جمعرات , 15 نومبر 2018

افغانستان میں داعش کے مضبوط ہوتے پنجے،ہزارہ شیعہ نشانے پر

(رپورٹ: ایس اے زیدی)
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک بار پھر دہشتگردی کی ایک اندوہناک واردات میں اسلام، انسانیت اور تعلیم کے دشمنوں نے مکتب مہدی موعود (تعلیمی سنٹر) پر گذشتہ روز خودکش حملہ کر کے 60 سے زائد طلبہ و طالبات کی جان لے لی، اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں زیادہ تعداد طالبات کی بتائی جا رہی ہے۔ خودکش دہشتگرد نے اس وقت خود کو دھماکہ سے اڑایا جب تعلیمی مرکز میں طالب علموں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، واقعہ کے بعد وہاں افرا تفری پھیل گئی، ہر طرف لاشیں، خون اور زخموں سے چور طالب علم زمین پر پڑے نظر آئے،

طالبات نے بھی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی زخمی ہونے والی ساتھیوں کو اسپتال منتقل کیا اور بعد ازاں شہداء طالبات کے جنازے بھی اپنے کاندھوں پر اٹھائے۔ دہشتگردی کا یہ افسوسناک واقعہ شیعہ ہزارہ نشین علاقہ میں پیش آیا، موعود ایجوکیشن سنٹر کابل کی شیعہ ہزارہ کیمونٹی سے تعلق رکھتا ہے اور یہ سنٹر انتہائی شہرت کا حامل ہے، اس سنٹر کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ بلاتفریق سب کے لئے تعلیم فراہم کرتا ہے اور گذشتہ سال افغان تعلیمی بورڑ میں اس تعلیمی سنٹر کا پہلا نمبر رہا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران افغانستان میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس میں زیادہ تر اہل تشیع ہزارہ کو نشانہ بنایا گیا۔


مہدیؑ موعود تعلیمی سنٹر پر حملہ میں شہید طلبہ و طالبات میں ایک کہانی کابل سے تعلق رکھنے والے عطا اللہ رحیمی اور ان کی شہید بہن کی ہے، جس کو بین الاقوامی میڈیا نے خصوصی کوریج دی، یہ دونوں بہن، بھائی ایک دن ہی دنیا میں آئے، ایک ساتھ علم حاصل کرتے رھے اور پھر گذشتہ روز ایک ساتھ ہی شہادت کے درجہ پر پہنچ گئے۔ دہشتگردی کے اس اندوہناک واقعہ نے کئی گھروں کے چراغ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بجھا دیئے۔ تادم تحریر کسی دہشتگرد گروپ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم خدشہ یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس خودکش حملہ میں بھی داعش ملوث ہے، کیونکہ اس سے قبل ہونے والی اسی قسم کی دہشتگردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری باقاعدہ داعش نے قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب افغان طالبان نے اس واقعہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، افغان میڈیا کے مطابق طالبان افغان کا بیان سامنے آیا ہے کہ اس خود کش حملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یاد رہے کہ 2015ء میں افغانستان کے صوبہ زابل سے کئی ہزارہ شیعہ مسافروں کو شناخت کرنے کے بعد بسوں سے اُتار کر اغواء کیا گیا تھا۔ گذشتہ سال بھی کابل میں واقع شیعہ مسجد امام زمان میں دھماکہ ہوا، جس میں کئی افراد شہید ہوئے تھے، علاوہ ازیں گذشتہ سال ہی کچھ ہزارہ شیعہ کان کنوں کو بھی دہشتگردی کی ایک اور واردات کے دوران شہید کر دیا گیا تھا۔ کابل میں الزہرا مسجد میں دھماکے کے باعث درجنوں نمازی شہید ہوئے۔

اس کے علاوہ بھی گذشتہ چند ماہ کے دوران افغانستان میں کئی واقعات میں تسلسل کیساتھ افغان ہزارہ شیعہ افراد کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں داعش کی آمد کے بعد ہزارہ شیعہ کی قتل و غارت گری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں داعش کی دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ہر گذرتے دن اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عراق اور شام سے داعش کو شکست کے بعد اس کے دہشتگردوں نے جس ملک کا رخ کیا وہ افغانستان ہے۔ افغانستان میں داعش کا وجود ایک واضح حقیقت کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ گذشتہ دنوں برطانیہ میں مقیم افغانستان کے سفیر سید طیب جواد کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے داعشی دہشتگرد بھی اس وقت افغانستان میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ داعشی نہ صرف
افغانستان کے لئے ایک خطرہ ہیں بلکہ برطانیہ کے لئے بھی خطرناک ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق عراق اور شام میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے داعشی دہشتگردوں کی تعداد 900 کے قریب ہو سکتی ہے۔ افغان سفیر کے اس بیان میں حقیقت نظر آتی ہے، کیونکہ عراق اور شام کے بعد افغانستان کو ہی داعش کے دہشتگردوں نے اپنا سب سے زیادہ محفوظ مسکن سمجھا۔ داعش کی موجودگی پر افغان جنگجو گروپس نے بھی تشویش کا اظہار کیا، اور بعض مقامات پر داعش اور طالبان کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں دونوں جانب سے سینکڑوں جنگجو ہلاک ہوئے۔


پاکستان کے قومی ادارہ برائے انسداد دہشتگردی (نیکٹا) کی جانب سے کچھ عرصہ قبل یہ بیان سامنے آیا تھا کہ پاکستان کو داعش کی طرف سے ابھی تک لاحق خطرہ ہے تاہم فی الحال داعش افغانستان تک محدود ہے۔ داعش کے جنگجو افغانستان سے نکل کر پاکستان پر بھی حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ علاوہ ازیں افغانستان کے بارے روس کے نمائندہ خصوصی ضمیر کابلوف نے بھی انکشاف کیا تھا کہ افغانستان میں داعش کے کم از کم سات ہزار جنگجو موجود ہیں۔ معروف دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سعد محمد کا کہنا ہے کہ داعش پاکستانی سرحد کے قریب افغانستان کے دو صوبوں ننگرہار اور کنٹر میں موجود ہے، ان صوبوں میں دو پاکستانی دہشتگرد تنظیمیں بھی سرگرمِ عمل ہیں، جماعت الاحرار اور دوسری لشکرِ اسلامی، اور یہ تنظیمیں داعش کو قدم جمانے میں مدد دے رہی ہیں۔ سعد محمد کے مطابق شروع میں عراق اور شام سے کچھ عرب افغانستان آئے تھے جنھوں نے یہاں کے مقامی جنگجوؤں کی تربیت کی تھی، اور انہوں نے افغانستان اور پاکستان کو اپنی خلافت کا خراسان صوبہ قرار دیا تھا۔ لیکن اب افغان داعش کا اصل تنظیم سے تعلق نہیں ہے اور یہ خود مختاری سے کام کر رہی ہے اور اس میں افغانوں کے علاوہ پاکستانی بھی شامل ہیں۔


افغان حکومت بھی اپنے ملک میں داعش کی موجودگی کو تسلیم کر رہی ہے، اور اسکا ماننا ہے کہ داعش صرف تین صوبوں، ننگرہار، کنڑ اور جزوان تک محدود ہے، یہ بات بھی ایک حقیقت بن کر سامنے آئی ہے کہ افغان حکومت نے داعش کو کنٹرول کرنے میں کوئی واضح کردار ادا نہیں کیا۔ پاکستان کی جانب سے داعش کے خطرات کے حوالے سے افغان حکومت کو مسلسل متنبیہ کیا جاتا رہا ہے، پاکستان میں گذشتہ اور رواں سال ہونے والی کئی دہشتگردانہ کارروائیوں کے بارے میں بھی یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان میں افغانستان سے دہشتگرد آئے اور وہاں سے ہی ساری کاررائیوں کو آپریٹ کیا گیا۔ کابل میں رونماء ہونے والے اس حالیہ واقعہ کو افغان حکومت کو سیریس لینے کی ضرورت ہے۔ دہشتگری خواہ نسلی، لسانی، فرقہ وارانہ، چاہے جس بنیاد پر بھی ہو، اس کو کنٹرول کرنا چاہیے۔ افغانستان میں موجود ہزارہ برادری کو تحفظ دینا افغان حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ آگ و خون کا یہ کھیل اب ختم ہونا چاہئے، خطہ میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کی حکومتوں کے مابین اچھے تعلقات ہی موثر ثابت ہو سکتے
ہیں، اشتراک عمل سے ہی مکتب مہدی موعود جیسے سانحات کو روکا جا سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بریگز ٹ معاہدہ تکمیل کےآخری مراحل میں ہے: برطانوی وزیراعظم

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ بریگزٹ ڈیل مکمل ہونے کے ...