جمعرات , 18 اکتوبر 2018

مذہبی تعصب کے باعث تشدد جرم ہے، نریندر مودی

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے مذہبی منافرت کی وجہ سے مشتعل ہجوم کی جانب سے اقلیتوں کے قتلِ عام کو سنگین جرم قرار دے دیا۔بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ایک گمراہ کن طبقہ ملکی سیاست میں شامل ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کو ملک میں ہونے والے ریپ اور مشتعل ہجوم کے تشدد سے ہلاکت کے واقعات پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایسے تمام واقعات سنگین جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور اپوزیشن کو اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔نریندر مودی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور ان کی جماعت نے متعدد مرتبہ ایسے واقعات کی مخالفت کی ہے، جو ریکارڈ پر موجود ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھارتی ریاست راجستھان میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک شخص کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا تھا جس پر کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ نریندر مودی ملک میں مذہبی منافرت کے پھیلنے کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ مودی کے سفاکانہ ’نئے بھارت‘ میں انسانیت کی جگہ نفرت نے لے لی ہے اور عوام کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ 20 جولائی کو بھارتی ریاست راجستھان میں گائے کی اسمگلنگ کے الزام پر مشتعل ہجوم نے مسلمان شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا تھا۔

انڈین میڈیا نے مذہبی منافرت کی وجہ سے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کے واقعات کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ نریندر مودی کے حکومت سنبھالنے کے بعد سے لے کر اب تک پورے ملک میں مذہبی منافرت کی وجہ سے قتل کے 40 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 45 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

واضح رہے کہ ہندو اکثریتی آبادی والے ملک بھارت میں گائے کے ذبح اور اس کی اسمگلنگ کے حوالے سے کشیدگی میں گزشتہ چند سالوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں ریاست جھارکھنڈ سمیت متعدد ریاستوں میں گائے کو ذبح کرنا قابلِ سزا جرم ہے۔بھارت میں گائے کے مبینہ ذبح اور اس کا گوشت کھانے پر متعدد افراد بالخصوص مسلمانوں اور دَلتوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ہی بھارت کی ریاست اتر پردیش میں مشتعل ہجوم نے مبینہ طور پر گائے ذبح کرنے کا الزام لگا کر 2 مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں ایک ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

کینیڈا: بھنگ کی پیدوار اور خرید و فرخت پر پابندی ختم

اوٹاوا (مانیٹرنگ ڈیسک) کینیڈا نے تقریباً ایک صدی بعد ‘بھنگ‘ کی پیداوار اور خرید و ...