بدھ , 21 نومبر 2018

اسرائیلی مذہبی لیڈر فوج میں لازمی بھرتی کے بحران کو نمٹانے کے لیے تیار

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ریڈیو ’کے اے این‘ کے مطابق مذہبی جماعت ’یہودت ھتوراۃ‘ کے رکن کنیسٹ ’موشے گیونی‘ نے فوج میں لازمی بھرتی کے معاملے پر پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے کے لیے مفاہمتی پالیسی اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔

ریڈیو سے بات کرتے ہوئے گیونی کا کہنا تھا کہ کنیسٹ کے ان کیمرہ اجلاسوں میں ’یعقوب لیٹزمن‘ اور دیگر مذہبی رہنماؤں کے ساتھ لازمی بھرتی کے متنازع قانون پر پیدا ہونے والے بحران کے حل پر بات چیت میں مثبت پیش رفت کا امکان ہے۔

گیونی کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ لازمی بھرتی قانون میں معموی ترامیم کے بعد اسے قبول کر لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع آوی گیڈور لایبرمین اور لیٹزمن نے قانون میں ترمیم کی حمایت کی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

رواں سال اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 908 فلسطینی بچے زیر حراست

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)قابض اسرائیلی فوج نے سنہ 2018ء کے شروع سے اب تک ...