ہفتہ , 22 ستمبر 2018

سعودی عرب میں حاکم کی حمایت میں عجیب وغریب فتوے

(تسنیم خیالی)
سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن سلمان کے اقتدار میں آنے کے بعدیہ سعودی عرب وہ نہیں رہا جو پچھلی کئی دہائیوں سے چلا آرہا تھا، بن سلمان نے اقتدار میں آنے کے بعد کئی اہم تبدیلیاںکیں جو سعودی عرب کی سماجی صورتحال کو دیکھتے ہوئے معاشرے کے لئے عجیب وغریب تھیں علاوہ ازین بن سلمان کی خود ذاتی زندگی اور شہ خرچیاں بھی عوام کی بیزاری کا باعث بن چکی ہیں بن سلمان نے تو کفایت شعاری کا نعرہ لگا رکھا ہے مگر خود کفایت شعاری سے کوسوں دور ہیں ۔

علاوہ ازیں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال نے بھی سعودی عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، مہنگائی اور بے روزگاری نے سعودیوں کی چیخیں نکال دی ہیں اور اب سعودی عرب میںشاہ سلمان اور ولی عہد کو برا بھلا کہنا ایک عام سی بات ہوگئی ہے، حالانکہ سعودی عرب میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ،کسی نے کبھی فرمانروا اور ولی عہد کو برابھلا نہیں کہا۔

اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے سعودی عرب کے طول وعرض میں پھیلے ایسے علمائے دین اور مفتی حضرات سے استفادہ کیا جارہا ہے جو فرمانروا اور ولی عہد کے حامی ہیں اور جو ان کے ٹکڑوں پر پلنے کا احسان عجیب وغریب فتوے جاری کرکے ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

سعودی عرب کے ایک مشہور عالم دین اور مفتی ’’سعد السبر‘‘ نے سعودی عرب کے ٹی وی چینل ’’24‘‘ میں شاہ سلمان اور ولی عہد بن سلمان کے حق میں یہ بھی کہہ ڈالا ہے کہ اگر حاکم کافر بھی ہوتو اس کے خلاف اٹھنا جائز نہیں اور اگر وہ کافر حکمران جنگ کی تیاری میں ہے تو عوام پر واجب ہے کہ وہ اسکا ساتھ دیں ، سعود البسر کے اس فتوے سے چند روز قبل سعودی عرب کے ایک اور نامور مفتی اور عالم دین ’’عبدالعزیز الریس‘‘ نے بھی ایک فتوی جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر حاکم وقت سرکاری ٹی وی پر آدھے گھنٹے کے لئے زنا کرتے ہوئے یا پھر شراب پیتے ہوئے دکھائی دے تو بھی اسکی اطاعت واجب ہے اور اس کی مخالفت کرنا جائز نہیں اور ناہی اس پر تنقید کا کوئی جواز بنتا ہے ‘‘

آپ کو شاید اب تک اندازہ ہوچکا ہوگا کہ سعودی عرب میں شاہ سلمان اور بن سلمان کے اقتدار کو مضبوط کرنے کیلئے کیا کچھ کیا جارہا ہے اور کرانے کرنے والوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ یہاں اسلامی اقتدار کی مخالفت ہورہی ہے یا نہیں ۔

اس قسم کے فتوے بلاشبہ اسلامی اقتدار کے عین مخالف ہیں اور یہ مفتی حضرات تمام حدیں پار کرچکے ان سے تو بہتر امریکی نکلے جو ابھی تک اپنے صدر ڈونلڈٹرمپ پر لگائے گئے سنگیں جنسی الزامات کے معاملے کی تہہ تک جارہے ہیں ، آپ کو یاد ہوگا جب سابق امریکی صدر بیل کلنٹن اور مونیکا کا جنسی اسکینڈل سامنے آیا تھا، یہ ایک زنا کا معاملہ تھا جس پر امریکی سخت نالاں تھے اور اس وقت کلنٹن کا بطور امریکی صدر مستقبل دائو پر لگ گیا تھا ۔

البتہ اب سعودی عرب جیسے اسلامی ملک میں حاکم کا زنائی ہونا قابل اعتراض بات نہیںاور اس کی اطاعت واجب ہے ، ایک دور تھا کہ یہی مفتی حضرات حاکم کے لئے سخت قسم کے معیار کا تعین کرتے تھے اور اس معیار پر اترنا حاکم کیلئے لازمی ہوا کرتا تھا اور اسے گناہوں سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی تھیں ۔مگر اب سب کچھ اُلٹ ہوگیا ہے اور حاکم جتنا مرضی گنہگار ہو یا پھر کافر اس کی اطاعت لازم ہے ، مگر کیا اس قسم کے جھوٹے اور غیر اسلامی فتوئوں سے سعودی فرمانروا اور ولی عہد کی حکمرانی قائم رہ سکے گی؟

یہ بھی دیکھیں

حسینؓ ابن علیؓ دنیا کو حیران کر دیا تو نے

(ڈاکٹردوست محمد) انسانی تاریخ میں حضرت ابراہیمؑ نے اپنے چہیتے فرزند اسماعیلؑ کی قربانی کا ...