پیر , 24 ستمبر 2018

عمران خان کو سعودی عرب کی طرف سے اتنے زیادہ مبارک باد کے پیغامات! آخر ماجرا کیا ہے؟

(تسنیم خیالی)
25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد سعودیوں نے ایک سے زائد مرتبہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اس تاریخی کامیابی پر مبارک باد پیش کی، حتیٰ کہ سعودی فرنروا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے الگ الگ مبارک باد پیش کی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مبارک باد پیش کرنا اچھی بات ہے اور ویسے بھی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے چلے آ رہے ہیں ، مگر اتنی مبارک باد پیش کرنا کوئی معمولی بات نہیں اور اس کے پیچھے کوئی مقصد ضرور ہو گا یا یوں کہیں کہ سعودی عرب شاید کسی بات سے گھبرایا ہوا ہے اور عمران خان سے کچھ چاہتے ہوں، ویسے تو عمران خان کے حوالے سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ وہ یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی تین سال سے بھی زائد عرصے سے جاری جارحیت کے شدید مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی طرف سے تشکیل کردہ دہشت گردی کے خلاف اسلامی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کی بھی بھرپور حمایت نہیں کرتے۔

مارچ 2015 میں جب یمن پر جارحیت کا آغاز ہوا تھا تو اس وقت سعودی عرب نے پاکستان سے گزارش کی تھی کہ وہ بھی یمن پر جاری اتحاد کا حصہ بنے جس کے بعد پاکستان میں اس سعودی درخواست پر قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تھا یہ اجلاس 5 دن تک جاری رہا جس کے بعد پاکستان نے فیصلہ کیا کہ وہ یمن پر جاری ہونے والی جارحیت کا حصہ نہیں بنے گا اس فیصلے میں عمران خان
اور انکی جماعت کا اہم کردار رہا جنہوں نے پاکستان کی اس جارحیت میں شمولیت کی شدید مخالفت کی اور اسے غلط اقدام قرار دیا، تحریک انصاف کا یہ موقف تھا کہ یمن کی جنگ سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ٹھیک اسی طرح جس طرح پاکستان کا تعلق افغان جنگوں سے بھی نہیں تھا مگر ان جنگوں میں مداخلت سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا اور اگر پاکستان یمن جنگ میں بھی شامل ہوتا ہے تو نقصان پاکستان کا ہو گا کیونکہ اس مداخلت سے پاکستان کے اندر فرقہ واریت شروع ہو گی۔

یہ موقف صرف تحریک انصاف کا نہیں تھا بلکہ دیگر متعدد جماعتوں کا بھی تھا جس کے باعث سعودی مسلم لیگ نون کی حکومت یمن جنگ میں حصہ نہ لینے پر مجبور ہو گی اس فیصلے کے باوجود پاکستان نے یمن جنگ میں سعودی عرب کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے پر اکتفاء کر لیا اور اب بھی لاجسٹک مدد جاری ہے اب جبکہ عمران خان اور انکی جماعت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور حکومت بنانے جا رہی ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی لاجسٹک مدد بند کرتے ہوئے سعودی اتحاد کو بھی خیر باد کہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ عمران خان نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان مشر ق وسطی کے تنازعوں میں حصہ نہیں بنے گا بلکہ ثالثی کردار ادا کرتے ہوئے تنازعوں کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کریگا ۔

سعودی عرب کو دراصل اس بات کی پریشانی ہے کہ کہیں عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد یمن پر جاری اتحاد اور اسلامی اتحاد سے پاکستان کو نکال نہ لے اور ملائیشیا والی صورت حال پھر سے پیدا نہ ہو جہاں مہاتیر محمد نے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی نواز وزیراعظم نجیب عبدالرزاق کو کرپشن اور بدعنوانی کیسز میں جیل پہنچنے کے بعد یمن پر جاری سعودی اتحاد سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ پاکستان میں تو سعودی نواز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو پہلے ہی جیل بھیج دیا گیا ہے مگر کیا پاکستان سعودی اتحاد سے بھی دستبردار ہو گا؟

یہ بھی دیکھیں

بھارت: مرچ پاؤڈر سے خاتون کا جنسی استحصال، 19 افراد گرفتار

کریم گنج آسام (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست آسام کے ضلع کریم گنج میں خاتون کو ...