ہفتہ , 22 ستمبر 2018

امریکی وار پر اردگان کو حیران نہیں ہونا چاہئے

(تسنیم خیالی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کل ترکی کے خلاف اقتصادی جنگ شروع کررکھی ہے جس کی وجہ سے ترکی کی کرنسی ’’لیرہ‘‘ کی قیمت جزوی طور پر گرچکی ہے اور یہ اقتصادی جنگ 2016 میں ترکی میں ہونے والے ناکام فوجی انقلاب سے کم خطرناک نہیں بلکہ یہ جنگ اس بغاوت سے زیادہ خطرناک ہے ، ترکی اور امریکہ کےدرمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ، اور ناکام فوجی انقلاب نے اس کشیدگی کو پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ امریکہ نے انقلاب کے ماسٹر مائینڈ فتح اللہ گولن کی حوالگی کی ترک درخواست کو مسترد کرتے ہوئے گولن کو باحفاظت اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دی۔

اردگان کے حالیہ بیانات کو دیکھتے ہوئے یوں لگ رہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے رویوں سے حیران ہیں، خاص طور پر کہ ترکی 1952 سے امریکہ کے اہم اتحادیوں میں سے شمار ہوتا ہے اور جب وہ (ترکی) نیٹو کا رکن بن گیاتو اردگان نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’تم نیٹو میں ہمارے ساتھ ہو مگر پھر بھی ہماری پیٹھ پر وار کررہے ہو‘‘۔

اردگان کاحیران ہونا اس بات کی عکاسی ہے کہ وہ امریکیوں کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار ہیں، خاص طور پر موجودہ امریکی حکومت کے حوالے سے ،علاوہ ازیں اردگان کی حیرانگی اس بات کی عکاسی ہے کہ وہ امریکہ کے اتحاد پر کچھ زیادہ ہی اعتماد کرتے ہیں ، غلط فہمی اس لئے کہ امریکہ نے ترکی سے زیادہ اہمیت رکھنے والے اتحادی ممالک جیسا کہ جرمنی ، فرانس ، کینیڈااور میکسیکو کو بھی دھوکہ دیکر ان کی پیٹھ پر وار کیا ہے ، یہاں تک کہ ٹرمپ نے نیٹو کے ساتھ بھی معاملات خراب کرلئے ہیں ۔

اردگان اور امریکہ کے دیگر عرب اتحادی اس بات کو شاید نہیں جانتے کہ امریکہ کو اتحادی نہیں بلکہ غلام چاہئے جو بنا بحث ومخالفت کے اس کے احکامات پر عمل کرے اور اگر امریکہ ان ممالک کو اتحادی تسلیم کرتا بھی ہے تو وہ ان کے ساتھ باقی اتحادیوں کے نسبت امتیازی سلوک برتتا ہے، لہٰذا اردگان کا امریکہ سے شکوہ کہ وہ اپنے اتحادیوں کا احترام نہیں کرتا بے جاہے اور اس بات کی عکاسی ہے کہ اردگان امریکہ سے ناواقف ہے ۔

ترکی کے خلاف امریکہ کی اس اقتصادی جنگ کے پیچھے کئی وجوہات ہیں ، پہلی وجہ یہ ہے ترکی نے امریکی پادری اینڈرو بنسن کو تاحال گرفتار کررکھا ہے اور امریکہ نے پادری اور ترکی میں قید دیگر امریکیوں کو فی الفور بنا شرائط کے رہا کرنے کا مطالبہ کررکھا ہے امریکہ نے ترکی کی اس شرط کو بھی مسترد کردیا ہے کہ اس رابنسن کے بدلے گولن دیا جائے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ ترکی نے امریکہ دفاعی سسٹم ’’پیٹریاٹ‘‘ کی بجائے روس دفاعی سسٹم ایس۔400 خریدنے کو ترجیح دے رکھی ہے ۔تیسری وجہ یہ ہے کہ ترکی نے ایران پر امریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ ترکی ایران کے ساتھ لین دین کا خاتمہ کرے۔

چوتھی وجہ یہ ہے کہ ترکی نے فلسطینی تنازعہ کے حل کے لئے پیش صدی کی ڈیل کی مخالفت کررکھی ہے جبکہ امریکہ ترکی سے یہ چاہتا ہے کہ وہ صدی کی ڈیل کی حمایت کرتے ہوئے بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرے اور حماس کی حمایت بند کردے،یہ تمام وجوہات اہم ہیں اور ترکی کے لئے قطعی طور پر آسان نہیں کہ وہ امریکی خواہشات یا پھر احکامات پر عمل کرے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اردگان آنے والے دنوں میں کیا کرتے ہیں اور ٹرمپ کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں ،خاص طور پر کہ انہوں نے نئے اتحادیوں کی تلاش اور ان سے اتحاد کا اعلان کردیا ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

حسینؓ ابن علیؓ دنیا کو حیران کر دیا تو نے

(ڈاکٹردوست محمد) انسانی تاریخ میں حضرت ابراہیمؑ نے اپنے چہیتے فرزند اسماعیلؑ کی قربانی کا ...