بدھ , 21 نومبر 2018

گلگت بلتستان میں دہشت گردی کی نئی لہر

(فہیم اختر) 
ابھی گلگت بلتستان حکومت کی صوبائی کابینہ کا دہشت گردی کے متعلق اجلاس ختم ہوئے اتنا ہی وقت گزرا تھا جتنا کابینہ کے اجلاس میں وقت گزرا تھا کہ دہشت گردوں نے بڑی حکمت عملی سے ضلع دیامر سے ضلع گلگت کی طرف رخ کر لیا۔ یہ واقعات بظاہر دیامر میں ہونے والی تخریبی کارروائیوں کا تسلسل ہیں۔ ضلع دیامر میں تخریبی کارروائیوں میں ایک پولیس جوان شہید ہوا تھا اور اطلاعات یہی ہیں کہ اس پولیس جوان کے گھر والوں نے دہشت گرد کا پیچھا کر کے اس سے بدلہ لیا اور اسے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔

داریل تانگیر نالہ جات پر مشتمل علاقہ ہے۔ ضلع دیامر کے ان تاریخی اور خوبصورت مقامات کے، جو بدقسمتی سے دہشت گردوں کے سائے میں ہیں، نالے بیک وقت ضلع گلگت اور ضلع غذر کے کئی نالوں میں جا گرتے ہیں۔ داریل کے علاقہ کھنبری سے گلگت کارگاہ تک تقریباً دو گھنٹے کا راستہ ہے جبکہ دیگر نالہ جات میں گلگت جوٹیال، بتھریت غذر اور غذر کے دیگر نالوں سے جا ملتا ہے۔ آج کے دہشت گرد چند برس قبل تک چوروں کے ٹولے کے طور پر بھی مشہور تھے اور ان نالہ جات میں آ کر وہ لوگوں کے مال مویشیوں کو جبراً اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ یوں غریب لوگوں کے سال بھر کی محنت مزدوری اور کمائی ان چوروں کے آرام کی نذر ہو جاتی تھی۔ شاید عبدالخالق تاج صاحب نے اسی طرف اشارہ کر کے کہا تھا:

محنت کش اور جفاکش یہاں بدحال رہتے ہیں
جو کچھ نہیں کرتے ہیں وہ مالامال رہتے ہیں

چوری کے ان واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کیے، جس سے ممکنہ طور پر ان دہشت گردوں کو شہ اور طاقت ملی کہ وہ ان راستوں کو تخریب کاری کےلیے استعمال کریں۔ اس سے قبل غذر کے ایک نالے میں چند برس پہلے ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جہاں دہشت گرد نالوں سے وارد ہوئے تھے اور پولیس چوکی میں موجود جوانوں پر اچانک دھاوا بول کر سب کو رسیوں سے باندھ گئے تھے جبکہ چوکی میں موجود تمام اسلحہ اپنے ’مال غنیمت‘ کے طور پر لے گئے تھے۔

چلاس، داریل اور تانگیر میں پیش آنے والے واقعات کے بعد حکومت نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک اچھے موقعے کو ضائع کر دیا جس کے بعد دہشت گردی کی ایک نئی لہر اٹھ کھڑی ہوئی اور پے در پے واقعات رونما ہونا شروع ہوئے، جن میں ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ملک عنایت اللہ پر قاتلانہ حملہ، پولیس جوان پر حملہ کر کے شہید کرنا، ڈپٹی کمشنر دیامر کے گھر پر حملہ کرنا اور حالیہ کارگاہ کے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ان واقعات کی بناء پر گلگت بلتستان بالخصوص گلگت، غذر اور دیامر کے عوام میں خوف کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔

گزشتہ دنوں کارگاہ کی آخری پولیس چوکی پر دہشت گرد کمانڈر خلیل کی قیادت میں پولیس چوکی پر دھاوا بولنے کا واقعہ سب سے سنگین اور دہشت انگیز تھا۔ دہشت گردوں کی ان کارروائیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑی پلاننگ کے ساتھ اقدامات کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کو یہ معلوم تھا کہ گلگت شہر کے اکثر تھانوں سے بڑی تعداد میں نفری چلاس اور ارد گرد تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس فورس کو دیامر ضلع میں مصروف رکھ کر دہشت گردوں کا یہ گروہ گلگت کی طرف براستہ نالہ جات روانہ ہو گیا۔ بقول صوبائی حکومت و محکمہ پولیس، انہیں دہشت گردوں کی اس موومنٹ کا علم تھا کہ دہشت گردوں نے داریل سے اوپر نالے کی طرف رخ کر لیا ہے۔ تاہم یہ علم نہیں تھا کہ کس نالے سے وہ نیچے آئیں گے جس کےلیے احتیاطاً تمام نالہ جات بشمول کارگاہ نالہ میں فورس کی تعداد دگنی کر دی گئی تھی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملٹری اور پیراملٹری فورس کی خدمات شہر سے زیادہ نالہ جات اور سرحدی علاقوں میں ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے نالہ جات میں عوام کے مطالبے کے باوجود فوج یا جی بی اسکاؤٹس تعینات نہیں کیے گئے۔ دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہونے کا اصل ہنر فوج اور دیگر پیراملٹری فورسز کے پاس ہوتا ہے۔ پولیس فورس روایتی طور پر کمزور ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے پاس ایسے اقدامات کے لیے مکمل ٹریننگ ہوتی ہے۔

کارگاہ نالہ میں پولیس کے چھ جوان موجود تھے جن میں سے تین شہید ہو گئے اور دو زخمی ہو گئے ہیں جو اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں اور صرف ایک پولیس اہلکار ’معجزانہ‘ طور پر سلامت رہا۔ معلوم ہوتا ہے کہ پولیس نے آخری حربے کے طور پر اندھادھند فائرنگ کر دی تھی جس سے اتفاقاً کمانڈر خلیل موقع پر ہلاک ہو گیا تھا۔ کمانڈر خلیل کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کا تعلق انتہائی خطرناک دہشت گردوں میں ہوتا ہے۔ کمانڈر خلیل کا تعلق انتہائی خطرناک اور مطلوب دہشت گردوں میں ہوتا تھا۔ اس سے قبل نانگا پربت میں غیرملکی سیاحوں کے قتل سمیت متعدد کیسز میں پولیس کو مطلوب تھا اور اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ مقرر کر دی گئی تھی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا بڑا اور خطرناک کمانڈر کیا صرف کارگاہ کی پولیس چوکی کو نشانہ بنانے آیا تھا؟ میں نہیں سمجھتا کہ وہ صرف کارگاہ کی پولیس چوکی کو نشانہ بنانے آیا ہو گا بلکہ یقیناً اس کا رخ گلگت شہر ہی تھا جہاں ’فرقہ واریت‘ کی راکھ میں موجود چنگاری کو بڑی آسانی سے ہوا دی جا سکتی تھی۔ پولیس کے تین جوانوں نے جامِ شہادت نوش کر کے اور دو جوانوں نے گولیاں کھا کر گلگت شہر کو آگ لگنے سے بچا لیا۔

پولیس کی ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ حکومت پر فرض ہے کہ وہ ان پولیس شہداء کے پسماندگان کی سرپرستی کرے۔ اطلاعات کے مطابق شہید پولیس نواب خان کی دو بیٹیاں جسمانی طور پر معذور بھی ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ صوبائی حکومت کا اس ساری صورتحال میں کردار نظر نہیں آیا۔ چیف سیکریٹری جب خبر سن کر راتوں رات اسلام آباد سے گلگت پہنچ کر دیامر میں متاثرہ اسکولوں کا دورہ کر سکتے تھے تو وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے ایک ہفتہ تاخیر سے دیامر جانے کی کیا وجوہ ہو سکتی تھیں؟ یقیناً، خوف کے سائے میں جینے والے عوام اپنے نمائندوں کی ہمدردی کے منتظر ہوتے ہیں۔ کتنی افسوس کی بات ہے کہ دیامر تانگیر سے منتخب ہونے والا صوبائی وزیر محمد عمران وکیل اس سانحے کے دوران اپنے ہی گھر میں نظربند ہو کر تمام تر صورتحال سے لاتعلق رہا۔

مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت کے تین سال میں دہشت گردی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل اسپیشل کمیونی کیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے دو اہلکاروں کو اغوا کیا گیا تھا۔ یہ وہ پہلا واقعہ بھی تھا اور موقع بھی کہ جہاں دہشت گردوں کے خلاف جامع حکمت عملی اپنا کر ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا تھا۔ ایس سی او کے دونوں ملازمین کی بازیابی کے بعد معلوم نہیں وہ اغواء کار کہاں چلے گئے اور حکومت نے ان کے خلاف کیا اقدامات کیے؟

اب اسکولوں کو جلانے کے واقعے کے بعد بھی انتہائی سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا، یوں معلوم ہو رہا ہے جیسے حکومت کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے جس کی وجہ سے کارگاہ میں تین قیمتی جانیں قربان ہوئیں۔ اگر حکومت کمانڈر خلیل کی ہلاکت کو اپنی حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیتی ہے تو یقیناً یہ دعویٰ غلط اور من گھڑت ہے کیونکہ جس کسمپرسی اور مظلومیت میں جوانوں نے مقابلہ کر کے اپنے آپ کو بچایا ہے، وہ آنکھیں کھولنے کےلیے کافی ہے۔

وقت گزرا نہیں لیکن گزر رہا ہے، کارگاہ نالہ کے واقعے نے مستقبل میں مزید ایسے ناخوشگوار واقعات کا خدشہ دوچند کر دیا ہے۔ صوبائی حکومت اپنے ’کڑوے فیصلے‘ دہشت گردوں کے خلاف کرے تا کہ ممکنہ نقصان کم سے کم ہو اور دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جا سکے۔ بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...