ہفتہ , 18 اگست 2018

سکولوں پر حملے: دہشت گرد پھر سر اٹھانے لگے

(سینیٹر رحمان ملک)
گلگت اور بلتستان کے بارہ سکولوں پر حملے کے واقعے سے ایک بار پھر ٹی ٹی پی کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ القاعدہ ‘ ٹی ٹی پی اور داعش دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔ انتہا پسندی جارحیت اور دہشت گردی کے عوامل کا اگر بنظر غائر جائزہ لیں تو اس تمام صورتحال میں مذہبی جذباتیت کارفرما نظر آئے گی۔ امریکہ نے جہاد کے نام کی آڑ میں افغانستان میں سوویٹ روس کیخلاف جنگجو¶ں کی ایک کھیپ تیار کی اور ان کے مذہبی خیالات اور جذبات سے کھیل کر انہیں روس کیخلاف جنگ پر اکسایا۔ پاکستان سوچے سمجھے اور اس امر کا ادراک کئے بغیر اس جنگ میں کود پڑا اور کسی نے یہ نہ سوچا مستقبل میں اپنے قومی افق پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
امریکہ کو روس کا راستہ روکنے اور مقابلہ کرنے کیلئے مذہبی جوشیلے ’مجاہدین‘ کی مدد کی ضرورت تھی۔ اس نے پاکستان کے راستے افغانستان میں غیر ملکی مجاہدین کی بھرتی کی حوصلہ افزائی کر کے اور ان کی بھرپور مدد کی تو پاکستان بھی دنیا کی نظروں کا مرکز بن گیا۔ امریکہ نے جلد غیر متوقع طور پر واپسی کی راہ لی اور جہادیوں کیلئے تنخواہیں اور فنڈز اچانک روک لئے گئے ‘ تو اس کا نتیجہ افغانستان میں طالبان کی شکل میں سامنے آیا۔ اس صورتحال کو القاعدہ ‘ اس کے لیڈر اسامہ بن لادن اور مسلمان ملکوں میں موجود طالبان کے حامیوں کے باعث مزید بڑھاوا ملا اور ان کی کارروائیوں میں تیزی پیدا ہوئی۔پاکستان کے مصائب کا آغاز اس وقت ہوا جب بے روزگار پاکستانی اور غیر ملکی ’مجاہدین‘ کا پاکستان میں موجود مذہبی انتہا پسند گروپوں کے ساتھ میل جول بڑھا اور انہوں نے یہاں فرقہ واریت کی جنگ شروع کی۔ 9/11 کے بعد امریکہ نے افغانستان میں ایک حملہ آور کی حیثیت سے قدم رکھا تو پاکستان دہشت گردی کیخلاف مبینہ جنگ میں ایک بار پھر طالبان کیخلاف امریکہ کا ساتھی بن گیا۔

دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے حصہ دار بننے سے انتہا پسند مذہبی گروپوں کو بادی النظر میں افغانستان میں اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے کا جواز اور بہانہ مل گیا۔ لیکن دوسری طرف اس کے ساتھ یہ ان کے لئے مال غنیمت میں سے اپنا حصہ بٹورنے کا بھی ایک سنہری موقع تھا۔ منتشر اور بکھرے ہوئے انتہا پسند آخر کار تحریک طالبان پاکستان کے نام سے بننے والے نئے دہشتگرد گروپ کی چھتری تلے جمع ہو گئے جس کا لیڈر بیت اﷲ محسود تھا جو اب ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ گروپ افغانستان کے اندر‘ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیخلاف دہشت گردی کی کارروائیاں تو کرتے ہی تھے ‘ اب انہوں نے بلا امتیاز پاکستان میں بھی اپنی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ٹی ٹی پی نے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ساتھ دینے پر پاکستان کے معصوم اور بے گناہ شہریوں ‘ سرکاری عمارتوں ‘ اہلکاروں بشمول آرمی ‘ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کو خودکش بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جس سے پاکستان کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے انتہا جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ کے پی کے بالخصوص قبائلی علاقے ان سرگرمیوں کا زیادہ نشانہ بنے۔

ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادیوں کا اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کو برحق قرار دینے کا بنیادی اور تین نکاتی ایجنڈا ہے۔ پاکستان افغانستان میںامریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ اپنا تعاون ختم کر دے۔ ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ ہو‘ اگرچہ ٹی ٹی پی اور اس کے ساتھ وابستہ افراد شرعی قوانین کے نفاذ کے حوالے سے کبھی زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آئے وہ لڑکیوں کی روایتی تعلیم کو غیر اسلامی قرار دے کر اس سے انکار کرتے ہیں۔ قوم نے اسلام کے ان نام نہاد ٹھیکیداروں کے ہاتھوں بڑے مصائب برداشت کئے اور عین اس وقت جب امید کی جا رہی تھی کہ القاعدہ اور ٹی ٹی پی کا اثر و رسوخ اور سرگرمیاں ملک میں ماند پڑ گئی ہیں ‘ تو ملک میں ایک دوسرے دہشت گرد ٹولے کی موجودگی کے آثار نمودار ہونے لگے جو بین الاقوامی طور پر داعش یا آئی ایس آئی ایس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ملک میں اس کی موجودگی کے آثار اس کی مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث سامنے آئے۔ اس میں کسی شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں کہ داعش یا آئی ایس آئی ایس کو امریکہ نے نہ صرف یورپ بلکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کے تعاون سے اپنے جیوپولیٹیکل مفادات کے تحت عراق اور شام میں تخلیق کر کے سرمایہ فراہم کیا۔ عراق سے نکلنے کے بعد ان کی افغانستان میں موجودگی واضح مقاصد کے تحت امریکہ کی مدد اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ اب یہ ٹولہ امریکہ اور بھارت کی مدد اور آشیر باد سے اپنی پاکستان مخالف شناخت قائم کر چکا ہے جو اپنے آقا¶ں کے اشارے پر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتا اور اسے عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے سرگرم ہے۔

پاکستان کے دہشت گردوں کے نشانے پر ہونے کے پس منظر کے باعث سی پیک زون میں دیامیر کے بارہ سکولوں کو جلانے کا واقعہ پاکستان مخالف قوتوں کی طرف سے ایک کھلے پیغام کے مترادف ہے۔ مجھے تشویش ہے کہ یہ علاقہ چین اور پاکستان کے درمیان واقع ہے۔ میں نے اس سے قبل بھی چتا¶نی دی تھی کہ مستقبل میں علاقے میں ردعمل کے طور پر تخریب کاری ہو گی جس سے ممکن ہے کہ سی پیک کو خطرات لاحق ہوں۔ امریکی ڈیفنس سیکرٹری کے اس بیان کو نہیں بھولنا چاہئے کہ ون بیلٹ ون روڈ متنازعہ سرزمین سے گزرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کا انداز اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش سے کم نہیں۔ اسی طرح بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کا بھی یہ بیان نہیں بھولنا چاہئے جو سی پیک کو بھارت کے لئے ایک ناقابل قبول پراجیکٹ قرار دے چکے ہیں۔

سی پیک کا منصوبہ چین اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے اور مخالف قوتیں مختلف حیلے بہانوں اور کارروائیوں سے اسے سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ خطے میں خوف و ہراس پھیلانے کے لئے بارہ سکولوں کو جلانے کا واقعہ بھی ان کی کوئی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے‘ یہ قوتیں اس طرح کی مزید کارروائیاں بھی کر سکتی ہیں۔ ہماری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو غیر معمولی چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سی پیک کے خلاف امریکہ‘ بھارت کی شہ پر ہونے والی تخریب کاری کی کوششوں کو روکنا اور شرپسند عناصر کو لگام دینا ہو گی۔ دیامیر میں بارہ سکولوں پر حملہ اینٹ پتھر کی عمارتوں پر حملہ نہیں بلکہ یہ ایک چیلنج اور ہماری پوری قوم کے خلاف حملہ ہے۔ یہ دہشت گردانہ حملہ خوف و ہراس پھیلانے اور اس علاقے کو سی پیک کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے تھا۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ نئی حکومت اپنی تشکیل کے مراحل میں ہے۔ دہشت گرد جس انداز میں اکٹھے ہو کر سامنے آ رہے ہیں یہ لگتا ہے ان کی پاکستان مخالف کوششوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ کے پی کے‘ گلگت بلتستان کی حکومتوں بشمول آزاد کشمیر حکومت کوانٹیلی جنس معلومات کے حوالے سے تعاون کرنا چاہئے کہ وہاں سپیشل برانچ کا ادارہ موجود نہیں۔ یہ بات اور بھی زیادہ باعث تشویش ہے کہ گلگت بلتستان حکوت کی طرف سے لڑکیوں کی تعلیم اور ان کے سکولوں کے خلاف باتیں کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ریاست فعال نہیں اور اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے کی اپنی آئینی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہو رہی۔

میری پریشانی یہ ہے کہ دہشت گردوں نے اپنی دہشت گردی کی کارروائیاں شاہراہ قراقرم کے قریب شروع کر دی ہیں‘ اس لئے ہمیں ضرورت ہے کہ ہم خنجراب سے گوادر تک اپنی انٹیلی جنس اور سیکورٹی میں اضافہ کر دیں تاکہ سی پیک منصوبے کے خلاف اس طرح کی سازشوں اور گلگت بلتستان میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ سی پیک کاریڈور کے باعث پاکستان کا یہ علاقہ انتہائی حساس ہو چکا ہے۔ سی پیک کی مکمل حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے گلگت بلتستان کے مقامی شرپسندوں کے علاوہ علاقے میں موجود بھارت اور دوسری مخالف قوتوں کے ایجنٹوں پر نظر رکھنا اور ان کی سرگرمیوں کو لگام دینا ناگزیر ہے۔ ملکی ایلیٹ ایجنسیوں کو ان شرپسندوں کیخلاف بروقت کارروائی عمل میں لانے کیلئے اپنی کوششوں میں غیر معمولی اضافہ کرنا ہو گا۔ (ترجمہ: محمد شریف کیانی)

یہ بھی دیکھیں

امریکہ خلائی فوج کیوں تیار کر رہا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خلائی فوج قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ...