بدھ , 21 نومبر 2018

ہندوستان، پاکستان کے بعد کیوں آزاد ہوا؟


(آصف جیلانی) 
برطانوی پارلیمنٹ نے بر صغیر کی آزادی اور انتقال اقتدار کی تاریخ 30 جون 1948 مقرر کی تھی اور اس مقصد کے لئے وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی نے لارڈ ماونٹ بیٹن کو آخری وا ئسرائے بنا کر ہندوستان بھیجا تھا جنہوں نے مارچ 1947 میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ لارڈ ماونٹ بیٹن کواتنقال اقتدار کی اس قدر عجلت تھی کہ انہوں نے اگلے دو مہینوں میں بر صغیر کے سیاسی رہنماوں سے طوفانی ملاقاتیں کرنے کے بعد 3 جون 1947 کو ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کا اعلان کر دیا تھا۔ اس عجلت کی وجہ لارڈ ماونٹ بیٹن نے یہ بتائی کہ اگر تاخیر ہوتی تو ہندوستان میں خانہ جنگی بھڑکنے کا خطرہ تھا۔ جواز انہوں نے یہ پیش کیا کہ مسلم لیگ کے قاید اعظم محمد علی جناح نے دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان کا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا اور کیبنٹ مشن کا پلان مسلط کیا گیا تو مسلم لیگ مسلح جدو جہد پر مجبور ہو جائے گی۔

برطانوی حکومت کی بر صغیر کی آزادی میں عجلت کی کئی اور وجوہات بھی تھیں۔ امریکا کا برطانیہ پر دباو تھا کہ ہندوستان کو جلد از جلد آزاد کیا جائے۔ پھر دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے برطانیہ کو سنگین مالی بحران کا سامنا تھا جس کی وجہ سے اسے اپنے آپ کو سنبھالنا بڑا مشکل تھا ایسے میں ہندوستان کی ذمہ داری بھی کندھوں پر رکھنا مشکلات کو دگنا کرنے کے مترادف تھا۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے پیش نظر برطانوی فوج کے لئے امن و امان کی صورت حال پر قابو پانا بہت مشکل ہو گیا تھا اور اسی دوران بحریہ میں بغاوت بھی بھڑک اٹھی تھی۔

لیکن اصل وجہ اس عجلت کی یہ تھی کہ لارڈ ماونٹ بیٹن جلد از جلد برطانیہ واپس جانا چاہتے تھے اور بحریہ کے سربراہ اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے عہدہ پر فائز ہونا چاہتے تھے۔ ان کے والد یہ عہدہ اس بناء پر حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے کہ وہ جرمن نژاد گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور دوسری عالم گیر جنگ کے دوران انہیں اسی وجہ سے اس عہدہ پر فائز نہیں کیا گیا تھا۔

ہندوستان کی آزادی کے لئے لارڈ ماونٹ بیٹن نے 15 اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔ وہ اس تاریخ کو اپنے لئے نہایت خوش قسمتی کا نشان سمجھتے تھے کیونکہ 1945 میں اسی روز جاپان نے دوسری عالم گیر جنگ میں اپنی شکست تسلیم کی تھی اور جاپان کے شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے لارڈ ماونٹ بیٹن کے سامنے جو اتحادی افواج کے کمانڈر انچیف تھے، ہتھیار ڈالے تھے۔

لارڈ ماونٹ بیٹن نے پندرہ اگست کی تاریخ تو طے کر دی لیکن ہندو جوتشیوں نے زایچہ بنا کر یہ دن بد شگون قرار دیا اور کانگریس نے اس روز انتقال اقتدار سے انکار کر دیا۔ مگر لارڈ ماونٹ بیٹن اسی تاریخ پر مصر تھے۔ آخر کار یہ طے کیا گیا کہ چونکہ انگریزی کیلنڈر کے حساب سے پندرہ اگست کا آغاز رات کو بارہ بجے ہو گا اور ہندو عقیدہ کے مطابق پندرہ اگست کا دن سورج طلوع ہونے کے بعد ہو گا، لہذا ہندوستان کی پارلیمنٹ میں چودہ اگست کو رات بارہ بجے ہندوستان کی آزادی کا اعلان نہرو کی اس تاریخی تقریر سے ہوا کہ ’’نصف شب کے گجر کے وقت جب دنیا سو رہی ہے ہندوستان زندگی اور آزادی کے ساتھ بیدار ہو رہا ہے‘‘

پاکستان چونکہ ہندوستان سے نکل کر ایک آزاد خود مختار مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشہ پر ابھرنا چاہتا تھا اس لئے یہ طے کیا گیا کہ اسے اقتدار ہندوستان کی آزادی سے پہلے 14 اگست کو منتقل کر دیا جائے۔ چنانچہ 14 اگست کی صبح کو لارڈ ماونٹ بیٹن اقتدار پاکستان کو منتقل کرنے اور گورنر جنرل کی حیثیت سے قائد اعظم سے حلف لینے کے لئے کراچی گئے تھے۔

لارڈ ماونٹ بیٹن قیام پاکستان کے بعد ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے مشترکہ گورنر جنرل بننا چاہتے تھے۔ قائد اعظم کا ذہن ٹٹولنے کے لئے انہوں نے ایک ملاقات میں قائد اعظم سے یہ سوال کیا کہ پاکستان میں گورنر جنرل کون ہو گا؟ قائد اعظم لارڈ ماونٹ بیٹن کی خواہش بھانپ گئے انہوں نے برجستہ کہا کہ میں گورنر جنرل ہوں گا۔ اس پر لارڈ ماونٹ بیٹن نے کہا کہ لیکن پاکستان تو پالیمانی جمہوریت ہو گا اور اس میں تو وزیر اعظم سب سے مقتدر شخص ہوتا ہے۔ قائد اعظم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میرے پاکستان میں نہیں ہو گا۔ ( India, (The Transfer of Power Papers 1947

لارڈ ماونٹ بیٹن آزادی کے دس مہینے تک ہندوستان کے گورنر جنرل کے عہدہ پر فائز رہے۔ یہ پراسرار اور تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو لارڈ ماونٹ بیٹن برطانیہ واپس جانے کے لئے بے تاب تھے اور انہوں نے انتقال اقتدار کی تاریخ 30 جون 1947ء سے تبدیل کر کے ایک سال پہلے کر دی لیکن انتقال اقتدار کے بعد انہوں نے کوئی عجلت نہیں دکھائی۔ ان کا ہندوستان کے گورنر جنرل کے عہدہ پر رہنا پاکستان کے لئے تباہ کن ثابت ہوا اور غالباً اس عہدہ پر برقرار رہنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ اس میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ یہ لارڈ ماونٹ بیٹن ہی تھے جن کے دباؤ کے تحت باونڈری کمیشن نے پنجاب کی تقسیم میں مسلم اکثریت والے گرداس پور کے ضلع کو ہندوستان میں شامل کیا تھا جس کے نتیجہ میں ہندوستان کو ریاست جموں و کشمیر میں راستہ دے کر کشمیر اور پاکستان پر ایسا کاری زخم لگایا تھا جو اب تک رس رہا ہے۔ اگر گرداس پور پاکستان میں شامل ہوتا تو ہندوستان کا کشمیر سے رابطہ ختم ہو جاتا۔

یہ اہم بات ہے کہ باونڈری کمیشن کے سربراہ سرل ریڈ کلف کا انتخاب خود لارڈ ماونٹ بیٹن نے کیا تھا۔ ریڈ کلف، لارڈ ماونٹ بیٹن کے پرانے دوست تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ہندوستان دیکھا نہیں تھا۔ ریڈ کلف جب اپنے فرائض سنبھالنے کے لئے دلی پہنچے تو کئی روز تک انہوں نے لارڈ ماونٹ بیٹن کے ساتھ قیام کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس دوران ماونٹ بیٹن نے ریڈ کلف کو اچھی طرح پٹی پڑھا دی تھی اور اسی کے مطابق ریڈ کلف نے سرحدوں کے تعین کے بارے میں ایوارڈ دیا۔ سر ظفر اللہ خان نے اپنی یاد داشت میں لکھا ہے کہ لاہور میں مسلم لیگ کے وکیلوں نے انہیں بتایا تھا کہ ریڈ کلف کے کمرے میں ایسے نقشے آویزاں تھے جن پر پہلے سے سرحدیں کھچی ہوئی تھیں ۔ اس بارے میں احتجاج کیا گیا لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

لارڈ ماونٹ بیٹن نے ریڈ کلف ایوارڈ کے اعلان کے سلسلہ میں جو عجیب و غریب رویہ اختیار کیا اس کی وجہ سے پاکستان کے ہاتھ بندھ گئے تھے۔ لارڈ ماونٹ بیٹن نے 16 اگست کو برطانوی وائسرائے کی حیثیت سے اپنی آخری رپورٹ میں لکھا تھا کہ انہیں ریڈ کلف ایوارڈ کے سلسلہ میں سب سے زیادہ تشویش یہ تھی کہ اگر انتقال اقتدار سے پہلے یہ ایوارڈ سامنے آ گیا تو اس پر سخت تنازعہ ہو گا اور خطرہ ہے کہ تقسیم کا عمل ٹھپ پڑ جائے۔

لارڈ ماونٹ بیٹن نے فریڈم ایٹ مڈ نائٹ لکھنے والے دو فرانسسی صحافیوں کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ چودہ اگست کو پاکستان کو اقتدار کی منتقلی اور قائد اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے جب وہ کراچی کے ہوائی اڈے پر اترے تو ریڈ کلف ایوارڈ ان کی جیب میں تھا۔ یہ ایوارڈ دہلی میں ہندوستان کی آزادی کے بعد شائع کیا گیا تا کہ دونوں ملکوں کے رہنما تقدیر سمجھ کر اسے قبول کرنے پر مجبور ہوں۔

سر سرل ریڈکلف 4 جولائی کو ہندوستان آئے تھے اور صرف چالیس دن یہاں قیام کیا اور سرحدوں کا تعین کیا۔ پندرہ اگست کو اپنے ایوارڈ کے اعلان کے پہلے ہی وہ وطن واپس چلے گئے اور جانے سے پہلے انہوں نے اپنے سارے کاغذات نذر آ تش کر دیےاور وطن واپسی کے بعد بھی انہوں نے ایوارڈ کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔

جس عجلت میں ایک سو چودہ دن میں بر صغیر کو تقسیم کیا گیا اور سرحدوں کے تعین کے بارے میں جو تباہ کن نا انصافیاں کی گئیں اس کے نتیجہ میں ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد گھر سے بے گھر ہو گئے اور پانچ لاکھ سے زیادہ افراد اس تقسیم کی بھینٹ چڑھے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...