ہفتہ , 22 ستمبر 2018

سعودی عرب کا پاکستان کی جانب جھکاؤ ریاض کی بقا کا معاملہ ہے؟؟

(تحریر: ابوفجر لاہوری)
لیجیئے صاحب! ریاض نے پھر اسلام آباد کا رخ کر لیا ہے۔ جس طرح سیاست میں بھی کوئی مستقل دشمن یا حریف نہیں ہوتا ایسے ہی ملکوں کے مابین تعلقات بھی باہمی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں حریف حلیف اور حلیف حریف بنتے دیر نہیں لگاتے، یہ صرف عوام کیلئے ہوتا ہے کہ فلاں ملک ہمارا دیرینہ دوست یا اس کیساتھ ہمارے برادارنہ رشتے استوار ہیں۔ ملکوں کے درمیان ہمیشہ مفادات پر مبنی رشتے استوار ہوتے ہیں اور یہی سچائی ہے۔ پاکستان کے کئی حلقوں میں ملک کا قریبی دوست سمجھا جانیوالا ملک سعودی عرب نواز شریف کے دورِ حکومت میں اسلام آباد سے ناراض نظر آیا لیکن حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بار پھر خوشگوار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

کینیڈا کے ساتھ کشیدگی کے مسئلے پر پاکستان کی طرف سے ریاض کی حمایت اور اسلامی ترقیاتی بینک کی طرف سے پاکستان کیلئے 4 بلین ڈالرز کے قرضے کے اعلان کے بعد پاکستان کے کئی حلقوں میں یہ تاثر اُبھر رہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے پھر سے قریب آ رہے ہیں۔ تاہم کئی ناقدین اس قربت کے ممکنہ نتائج پر بھی غور و فکر کر رہے ہیں۔ کچھ اس قربت کو پاکستان کیلئے بہتر سمجھتے ہیں جبکہ کچھ کے خیال میں قدامت پرست بادشاہت یہ سب کچھ اپنے مفاد کیلئے کر رہی ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کے خیال میں ان تعلقات میں بہتری کی ایک وجہ عمران خان کی شخصیت بھی ہے۔

میڈیا میں سامنے آنیوالی آراء سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کو معلوم تھا کہ نواز شریف اور ان کی حکمران جماعت چاہے کتنے ہی دعوے کر لے لیکن وہ قابلِ بھروسہ نہیں۔ عمران خان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ اس لیے سعودی عرب سمیت دنیا کے کئی ممالک پاکستان سے بہتر تعلقات کرنے کے خواہاں ہیں، جو ملک کیلئے بہت اچھی بات ہے۔ نواز شریف نے سعودی عرب کو 2 بار دھوکا دیا جس کی وجہ سے اُن کے دورِ حکومت میں حالات ناخوشگوار ہوئے۔ پہلے تو نواز شریف نے مشرف کے دور میں ہونیوالے معاہدے کی پاسداری نہیں کی، جس پر ریاض ناراض ہوا، اور پھر یمن کے مسئلے پر نواز شریف نے ذاتی حیثیت میں سعودی عرب کو یقین دہانی کرائی کہ فوج یمن بھیجی جائے گی۔ تاہم پارلیمنٹ نے فوج بھیجنے سے صاف انکار کر دیا۔ نواز شریف کو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ایسا وعدہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

اب یہ خوش آئند بات ہے کہ ہمارے سعودی عرب سے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان یمن میں فوج نہیں بھیجے گا۔ پاکستان نے ریاض کو مشورہ دیا تھا کہ یمن کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ اب سعودی عرب کو بھی اس غلطی کا احساس ہو رہا ہے اور وہ بھی وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں کیونکہ یمن سے کبھی کوئی فتح حاصل کر کے نہیں نکلا۔ سعودی عرب اب پاکستان کیساتھ تعلقات میں بہتری اپنے مفاد میں لا رہا ہے۔ محمد بن سلمان اپنے حمایتی ڈھونڈ رہے ہیں۔ ریاض کو معلوم ہے کہ اسلام آباد کے انقرہ اور تہران سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔ تو پاکستان کی امداد کرکے وہ یہ امید کریں گے کہ اسلام آباد ان کی حمایت کرے۔ بین الاقوامی فورمز پر اگر ریاض کیخلاف کوئی ایکشن ہوتا ہے یا کسی مسئلے پر سعودی حکومت کی مذمت کی جاتی ہے، تو ایسی صورت میں پاکستان یا سعودی عرب کیساتھ کھڑا ہوگا یا پھر خاموش رہے گا لیکن کسی بین الاقوامی سطح پر سعودی مخالف اقدام کی حمایت نہیں کرے گا۔

اسلامی ترقیاتی بینک نے 4 بلین ڈالرز کے قرضے کا اعلان سعودی اشارے پر کیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بین الاقوامی یا علاقائی مالیاتی اداروں کو جو ملک جتنا زیادہ فنڈز فراہم کرتا ہے، تو ایسے اداروں پر پھر اُس ہی ملک کا زیادہ اثر و رسوخ بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ امریکا اور مغربی ممالک آئی ایم ایف کو زیادہ فنڈنگ دیتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس مالیاتی ادارے کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکا نے حال ہی میں آئی ایم ایف کو خبردار بھی کیا کہ وہ پاکستان کی مدد کرنے سے باز رہے۔ یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے حالات کے پیش نظر دنیا بھر کے ممالک سے اچھے تعلقات اور بہتر روابط پیدا کرنے کیلئے بین الاقوامی امور میں ماہرین کی خدمات حاصل کرے تاکہ ہمارا ایک جانب امیج بہتر ہو تو دوسری جانب ہم اس معاشی بحران سے نکل سکیں جس میں ہم دھنس چکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

حسینؓ ابن علیؓ دنیا کو حیران کر دیا تو نے

(ڈاکٹردوست محمد) انسانی تاریخ میں حضرت ابراہیمؑ نے اپنے چہیتے فرزند اسماعیلؑ کی قربانی کا ...