جمعرات , 15 نومبر 2018

71 سالہ پاکستان کی 50 اچھی چیزیں

(ساگر سہندڑو)
مملکت خداداد 14 اگست 2018 کو 71 برس کا ہوا اور ملک بھر میں عوام نے وطن عزیز کی آزادی کا جشن روایتی انداز میں بھرپور طریقے سے منایا۔

ہر بار کی طرح اس بار بھی جشن آزادی کے دن پر وطن سے محبت کی قسمیں کھائی گئیں اور ماضی کو بھلا کر مستقبل سے اچھی امیدوں کی توقعات رکھی گئیں۔

آزادی کے جشن اور نئی امیدوں کے ساتھ ہی ملک بھر میں یہ ہمیشہ کی طرح یہ چہ مگوئیاں بھی سنائی دیں کہ اس ملک کو انگریزوں سے آزاد ہوئے تو 70 سال مکمل ہوچکے۔

تاہم ابھی تک یہ وطن یہاں دیسی انگریزوں سے آزاد نہیں ہوسکا اور عوام کے مسائل جوں کہ توں بلکہ بعض مسائل تو ماضی کے مقابلے زیادہ بدتر حالت کو پہنچ چکے ہیں۔

حکمراںوں اور متعدد حکومتی و ریاستی اداروں کی جانب سے صحیح معنوں میں اپنی ذمہ داریاں نہ نبھائےجانے کی وجہ سے آج بھی آزادی کا جشن مناتے لوگوں کو یہ افسوس ہے کہ ان کے وطن میں مثبت چیزوں سے زیادہ منفی چیزیں پائی جاتی ہیں اور یہاں پر کسی بھی بہتری اور اچھائی کی فوری امید نہیں کی جاسکتی۔

لیکن کیا واقعی اس ملک میں کوئی بھی اچھائی اور کوئی بھی مثبت چیزیں نہیں ہیں؟

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا کے تمام ممالک کی طرح پاکستان میں بھی مثبت اور اچھی چیزوں سے زیادہ بری اور منفی چیزیں ہیں۔

تاہم ایسا بالکل نہیں ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی قابل فخر چیزیں نہیں اور نہ ہی اس بات میں کوئی حقیقت ہے کہ اس ملک نے آج تک کوئی ایسے کارنامے سر انجام نہیں دیے جن پر فخر کیا جاسکے۔

یہ بھی سچ ہے کہ مثبت اور اچھی چیزوں کے برعکس بری اور منفی چیزیں بڑی لگتی ہیں اور ان کی وجہ سے کئی سالوں تک ملک میں مسائل موجود رہتے ہیں۔

جب کہ مثبت چیزوں پر غور نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان کی اہمیت کو سمجھا جاتا ہے۔

اگر آج بھی وطن پاکستان کے حالات، تاریخ، واقعات، غلطیوں، منفی اور مثبت چیزوں سمیت کامیابیوں اور ناکامیوں کا تجزیہ کیا جائے گا تو درجنوں ایسی اچھی چیزیں نظر آئیں گی، جن پر ایک پاکستانی کو فخر ہوگا۔

ایسی ہی اچھی اور مثبت چیزوں اور کامیابوں میں سے درج ذیل بھی ہیں۔

ایٹمی قوت
پاکستان کا شمار جہاں دنیا کے 8 ایٹمی قوت کے حامل ممالک میں ہوتا ہے، وہیں یہ دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے، اس منفرد اعزاز کا حامل ہے۔ایٹم بم دنیا کے کسی بھی دوسرے اسلامی ملک اور دنیا کے مجموعی طور پر 240 سے زائد ممالک کے پاس موجود نہیں۔

کم عمر نوبل پرائز
پاکستان نے اپنی 71 سالہ تاریخ میں 2 بار نوبل انعام جیتا ہے، پہلا نوبل انعام 1979 میں ڈاکٹر عبدالسلام کو فزکس کی خدمات پر دیا گیا تھا، انہیں یہ انعام دیگر 2 سائنسدانوں کے ساتھ دیا گیا تھا۔پاکستان کو دوسرا نوبل انعام 10 دسمبر 2014 کو محض 14 برس کی عمر میں ملالہ یوسف زئی کو دیا گیا۔

اتنی کم عمری میں دنیا کے کسی بھی شخص نے نوبل انعام نہیں جیتا، ملالہ یوسف زئی کو بھارت کے 60 سالہ سماجی کارکن کیلاش ستھیارتھی کے ساتھ دیا گیا تھا۔

دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس
معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی تو 2 سال قبل 8 جولائی 2016 کو چل بسے،تاہم ان کی خدمات اور ان کی جانب سے شروع کی گئی ایمبولینس سروس کی وجہ سے ان کا اور پاکستان کا نام دنیا بھر میں آج تک روشن ہو رہا ہے۔

ایدھی ایمبولینس سروس کو دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کا اعزاز حاصل ہے اور اس کا نام نہ صرف گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہے، بلکہ انہیں متعدد دیگر عالمی اداروں نے بھی ان کی اس سروس کو تسلیم کر رکھا ہے۔علاوہ ازیں ایدھی ایمبولینس سروس نے دنیا کے متعدد عالمی اداروں سے کئی ایوارڈز بھی حاصل کر رکھے ہیں۔

گہرے اور بہترین پورٹ
بلوچستان میں واقع گوادر پورٹ کو دنیا کا سب سے گہرا پورٹ تسلیم کیا جاتا ہے، اس کی گہرائی 47 فٹ تک ہے اور یہاں بیک وقت متعدد بحری جہاز کارگو کا کام سر انجام دے سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) اور پورٹ قاسم کا شمار بھی دنیا کے بہترین اور گہرے پورٹس میں ہوتا ہے۔

بہترین فوج
پاکستان کی تینوں مسلح افواج بری، بحری اور فضائیہ کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔پاکستان کی بری فوج کو نہ صرف مہارت کے حوالے دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک مانا جاتا ہے، بلکہ دفاعی ساز و سامان کے حوالے سے بھی اس کا شمار بہترین افواج میں ہوتا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک
اگرچہ حکومت پاکستان آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے اربوں روپے خرچ کرتی ہے، تاہم یہ پاکستان کا اعزاز ہے کہ وہ آبادی کے لحاظ سے چھٹے نمبر ہے۔دنیا کی مجموعی آبادی کا 2 اعشاریہ 63 فیصد پاکستان میں آباد ہے۔

بڑے معاشی ممالک میں سے ایک
پاکستان کی معیشت اور اقتصادی صورتحال میں گزشتہ چند سالوں سے مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے۔پاکستان کا شمار دنیا کی بڑی اقتصادی معیشتوں میں ہوتا ہے اور 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان معاشی لحاظ سے دنیا کا 13 واں بڑا ملک ہے۔

ذہین ترین قوم
اگرچہ ملک کے بعض سیاسی رہنما اور سماجی کارکنان عوام کو برا بھلا کہ کر یہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ پاکستانی قوم نااہل ہے، تاہم حقیقت اس کے بر عکس ہے۔

اگرچہ متعدد رپورٹس کے مطابق پاکستانی قوم ذہانت کے حوالے سے 10 بہترین اقوام میں شمار ہوتی ہے، تاہم ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی ذہانت کے حوالے سے دوسرے نمبر ہیں۔

نمک کی کانیں
پاکستان کا شمار ان ممالک میں بھی ہوتا ہے، جو نمک کی پیداوار کے حوالے سے بھی خود کفیل ہیں۔پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر جہلم کے قریب جہاں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان ‘کھیوڑہ‘ موجود ہے، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی نمک کی کانیں پائی جاتی ہیں۔

کھیوڑہ کان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کان زیر زمین 110 مربع کلومیٹر رقبہ پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں 19 منزلیں بنائی گئی ہیں جن میں سے 11 منزلیں زیر زمین ہیں اور یہ سکندر اعظم کے زمانے میں 322 قبل مسیح کو دریافت ہوئی تھی۔

دنیا کا سب سے بڑا اگایا جانے والا جنگل
ویسے تو پاکستان کے چاروں صوبے میں قدرتی جنگلات بھی پائے جاتے ہیں، تاہم صوبہ پنجاب کے شہر قصور کے قریب واقع معروف چھانگا مانگا جنگل کو دنیا کا سب سے بڑا اگایا جانے والا جنگل تسلیم کیا جاتا ہے، جو 12 ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔

اس جنگل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے انگریزوں کے دور میں 1865 میں انگریزوں نے کراچی سے امرتسر چلائی جانے والی ٹرین کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے لکڑی کی ضرورت پورے کرنے کے لیے اگایا تھا۔اس جنگل کو 2 بھائیوں چھانگا اور مانگا نے اگایا تھا۔

دنیا کی قدیم ترین تہذیب
اگرچہ پاکستان کو بنے ہوئے صرف 71 سال ہی ہوئے ہیں، تاہم اسے اعزاز حاصل ہے کہ اس ملک میں ایسے مقامات بھی موجود ہیں جہاں پر دنیا کی اولین ترین تہذیبوں میں سے ایک نے یہاں جنم لیا۔

صوبہ سندھ کے شمالی ضلع لاڑکانہ میں واقع موئن جو دڑو جسے موہن جو داڑو بھی کہا جاتا ہے، یہاں دنیا کی قدیم ترین تہذیب Indus Valley Civilization یعنی وادی سندھ کی تہذیب کا آغاز ہوا، اسے ہڑپہ کی تہذیب بھی کہتے ہیں۔

اس تہذیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کم سے کم 5 ہزار سال قبل مسیح پرانی ہے۔سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں آج بھی اس تہذیب کے کھنڈرات پائے جاتے ہیں۔

دنیا کا سب سے بڑا ڈیم
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر ہری پور کے قریب موجود تربیلا ڈیم کو مٹی سے تیار دنیا کے سب سے بڑے ڈیم اور بند کا اعزاز حاصل ہے، اس ڈیم کو 1968 میں عالمی بینک سمیت دیگر ممالک کی مدد سے تعمیر کیا گیا۔

دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی نظام
پاکستان کا شمار زرعی ممالک میں خود کفیل ممالک میں کیا جاتا ہے اور اس کا صحرا ملک کے آبپاشی نظام کو جاتا ہے، جس وجہ سے ملک کے کونے کونے تک بروقت پانی پہنچتا ہے۔

اگرچہ پاکستان کا موجودہ آبپاشی نظام بھی پاکستان کے قیام سے قبل بنا تھا اور اسے انگریزوں نے ہی بنایا تھا، تاہم اسے اعزاز حاصل ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی نظام ہے۔

خود کفیل زرعی ملک
پاکستان میں جہاں دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی نظام موجود ہے، وہیں یہ زراعت اور اشیاء خردونوش کی پیداوار کے حوالے سے بھی خود کفیل ملک ہے، بلکہ کئی زرعی اجناس کی پیداوار میں پاکستان کا شمار بڑے ممالک میں بھی ہوتا ہے۔

تاہم اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں غذائی قلت کے بحران بھی سر اٹھاتے ہیں۔

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی اور بلند پہاڑ
پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں بھی ہوتا ہے جہاں بلند و بالا پہاڑ پائے جاتے ہیں، یہی نہیں بلکہ ملک میں دنیا کی دوسری بڑی بلند چوٹی ‘کے ٹو’ بھی موجود ہے۔

کے ٹو کی بلندی 8611 ہے، جب کہ مجموعی طور پر دنیا کے 14 بڑے پہاڑوں میں سے 5 پاکستان میں موجود ہیں۔پاکستان میں موجود دیگر بڑے پہاڑوں میں نانگا پربت، گاشر برم اور بروڈ پیک سمیت دیگر شامل ہیں۔

بہترین شاعری پر مبنی قومی ترانہ
اگرچہ دنیا کے ہر ملک کے ہر شہری کو اپنے ہی ملک کا قومی ترانہ سب سے اچھا لگتا ہوگا، تاہم ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا قومی ترانہ دنیا کے 10 بہترین ترانوں میں سے دوسرے نمبر پر ہے۔

میٹھے پانی کی ایشیا کی سب سے بڑی قدرتی جھیل
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں واقع ‘منچھر جھیل’ کو جہاں پاکستان میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل کا اعزاز حاصل ہے، وہیں یہ ایشیا کی سب سے بڑی جھیل بھی ہے۔ساتھ ہی منچھر جھیل کو دنیا کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی قدرتی جھیلوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

کرکٹ کا ورلڈ چیمپیئن
پاکستان کا شمار دنیا ان ممالک میں بھی ہوتا ہے جہاں کے لوگ خصوصا نئی نسل کھیل میں بہت دلچسپی رکھتی ہے۔جنوبی ایشیاء کی طرح پاکستان میں بھی کرکٹ کا جنون سر چڑھ کر بولتا ہے اور پاکستان کو کرکٹ کھیلنے والے ڈیڑھ درجن ممالک میں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ 1992 میں ہونا والا کرکٹ کا عالمی کپ جیت چکا ہے۔اس اعزاز سے انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک بھی تاحال محروم ہیں۔

سب سے زیادہ ہاکی ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز
ہاکی جہاں پاکستان کا قومی کھیل ہے وہیں پاکستان اس کھیل کے سب سے زیادہ یعنی 4 عالمی کپ جیتنے والا بھی واحد ملک ہے۔ساتھ ہی حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان ہاکی کے 2014 میں ہونے والے ورلڈ کپ کا حصہ نہیں تھا،پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کے لیے کوالی فائی ہی نہیں کر پائی تھی۔

اسکاش کی فتوحات اور ریکارڈز
اگرچہ اس وقت پاکستان میں اسکاش دم توڑتی نظر آتی ہے مگر ماضی میں اسی کھیل میں پاکستان نے کئی ریکارڈز اور متعدد فتوحات حاصل کرکے منفرد اعزازات بنائے۔

اسکاش میں پاکستانی اعزازات کا آغاز پاکستان بننے کے محض 4 سال بعد ہی ہوا تھا اور پاکستان نےاس کھیل میں دنیا پر 50 سال تک حکمرانی کی۔اسکاش میں پاکستان نے 14 عالمی اعزازات اور 30 کے قریب برٹش اوپن کپ جیتنے سمیت کئی چھوٹے کپ بھی جیتے۔

اسکاش کے بہترین ترین کھلاڑیوں میں جہاں جہانگیر خان کا نام نمایاں ہے، وہیں ان کے کزن جان شیر خان سمیت ہاشم خان، روشن خان اور قمر زمان جیسے کھلاڑیوں نے بھی اس کھیل میں پاکستان کا نام روشن کیا۔

اسنوکر کھیل کے اعزازات
پاکستان نے جہاں کرکٹ،ہاکی اور اسکاش میں اعزازات حاصل کیے ہیں، وہیں مملکت خداداد کے پاس اسنوکر کے بھی متعدد اعزازات ہیں۔

اسنوکر لیجنڈ محمد یوسف اور محمد آصف کی بدولت پاکستان نے ورلڈ ٹیم اسنوکر چیمپیئن شپ،آئی بی ایس ورلڈ اسنوکر چیمپیئن شپ اور ایشین اسنوکر چیمپیئن سمیت دیگر ٹائیٹل جیتے ہیں۔

شہر خموشاں (مکلی کا قبرستان)
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ کے قریب موجود مکلی کے قبرستان کو دنیا کے بڑے قبرستانوں میں سے ایک مانا جاتا ہے، جب کہ اسے ایشیا کے سب سے بڑے قبرستان کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

یہ قبرستان کم سے کم 1352 میں بننا شروع ہوا اور یہاں ترخان، ارغون اور مغل بادشاہوں کے خاص افراد اور اہل خانہ کی قبریں بھی موجود ہیں۔یہ قبرستان اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی عالمی ورثہ ثقافت کی فہرست میں بھی شامل ہے۔

شاہراہ قراقرم – شاہراہ ریشم
پاکستان اور چین کی دوستی کی مثالیں صرف کہاوتوں پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ دونوں ممالک کی دوستی شاہراہ قراقرم جیسے منصوبوں کی صورت میں بھی موجود ہے۔

اسے عظیم روڈ کے ذریعے پاکستان اور چین کا آپس میں زمینی رابطہ قائم ہوا، جسے 20 سال کے عرصے بعد 1986 میں مکمل کیا گیا، 1300 کلو میٹر پر مبنی اس شاہراہ کو سطح سمندر سے تقریبا 5 ہزار کلو میٹر کی بلندی پر بنایا گیا۔

یہ شاہراہ چین کے صوبے سنکیانگ اور پاکستان کے شمالی علاقوں یعنی گلگت بلتستان کو ملاتی ہے، اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے۔

فیصل مسجد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام میں بنائی گئی فیصل مسجد کو جہاں طرز تعمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت حاصل ہے، وہیں اسے جنوبی ایشیا کی بھی سب سے بڑی مسجد کا اعزاز حاصل ہے۔کم سے کم 20 سال کے عرصے میں بنائی گئی فیصل مسجد میں بیک وقت اندر اور باہر 3 لاکھ افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔

دنیا کے کم عمر ترین سول جج کا ریکارڈ
پاکستان کے پاس جہاں کئی دیگر عالمی ریکارڈز ہیں، وہیں وطن مملکت کے پاس سب سے کم عمر سول جج کا اعزاز بھی حاصل ہے جو پاکستان نے تقریبا 3 دہائیاں قبل بنایا تھا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے محمد الیاس نے 20 سال 6 ماہ کی عمر میں سول جج گجرات کا عہدہ سنبھالا، انہوں نے یہ عہدہ پاکستان بننے کے محض 5 سال بعد یعنی 1952 میں سنبھالا، ان کا نام گنیز آف ورلڈ ریکارڈ میں 1991 میں شامل کیا گیا۔

انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون صارفین کا بڑا ملک
جس طرح پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے، اسی طرح پاکستان انٹرنیٹ صارفین اور اسمارٹ فون استعمال کرنے والے بڑے ممالک میں بھی شمار ہوتا ہے۔

پرندوں کے لیے محفوظ جھیل
پاکستان جہاں کسی زمانے میں پناہ گزینوں کے لیے سب سے بڑا ملک تھا، وہیں پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں پرندوں کی محفوظ ترین جھیلوں میں شمار ہونے والی جھیل بھی موجود ہے۔

صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ کے قریب واقع ہالیجی جھیل کو ایشیا میں پرندوں کے لیے سب سے بڑی محفوظ قدرتی جھیل قرار دیا جاتا ہے، یہاں ہر سال وسطی، شمالی و مغربی ایشیا سمیت یورپ کے مہمان پرندے کچھ ماہ کے لیے آتے ہیں۔

بلند ترین مقام پر اے ٹی ایم
نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) نے شاہراہ قراقرم پر خنجراب پاس کے مقام پر پاک-چین سرحد کے قریب 2016 میں ایک اے ٹی ایم نصب کی، جو زمین کی سطح سے 15 ہزار 397 فٹ بلند ہے، جس وجہ سے اسے دنیا کے بلند ترین مقام پر نصب اے ٹی ایم مشین کا اعزاز حاصل ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا قلعہ (رنی کوٹ)
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے 300 کلو میٹر کے فاصلے پر ضلع جامشورو میں موجود رنی کوٹ کو دیوار سندھ بھی کہا جاتا ہے۔

نامور محقق اور مئورخ بد ر ابڑو، ایم ایچ پنہور اور تاج صحرائی کے مطابق رنی کوٹ کی دیواروں کی لمبائی 30فٹ اور چوڑائی سات فٹ ہے جبکہ قلعہ 16 سے 30کلو میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔قلعہ کی ایک دیوار سات ہزار 777اور دوسری تین ہزار580 میٹر طویل ہے۔

یوں اس قلعے کو دیوار چین سے بھی بڑا مانا جاتا ہے۔

تاریخی باب خیبر اور جمرود قلعہ
صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے قریب واقع تاریخی باب خبیر کا اگرچہ نیا ڈھانچہ اور کچھ تعمیرات 1964 میں تعمیر کی گئیں، تاہم اس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ سکندر اعظم کی فتوحات کے وقت بنایا گیا تھا۔

بابِ خیبر کے قریب تاریخی جمرود قلعہ بھی واقع ہے، جسے 1836ء میں صرف 54 دنوں میں سکھ راجہ سردار ہری سنگھ نلوی نے تعمیر کروایا تھا۔ 10 فٹ چوڑی دیواروں والے اس قلعے کی نگرانی اور انتظام خیبر رائفلز کے پاس ہے۔

خوبصورت ترین درالحکومت
صحیح معنوں میں پاکستان کا درالحکومت اسلام آباد ہی وہ واحد شہر ہے جسے یہاں مکمل منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ساتھ تعمیر کیا گیا، اس شہر کو بسانے کا منصوبہ جنرل ایوب خان نے 1960 میں شروع کیا اور اس کے لیے یونانی شہری منصوبہ دان Constantinos A. Doxiadis کی خدمات حاصل کی گئیں۔

جہاں اس شہر کی فیصل مسجد کو ایشیا کی سب سے بڑی مسجد کا اعزاز حاصل ہے، وہیں اس شہر کو بھی دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

نایاب نابینہ ڈولفن
ڈولفن کو دنیا بھر میں نایاب سمجھا جاتا ہے اور اسے ہر ممکن تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان کے دریائے سندھ میں صوبہ سندھ کے متعدد علاقوں میں نایاب نابینہ ڈولفن کی نسل بھی پائی جاتی ہے جو حیران کن طور پر کہیں اور نہیں پائی جاتی۔

اس نایاب ڈولفن کو مقامی زبان میں ‘بلہن‘ بھی کہا جاتا ہے اور حکومت سندھ نے اس کے تحفظ کے لیے مختلف سماجی تنظیموں کے تعاون سے کچھ اقدامات بھی کیے ہیں۔

دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ
گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں موجود شندور کا پولو گراؤنڈ دنیا کا بلند ترین گراؤنڈ ہے، جہاں ہر سال جولائی کے مہینے میں پولو ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔اس ٹورنامنٹ کو شندور میلہ بھی کہا جاتا ہے، یہ گراؤنڈ سطح زمین سے قریبا 4 ہزار میٹر بلندی پر واقع ہے۔

کثیر الثقافتی اور دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک شہر (کراچی)
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کو کئی اعزازات حاصل ہیں، جہاں یہ منی پاکستان کہلاتا ہے، وہیں اس شہر کو پاکستان کی معیشت کہ شہ رگ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

اس شہر میں نہ صرف پاکستان میں بولی جانے والی تقریبا تمام زبانوں کے افراد بستے ہیں بلکہ یہاں دنیا کے کئی ممالک کے مختلف زبانیں بولنے اور مختلف تہذیبوں سے وابستہ افراد بھی رہتے ہیں۔

کراچی کو کثیرالثقافتی شہر قرار دیا جاتا ہے، جہاں یہ ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، وہیں اس کا شمار دنیا کے چند بڑے شہروں میں بھی ہوتا ہے، اس شہر کی کئی عمارتیں عالمی ورثہ میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی اہمیت کی حامل بھی ہیں۔کراچی پاکستان کے میڈیا سمیت بینکنگ سیکٹر کا بھی مرکز ہے۔

آسکر ایوارڈ
اگرچہ پاکستان کی فلم انڈسٹری کا شمار دنیا کی بڑی فلم انڈسٹریز میں نہیں ہوتا، تاہم لولی وڈ کو دنیا کی ابھرتی ہوئی فلم انڈسٹریز میں شمار کیا جاتا ہے۔

پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے فلمی دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ ‘آسکر’ بھی حاصل کیا ہے، اس اعزاز سے بھارت جیسے ممالک بھی اب تک محروم ہیں۔

پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے نے ایک نہیں بلکہ 2 بار آسکر ایوارڈ حاصل کرکے کئی ممالک کی خواتین فلم سازوں کے لیے مثال قائم کی۔

پہلی مسلم خاتون وزیر اعظم
پاکستان جہاں ایٹمی قوت کا حامل پہلا اور واحد اسلامی ملک ہے، وہیں اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ مسلمانوں کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے، ساتھ ہی اسے اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

بے نظیر بھٹو کو اسلامی دنیا کی پہلی اور پاکستان کی اب تک کی واحد خاتون وزیر اعظم کا اعزاز حاصل ہے۔

تاریخی مساجد
پاکستان میں نہ صرف ایشیا کی سب سے بڑی فیصل مسجد واقع ہے، بلکہ لاہور کی بادشاہی مسجد، موتی مسجد کراچی کی میمن اور طوبیٰ مسجد، ٹھٹہ کی شاہجہاں مسجد اور ملتان کی شاہی عید گاہ مسجد سمیت دیگر مسجدیں شامل ہیں۔

معروف درگاہیں
پاکستان میں نہ صرف تاریخی مسجدیں موجود ہیں بلکہ یہاں معروف بزرگ ہستیوں کی درگاہیں بھی موجود ہیں۔صوبہ سندھ میں دنیا بھر میں معروف قلندر لعل شہباز، شاہ عبداللطیف بھٹائی، سجل سرمت، صوبہ پنجاب میں داتا دربار، بابا فریدالدین گنج، بابا بلہے شاہ اور بلوچستان کی درگاہ فتح پور سمیت کئی درگاہیں موجود ہیں۔

تاریخی لئنسڈاؤن پل
صوبہ سندھ کے جڑواں شہروں سکھر اور روہڑی کے درمیان واقع مشہور تاریخی پل لئنسڈاؤن کو جہاں ڈیزائن کی وجہ سے شہرت حاصل ہے، وہیں اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اسی طرز تعمیر کا پل اس خطے میں موجود نہیں۔

دور سے سڈنی ہاربر برج، ٹینی برج نیو کاسل، جارج برج ورجینیا ، سان فرانسسکو ، سان ڈیگو، لندن اور ممبئی کے بندرا وورلی برج جیسا نظر آنے والا شمالی سندھ کے جڑواں شہروں روہڑی اور سکھر کو آپس میں ملانے والا منفرد اورتاریخی لئنسڈاؤن پل دنیا بھر میں نہ صرف صوبے بلکہ پاکستان کی پہچان بنا ہوا ہے۔

یہ پل بھی انگریزوں نے بنوایا تھا، لئنسڈاؤن پل کی تکمیل 2 سال کے مختصر عرصے میں مکمل کیے جانے کے بعد 25مارچ 1889 کو پل کاافتتاح کردیا گیا۔

گڈانی بریکنگ شپ یارڈ
صوبہ بلوچستان کے ضلع لسبیلا کے نواحی قصبے گڈانی میں واقع بریکنگ شپ یارڈ کو دنیا کا تیسرا بریکنگ شپ یارڈ مانا جاتا ہے، اسے بحری جہازوں کا قبرستان بھی کہتے ہیں۔

حیران کن طور پر گڈانی بریکنگ شپ یارڈ کا مقابلہ بھارت کے النگ اور بنگلہ دیش کے چٹاگانگ بریکنگ شپ یارڈ سے رہتا ہے۔

گڈانی بریکنگ شپ یارڈ میں بیک وقت 125 سے زائد بحری جہاز کھڑے کیے جاسکتے ہیں، یہاں سیکڑوں مزدور دنیا بھر سے لائے گئے بحری جہازوں کو توڑنے کا کام سر انجام دیتے ہیں۔

ٹرک آرٹ
ویسے تو دنیا کے تمام ممالک میں ٹرک موجود ہیں اور ان پر ہر ملک میں کسی نہ کسی طرح کا آرٹ یا اشتہارات بھی لگائے جاتے ہیں، مگر پاکستانی ٹرک آرٹ دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔

پاکستانی ٹرک آرٹ کے چرچے نہ صرف جنوبی و وسطی ایشیا تک رہتے ہیں بلکہ اب تک اس کے چرچے امریکا و یورپی ممالک تک پہنچ چکے ہیں۔

بلندی پر واقع منفرد اور چھوٹی جھیل
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے سیاحتی مقام وادی کاغان کوہ ہمالیہ اور کوہ پربت پر معروف جھیل سیف الملوک کے قریب واقع آنسو جھیل کو بھی دنیا کی منفرد جھیل کا اعزاز حاصل ہے۔

یہ جھیل زمین کی سطح سے 17 ہزار فٹ کے قریب بلندی پر واقع ہے اور یہ انتہائی چھوٹی جھیل ہے، جس وجہ سے اسے آنسو جھیل کا نام دیا گیا ہے، بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے اس جھیل میں برف جمی رہتی ہے

فٹ بال تیار کرنے والا بڑا ملک
رواں برس روس میں ہونے والے عالمی فٹ بال ورلڈ کپ میں بھی پاکستان میں تیار شدہ فٹ بال کو استعمال کیا گیا تھا، جب کہ اس سے قبل بھی فیفا متعدد ٹورنامنٹس میں پاکستان میں ہاتھ سے تیار ہونے والے معیاری فٹ بال کو استعمال کرتا رہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا کے 50 فیصد فٹ بال پاکستان میں تیار ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ہاتھ سے بنتے ہیں، لیکن بعد ازاں ان پر مشینوں پر بھی کام کیا جاتا ہے۔پاکستان میں زیادہ تر فٹ بال پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں ہی بنتے ہیں۔

کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ
پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کے پاس کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنلز بھی ہیں، پہلی بار پاکستانی بچی ارفع کریم نے 2005 میں محض 10 سال کی عمر میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔۔

بعد ازاں ایک اور 12 سالہ بچے بابر اقبال نے یہ اعزاز حاصل کیا، علاوہ ازیں 5 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی بچے ایان قریشی کو بھی سب سے کم عمر مائیکر وسافٹ اسپیشلسٹ کا اعزاز حاصل ہے۔

ذرخیز صحرا
پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں یوں تو زیادہ تر قحط رہتا ہے اور وہاں سے بری خبریں سننے کو ملتی ہیں، مگر درحقیقت یہ زرخیز صحرا ہے، جہاں ذرا بھی بارش ہونے کے بعد فصلیں اگائی جاسکتی ہیں۔

اس صحرائی علاقے کو دنیا کی نویں بڑی صحرا کا درجہ بھی حاصل ہے، صحرائے تھر کا علاقہ پاکستان اور بھارت کے ممالک پر مشتمل ہے۔

کجھور کی پیداوار کا بڑا ملک
پاکستان کا شمار جہاں دودھ، گوشت، گندم اور چاول کی پیداوار میں بڑے ممالک میں ہوتا ہے، وہیں اسے کھجور کی پیداوار کے حوالے سے بھی بڑے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں تقریبا 200 سے زائد اقسام کی کھجور کی پیداوار ہوتی ہے اور کھجور کی پیداوار کے حوالے سے سب سے بڑا صوبہ سندھ ہے اور حیران کن طور پر اس صوبے سے سب سے زیادہ پیداوار صرف ایک ہی ضلع خیرپور سے زیادہ ہوتی ہے۔

ایشیا کی سب سے بڑی مرچ منڈی
صوبہ سندھ کے شہر کنری میں واقع سرخ مرچ کی منڈی کو ایشیا کی سب سے بڑی مرچ منڈی کا اعزاز حاصل ہے، اگرچہ اس منڈی کی تعمیر ٹھیک طرح سے نہیں ہوئی، تاہم یہ منڈی 22 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔

مینار پاکستان
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں واقع تاریخی جگہ مینار پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی۔یہاں پہلے انگریز راج میں منٹو پارک ہوا کرتا تھا، جہاں 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان منظور کی گئی۔پاکستان بننے کے بعد جنرل ایوب کی دور حکومت میں یہاں مینار بنایا گیا، جسے مینار پاکستان کہا گیا۔

ثقافتی اقدار
اگر کہا جائے کہ پاکستان ایک کثیر الثقافتی ملک ہے تو اس میں کوئی غلط بات نہ ہوگی، پاکستان کے چاروں صوبوں کی الگ الگ اور منفرد روایات اور ثقافت پاکستان کی تاریخ اور کلچر کو مزید مستحکم اور مضبوط بناتی ہیں۔

نہ صرف چاروں صوبوں بلکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور قبائلی علاقہ جات کی ثقافتیں بھی پاکستان کو ایک منفرد ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔

موسیقی
پاکستان کے نہ صرف گلوکار اور شاعر دنیا بھر میں مشہور ہیں بلکہ پاکستانی موسیقی اور ساز بھی دنیا بھر میں منفرد اہمیت رکھتے ہیں۔پاکستانی موسیقی اور موسیقاروں کی اہمیت، انفرادیت اور خوبصورتی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی پڑوسی ملک بھارت اور عرب ممالک میں بھی دھوم رہتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مصائب کی یلغار

(سکندر خان بلوچ) کہتے ہیں جب مصیبت آتی ہے تو اکیلے نہیں آتی بلکہ ہجوم ...