جمعرات , 15 نومبر 2018

مقبوضہ کشمیر میں یوم پاکستان پر جشن

مقبوضہ کشمیر کے غیور عوام نے 8 لاکھ قابض بھارتی فوج کی موجودگی اور ظالمانہ پابندیوں کے باوجود 14 اگست کو پاکستان کے یوم آزادی کا جشن انتہائی جوش و خروش سے منا کر ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ بھارت سے مکمل آزادی اور پاکستان سے الحاق ہی ان کے جرات مندانہ جدوجہد کی آخری منزل ہے۔ مختلف علاقوں، یہاں تک کہ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے علاقے زرپور میں بھی پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لہرائے گئے قومی ترانہ گایا گیا اور دن بھر پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجتے رہے نوجوانوں نے ریلیاں نکال کر اور مارچ پاسٹ اور پریڈ کے ذریعے پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کیا اور اس کے قومی پرچم کو سلامی دی۔ ضلع اسلام آباد کے ڈگری کالج کے طلبا نے بھی سخت رکاوٹوں کے باوجود پاکستان کے حق میں جلوس نکالا۔ اس کے برخلاف 15 اگست کو بھارت کا یوم آزادی، یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔

حریت رہنمائوں کی اپیل پر ریاست بھر میں مکمل ہڑتال کی گئی اور بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے حالانکہ وادی میں کرفیو لگا دیا گیا تھا اور اضافی فوج تعینات کر دی گئی تھی۔ سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک، شبیر احمد شاہ اور آسیہ اندرابی سمیت نظر بند حریت رہنمائوں نے 14 اگست کو اپنے پیغامات میں پاکستان سے اظہار یک جہتی کیا۔ سید علی گیلانی نےکہا کہ بھارت ظلم وجبر سے کشمیریوں کے دلوں کو فتح نہیں کر سکتا جو اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کر چکے ہیں۔

پاکستان کے یوم آزادی پر جشن اور بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ منا کر کشمیری عوام نے اقوام عالم خاص طور پر بھارت کی سر پرست قوتوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے سوا تنازعہ کشمیر کا کوئی حل قبول نہیں کریں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی امن اور اس خطے کے استحکام کے لئے بھارت کو سلامتی کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے مجبور کیا جائے۔ کشمیری71 سال سے اپنے حق خود ارادیت کے لئے جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں وہ آزادی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

مصائب کی یلغار

(سکندر خان بلوچ) کہتے ہیں جب مصیبت آتی ہے تو اکیلے نہیں آتی بلکہ ہجوم ...