جمعرات , 15 نومبر 2018

قطر ترکی کا ساتھ دینے میدان میں آگیا؛ کیا ٹرمپ خاموش رہے گا؟

(تسنیم خیالی)
گزشتہ بدھ کے روز قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اپنے اتحادی ترکی کا اہم دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات ترکی صدر رجب طیب اردگان سے ہوئی۔ تین گھنٹوں پر محیط اجلاس کے بعد امیر قطر نے اعلان کیا کہ قطر ترک معیشت کو سہارا دینے کیلئے ترکی میں 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا تا کہ ترک کرنسی ’’لیرہ‘‘ کی ڈالر کے مقابلے میں قدر بہتر ہو جائے، امیر قطر کا یہ اعلان ایک ایسے وقت آیا ہے جس میں ترکی کو امریکہ کی طرف سے سخت اقتصادی جنگ کا سامنا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی معیشت کو نقصان پہنچانے اور ترک کرنسی ’’لیرہ ‘‘ کو کمزور کرنے کیلئے شروع کر رکھی ہے۔ اس جنگ کا آغاز ٹرمپ نے امریکہ کے لئے ترکی سے برآمد ہونے والے ہونے والے فولاد کی برآمدات پر 50 فیصد ٹیکسوں میں اضافے سے کیا، ترک حکومت نے بھی امریکہ کے اس اقدام کا جواب دیتے ہوئے امریکی الیکٹرانکس کی برآمدات پر بڑے پیمانے پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا اس اقدام سے ڈالر کے مقابلے میں لیرہ کی قیمت کچھ بہتر ہوئی اور ماہرین اقتصادیات کے نزدیک ترکی میں 15 ارب ڈالر کی قطری سامایہ کاری سے آنے والے دنوں میں لیرہ کی قیمت مزید بہتر ہو جائے گی۔

ترکی کے صدراتی ترجمان ڈاکٹر ’’ابراہیم قالن ‘‘نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ ’’قطر اور ترکی کے تعلقات بھائی چارہ، دوستی اور یکجہتی کے مضبوط ستون پر قائم ہے، البتہ قالن نے ٹویٹر پر اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ترکی میں 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کس انداز میں ہو گی اور کن کن شعبوں میں ہو گی۔ قطر یہ مدد اور اقتصادی سہارا، ترکی کے احسان کے بدلے میں کر رہا ہے، 2 سال قبل جب سعودی عرب، بحرین ، امارات اور مصر نے قطر کا بائیکاٹ کیا تھا تو اس وقت سے ترکی قطر کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے جس کی وجہ سے قطر اس بائیکاٹ کا سامنا کرنے میں کامیاب ہوا، علاوہ ازیں اس بائیکاٹ کے آغاز میں ترکی نے 35 ہزار فوجی بمعہ جنگی ساز و سامان قطر کے دفاع کے لئے قطر روانہ کیے تھے کیونکہ اس وقت کہا جا رہا تھا کہ سعودی عرب اور امارات نے قطر پر حملے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

بلاشبہ قطر کی ترکی کو مدد اور اس کے ساتھ تعاون نے بائیکاٹ کرنے والے ممالک کو آگ بگولا کر دیا ہے، بالخصوص سعودی عرب اور امارات کو جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ترکی پر جاری اقتصادی جنگ میں شریک ہیں، جس کی طرف اردگان بھی اشارہ کر چکے ہیں، ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس قطری اقدام نے تمیم کو ترک کی نظروں میں ہیرو بنا دیا ہے اور ترک کے دلوں میں قطر کو ایک خاص مقام بخشا ہے نیز اس اقدام نے عالم اسلام میں بھی قطر کو مضبوط پوزیشن دی ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمیم اس اقدام سے ٹرمپ جیسے پاگل امریکی صدر کو چیلنج کر دیا ہے جو کہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اب تک تو امریکہ کی طرف سے قطری اقدمات پر کسی بھی قسم کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا البتہ ترک صدر قطری موقف کو کبھی نہیں بھولیں گے کیونکہ یہ موقف ترکی کیلئے اس مشکل وقت میں ’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ کے مترادف ہے۔

یہ بھی دیکھیں

حضرت محمدؐ: امن اور اتحاد کے ایک عظیم پیغامبر

(محمد اکرم چوہدری) وہ مہینہ جس میں اللہ رب العزت نے اپنی مخلوق کے لیے ...