بدھ , 21 نومبر 2018

بے دخلی کی سیاست، مرابطین کو قبلہ اول سے محروم کرنے کی سازش!

قابض صہیونی مسجد اقصیٰ کا ہرطرف سے گھیراؤ کرنے اور مقدس مقام کو اہالیان فلسطین سے محروم کرنے کی سازشوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہودی آباد کاروں، پولیس،انٹیلی جنس حکام اور مقدس مقام کو یہودیانے کی سازشیں اور مسجد کی بنیادوں تلے کھدائیوں کے ساتھ ساتھ مسجد کے مرابطین کو بے دخل کرنے کی سازشیں مقدس مقام کو محروم کرنے کی کوشش ہے۔

10 روز قبل یہودی فوج نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج نے گھس کر فائرنگ اور بم پھینکے جانے کے واقعے کے بعد کئی گھنٹے تک مسجد کو نمازیوں کے لیے بند رکھا گیا۔ اس کے بعد صہیونی حکام نے مسجد اقصیٰ کے مرابطین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 35 مردو خواتین مرابطین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بیت المقدس کی الطور کالونی سے تعلق رکھنے والی نفیسہ خویص کو دو ہفتے قبل مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائی کی پاداش میں حراست میں لیا گیا۔ اس کا شناختی کارڈ ضبط کیا گیا۔ اُنہیں حراست میں لے لیا گیا اور مسلسل دو ہفتے سے حراست میں رکھا گیا ہے۔نفیسہ خویص مسجد اقصیٰ کے پڑوسیوں میں شامل ہیں اور وہ قبلہ اول کی مستقل نمازی ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں مسجد اقصیٰ سے دور نہیں ہوسکتی۔ مسجد اقصیٰ میری زندگی، میرا گھرہے اور میں قبلہ اول سے دوری برداشت نہیں کرسکتی۔ مگر صہیونی ریاست ایک سازش کے تحت مجھے قبلہ اول سے محروم کیا جا رہا ہے۔ مجھے چھ ماہ کے لیے قبلہ اول میں داخلے سے محروم رکھنے کے لیے جیل میں ڈالا گیا۔ مسجد اقصیٰ میں آمد ورفت اور عبادت کی پاداش میں بھاری جرمانہ کیا گیا۔

القدس میں اسیران کمیٹی کے چیئرمین امجد ابوعصب نے کہا کہ صہیونی ریاست نے فلسطینی مرابطین کو مسجد اقصیٰ سے دور رکھنا ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مسجد اقصیٰ میں نماز یا عبادت کے لیے آنے پرکوئی شرط نہیں مگر صہیونی حکام نے طرح طرح کی شرائط عاید ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ سے دور رکھنا اور انہیں طویل مدت تک قبلہ اول سے بے دخل رکھنا طے شدہ سازش ہے۔انہوں نے کہا کہ صہیونی حکام فلسطینیوں کو نہ صرف مسجد اقصٰی سے محروم کررہے ہیں بلکہ بیت القدس سے غرب اردن بے دخل کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی حکام ایک طرف فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے محروم کررہےہیں تو دوسری طرف یہودی شرپسندوں کو قبلہ اول پر دھاووں کی کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ جولائی 2018ء کے دوران 3800 یہودی شرپسندوں نے قبلہ اول پر دھاوے بولے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔ قبلہ اول کی بے حرمتی کا یہ نیا ایکارڈ ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...