ہفتہ , 22 ستمبر 2018

یمن اور بحرین پر جارحیت کرنے والے شیطان سے بدتر ہیں، اہلسنت عالم دین

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک اہلسنت عالم دین اور صوبہ گلستان میں اہلسنت مدارس کے استاد اور اسلامی مرکز میں ثقافتی امور کے نمائندے نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے یمن پر حملے اسلام کے پر امن مذہب ہونے پر سوالیہ نشان بن رہے ہیں کیوں کہ یہ حملے اسلام اور اسلامی ریاست کے نام پر ہو رہے ہیں اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ سعودی عرب کے ان اقدامات سے بیزاری اور نفرت کا اظہار کرے۔

ایرانی اہلسنت عالم دین اورصوبہ گلستان میں اہلسنت مدارس کے استاد اور اسلامی مرکز میں ثقافتی امور کے نمائندہ ’’مولانا عبدالجلیل فرہمند‘‘ نے کہاکہ جب ہم لفظ ’انسان ‘ استعمال کرتے ہیں ہماری مراد انسان کا ثقافتی پہلو مدنظر ہوتا ہے اور ایک ایسی مخلوق مراد ہوتی ہے جس کو اللہ نے کرامت دی ہے لیکن جن لوگوں نے یمن اور بحرین پر حملہ کیا ہے انہوں نے سیرت نبوی (ص) کو پیروں تلے روند ڈالا ہے۔

انہوں نے کہا فتح مکہ کے وقت پیغمبر اکرم(ص) نے کہا عورتوں ، بچوں اور جنہوں نے اسلحہ نہیں اُٹھایا ان کو کچھ نہ کہا جائے دراصل نبی مکرم (ص)نے اپنے اعتدال پسند ہونے کا مظاہرہ کیانبی مکرم (ص) کہا کرتے تھے اَشِدّآءُ عَلَى الکُفّارِ رُحَمآءُ بَینَهُم یہ ان کے اعتدال کا نمونہ تھا اور اسکا نمونہ ہم نےفتح مکہ کے موقع پر دیکھالیکن سعودی عرب خودکو انسانی حقوق کا علم بردار کہتا ہے لیکن حقیقت میں سعودی عرب نے سنت نبوی کو پیروں تلے روند ڈالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن میں اُمت واحدہ کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی مسلمان جہاں بھی ہوں وہ ایک اُمت واحد کی مانند ہیں لیکن آج جو قتل وغارت ہم یمن اوربحرین میں دیکھ رہے ہیں اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ افراط و تفریط کی علامت ہےیہ اسلام کے معتدل نہ ہونے کی علامت ہے جب کہ اسلام ایک اعتدال پسند دین ہے جو افراط و تفریط کو پسند نہیں کرتا۔

موصوف اہلسنت عالم دین نے کہا کہ سعودی عرب سمیت جو لوگ بھی اس قسم کے افراطی عمل کو انجام دیتے ہیں اصل میں افراطی ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کیوں نہ کہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب اللہ کے حکم سے فرشتوں نے انسان کو سجدہ کیا اور شیطان نے سجدہ کرنے سے انکار کیا کیوں کہ بصیرت نہیں رکھتا تھا اللہ نے انسان میں جو فطرت رکھی تھی شیطان نے اُسے قبول نہیں کیا ایسی لیے رجیم قرار پایا۔

مولانا عبدالجلیل فرہمند نے مزید کہا کہ جو لوگ آج یمن اور بحرین میں قتل و غارت انجام دے رہے ہیں وہ شیطان سے بھی بدتر ہیں کیوں کہ شیطان نے ایک بار اللہ تعالی کا فرمان نہیں مانا تھا لیکن یہ لوگ ہر روز نبی مکرم (ص) کے فرمان کی نافرمانی کرتے ہیں اورسعودی عرب کے یمن پر حملے اسلام کے پر امن مذہب ہونے پر سوالیہ نشان بن رہے ہیں کیوں کہ یہ حملے اسلام اور اسلامی ریاست کے نام پر ہو رہے ہیں اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ سعودی عرب کے ان اقدامات سے بیزاری اور نفرت کا اظہار کرے۔

یہ بھی دیکھیں

وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے امریکا روانہ

اسلام آباد: (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ...