کو گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنارہے ہیں اور حملوں کے بعد اس قاتل اتحاد کے ترجمان یہ کہتے ہیں کہ حملوں میں ملٹری ٹارگٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ حملے قانونی لحاظ سے جائز ہیں ، کیا واقعی یہ حملے عالمی طور پر واضح کردہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی نہیں  ؟

دو روز قبل سعودی اتحاد یمنی صوبہ صعدہ کے ایک علاقے میں معصوم بچوں سے بھری بس کو فضائی حملے میں نشانہ بناتے ہوئے سفاکیت کی ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے ، اس حملے میں 43 افراد شہید جبکہ 63 زخمی ہوگئے، شہید ہونے والوں میں زیادہ بچے شامل ہیں حملے کے بعد سعودی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے اس حوالے سے پریس کانفرنس میں انتہائی سرد مہری اوربے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ قانونی طور پر جائز ہے کیونکہ اس میں ’’ملٹری ٹارگٹ‘‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے المالکی کے مطابق حملے میں سعودی علاقے جازان پر بیلسٹک میزائلز داغنے والوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو کہ عالمی قوانین کےعین مطابق ہے ؟!!!

آپ کویاد دلاتے چلیں کہ چند روز قبل سعودی اتحاد کے طیاروں نے الحدیدہ کے علاقے میں بھی ایک فضائی کارروائی کرتے ہوئے 55شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے دیگر 170کو زخمی کردیا تھا، الحدیدہ میں گزشتہ متعدد ہفتوں سے شدید جھڑپیں ہورہی ہیں اور ان جھڑپوں میں سعودی اتحاد زمینی ، فضائی اور بحری فورسز کا بے لگام استعمال کررہا ہے ، اس کے باوجود وہ ابھی تک الحدیدہ کا کنٹرول حاصل نہیں کرسکے جس سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ سعودی اتحاد اپناغصہ الحدیدہ کے شہریوں کو نشانہ بنا کر کم کرنے کی کوشش کررہا ہے یعنی اتحاد کے لڑاکا طیارے جان بوجھ کر شہری اور بچوں کو نشانہ بنار ہے ہیں اور یہ بہانہ کہ شہری اور بچوں کو ’’غلطی ‘‘ سے نشانہ بنایا گیا ہے جھوٹ اور بکواس ہے۔

یہاں ہم کرنل ترکی المالکی سے سوال کرتے ہیں کیا ان بچوں نے جازان پر بیلسٹک میزائل داغاتھا؟ کیا ان بچوں نے میزائل کو اسی بس سے داغا تھا جسے آپ کے طیاروں نے نشانہ بنایا تھا؟ اگر ایسا ہی ہے تو برائے مہربانی آپ اسکی تشریح کریں کہ ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے ؟ اور مہربانی فرما کر ایسی کوئی ویڈیو بھی دکھا دیں جس میں یہ بچے اپنی بس سے میزائل داغتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہوں کیونکہ آپ لوگوں کے پاس تو ایسے کیمرے موجود ہیں جو آسمان سے ایک چیونٹی کی بھی ویڈیو بنا سکتے ہیں ۔

عالمی ’’ریڈ کریسنٹ‘‘ کے ادارے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سعودی کے طیاروں نے ہی بچوں سے بھری بس کو نشانہ بنایا اور اس بات کو بھی دہرایا ہے کہ عالمی قانون جنگ کی حالت میں شہریوں کی جانوں کی حفاظت پر زور دیتا ہے ، سعودی اتحاد 3سال سے بھی زائد عرصے سے یہی دعویٰ کرتا آرہا ہے کہ اتحاد کے لڑاکا طیارے تمام تر احتیاطات برتتے ہوئے حملے کرتے ہیں تاکہ شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچے یا پھر نقصان سے اجتناب کیا جائے، مگر صعدہ ، الحدیدہ اور دیگر یمنی علاقوں میں ہونے والے قتل عام سے یہی ثابت ہورہا ہے کہ سعودی اتحاد کے دعوے جھوٹے ہیں خاص طور پر بازاروں ، مساجد، سکولز اور شادی ہالز کو نشانہ بنایا گیا ۔
آخر میں ہم 10 لاکھ بار یہی کہیں گے کہ یمن کا معاملہ جنگ کے ذریعے حل ہوناناممکن ہے اور اس اتحاد کو جان لینا چاہئے کہ فضائی کارروائیاں اور میزائلوں کے ذریعے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا اور ہاںاس سفاکیت اور بربریت پر دنیا کی خاموشی زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گی اور ناہی سعودی اتحاد کے ترجمان کے بہانے کسی کو قائل کرسکیں گے، آپشن یہی ہے کہ سعودی اتحاد شرافت سے یمن سے نکلے نہیں تو وہ بے عزت ہو کر نکلنے پر مجبور ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ خلائی فوج کیوں تیار کر رہا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خلائی فوج قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ...