جمعرات , 15 نومبر 2018

امریکی سازشوں کے شکار ممالک کے لئے سنہری موقع!

(تحریر : عرفان علی) 
ایک ایسے وقت کہ جب یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت میں اپنے پرانے منصوبوں کو نیا رنگ و روپ دے کر بین الاقوامی سیاست میں اسی سابقہ روش کے ساتھ اپنی دانست میں نئی آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہورہا ہے، تو امریکاکے ان نئے منصوبوں کی زد پر آنے والے اہم ممالک کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ بھی امریکی بلاک کی طرح اپنا علیحدہ بلاک یا اتحاد قائم کرلیں۔امریکی پالیسی کی وجہ سے اس وقت جو عالمی منظر نامہ ہے اس کی روشنی میں ان منصوبوں کے مخالف ممالک کا اتحاد فطری ہے بشرطیکہ کہ یہ ممالک ہمت کریں ۔اس وقت عالمی منظر نامہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ روس، چین اور ایران سمیت بعض ممالک کے خلاف امریکی حکومتی عزائم کا رسمی اعلان کرچکے ہیں ، اب اسی تناظر میں امریکی انتظامیہ آگے بڑھ رہی ہے۔ امریکی صدر نے سالانہ دفاعی بجٹ پر دستخط کردیے ہیں۔ سات سو سترہ بلین ڈالر کے دفاعی بجٹ برائے سال 2019ع میں محکمہ دفاع یا پینٹاگون کا اپنا بنیادی بجٹ 616.9بلین ڈالر ہے جبکہ امریکا سے باہر ہنگامی یا امکانی آپریشنز کے لئے 69بلین ڈالر اور محکمہ توانائی کے تحت نیوکلیئر ہتھیاروں کے لئے 21.9بلین ڈالر کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ نیشنل ڈیفنس اتھرائزیشن ایکٹ کے تحت جو بجٹ منظور ہوا ہے اس میں لاک ہیڈ مارٹن اسلحہ ساز کمپنی سے 77ایف 35جوائنٹ اسٹرائک فائٹرز (ففتھ جنریشن اسٹیلتھ جیٹ طیاروں) کی خریداری کے لئے 7.6بلین ڈالر کی منظوری دی گئی ہے جو کہ پینٹاگون کی تاریخ کا سب سے مہنگا اسلحہ پروگرام ہے۔

چین، یورپی ممالک اور ترکی کے ساتھ امریکا نے تجارتی جنگ شروع کررکھی ہے جبکہ ترکی کو ایف 35طیاروں کی فروخت پربھی پابندی لگادی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ ترکی و پاکستان کو نیٹو اور نان نیٹو اتحاد اور امریکا کے لئے انکی تمام تر خدمات کے باوجود امریکی حکومت نے خود ہی دھتکار دیا ہے، ترکی روس سے اسلحہ خریدنا چاہتا ہے جبکہ پاکستان اور امریکا کے مابین تعلقات کی کشیدگی کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ اہم ترین وجہ چین کا پاکستان میں بہت زیادہ اثر و رسوخ بھی ہے۔امریکی حکومت نے بر اعظم افریقہ سے اپنی اسپیشل فورسز کی تعداد میں بڑے پیمانے پر کمی کرکے اسے چین اور روس کے خلاف استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ افریقہ میں امریکی خفیہ جنگوں کو کیسے جاری رکھا جائے گا ، اس پر فی الحال امریکی خاموش ہیں۔ سینکڑوں امریکی فوجیوں کو بھی افریقی مشن سے واپس بلوایا جائے گا۔ 2 اگست 2018ع کو نیو یارک ٹائمز کے صفحہ اے دس پر اس منصوبے کی تفصیلات شائع ہوچکی ہیں جبکہ اسپیشل فورسز کے شعبے کے سربراہ مارچ میں ہی اس جانب اشارہ کرچکے تھے۔ حتیٰ کہ یہ تک کہہ چکے ہیں کہ شام، عراق، یمن، صومالیہ اور لبیا میں نائن الیون کے بعد سے جو انسداد دہشت گردی کی مسلسل لڑائی تھی، اس زندہ تجربہ گاہ کے تجربات کو چین اور روس کے خلاف بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایران کے خلاف ٹرمپ حکومت نے امریکی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کردیا ہے اور آئندہ اس میں مزید سختی کی جائے گی۔ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت کو شدید دباؤ میں لاکر امریکی مطالبات ماننے پر مجبور کرنا ہے۔ امریکی صدر کے معتمد اور انتہاپسند سمجھے جانے والے جون بولٹن نے چھ اگست کو فوکس نیوز سے گفتگو میں ایران کے حوالے سے بتایا کہ ایران کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا، پورے خطے میں اپنی سرگرمیوں کو ختم کرنا ہوگا اور نئے سرے سے نیوکلیئر ڈیل پر امریکی صدر ٹرمپ سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرنا ہوگی اور خاص طور پر شام کی بشار الاسد حکومت کی حمایت ترک کرنا ہوگی۔ یعنی وہ امریکی حکومت جس نے اپنے نیوکلیئر اسلحہ پروگرام کے لئے 21.9بلین ڈالر کی خطیر رقم برائے مالی سال 2019ع منظور کی ہو ،وہ عالمی قوانین کے تحت اپنے نیوکلیئر ہتھیار تلف کرنے کے بجائے ، ایک ایسے ملک ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر معترض ہے جس سے دیگر عالمی اسٹیک ہولڈرز معاہدہ پر تاحال برقرار ہیں اور جس کا نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پرامن مقاصد کے لئے ہے اور جس کے سربراہ مملکت نے نیوکلیئر اسلحہ کی تیاری کو حرام و ممنوع قرار دے رکھا ہے ! امریکی حکومت نے براڈ کاسنگ بورڈ آف گورنرز کو نئے سرے سے فعال کرکے ایران کے خلاف پروپیگنڈا مہم میں شدت پیدا کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ وائس آف امریکا کی فارسی نشریات کے لئے 12.2ملین ڈالر اور ریڈیو فردا کے لئے 6.2 ملین ڈالرمختص کرنے کے لئے ٹرمپ حکومت نے امریکی کانگریس کو منظوری دینے کی درخواست کی ہے جبکہ امریکی سینیٹ نے غیر ملکی امداد کا جو منصوبہ پیش کیا ہے اس میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے کہا گیا ہے کہ وہ براڈ کاسٹنگ بورڈ آف گورنرز کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کام کریں۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو پہلے ہی بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو متنبہ کرچکے ہیں کہ امریکی حکومت دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کو بارہ بلین ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج دینے کا منصوبہ ہے اور ایسا کوئی منصوبہ جس سے پاکستان چینی قرض دہندگان کے قرضوں کی قسطیں ادا کرے یا انہیں فائدہ پہنچائے ، اس پر امریکا راضی نہیں ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ امریکا پاکستانی حکومت کو سعودی بادشاہت کے ذریعے ٹریپ کرے گا یعنی سعودی حکومت اسلامی ترقیاتی بینک سے پاکستان کو چار بلین ڈالر قرضہ دلواسکتی ہے یا خود بھی کمرشل بنیادوں پر قرضہ دینے کا آسرا دے سکتی ہے حالانکہ اسکی اپنی اقتصادی صورتحال دگرگوں ہے لیکن پاکستان جیسے ملک کی امریکی سعودی بلاک کو ضرورت بھی ہے۔ پاکستان کی اقتصادی بدحالی کا ناجائز فائدہ اس طرح بھی لیا جاسکتا ہے کہ اس پر امریکی بلاک سعودی بادشاہت کے ذریعے کچھ ہلکی پھلکی نوازشات کرے اور اس طرح یمن جنگ اور شام کے قضیے میں پاکستان کو گھسیٹا جاسکے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ برطانیہ میں متعین امریکی سفیر رابرٹ ووڈ جونسن کھلے عام برطانیہ کو دھمکی دے رہا ہے، وہاں کے اخبار ٹیلیگراف میں مقالہ شائع کرواچکا ہے جس میں برطانوی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کا ساتھ دے اور ایران مخالف متحدہ محاذ میں شامل ہوجائے۔تاحال یورپ کے تین ممالک یعنی برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کے ساتھ گروپ پانج جمع ایک کے نیوکلیئر معاہدے کو برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ ٹرمپ نے اب معاہدے کو پانچ مائنس ایک معاہدے میں تبدیل کردیا ہے۔ یعنی ایران کے ساتھ چھ ممالک نے معاہدہ کیا تھا جسے پانچ جمع ایک کہا گیا یعنی کل چھ ممالک تھے اور اب چھ ممالک میں سے ایک مائنس ہوگیا ہے اور پانچ بشمول چین و روس ، اس میں شامل ہیں۔

امریکی بلاک نے مشرق وسطیٰ میں بنیادی طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اہم ترین اتحادی بنارکھا ہے اور اسکی کوشش ہے کہ مصر، اردن اور مراکش و تیونس بھی اس اتحاد میں شامل ہوجائیں یعنی عرب لیگ کے اہم ممالک کو ایک نئے فوجی اتحاد کا حصہ بنایا جائے کیونکہ سعودی فوجی اتحاد بھی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ نیٹوکی طرح کا مسلمان اتحاد بنانا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ ترکی جس کی فوج عرب فوج سے زیادہ بڑی اور اہم ہے ، وہ قطر کا اتحادی بن چکا ہے اور قطر کو امریکا کے ان دیگر اتحادیوں نے سوتیلا بھائی قرار دے رکھا ہے۔ عرب نیٹو اتحاد مصر کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں لیکن مصر کا ال سیسی سعودی عرب سے مال کمانا چاہتا ہے اسکی خاطر لڑنا نہیں چاہتا۔ ایران مخالف عرب فوجی اتحاد جو اسرائیل کے ساتھ اتحاد کرلے، اسکی راہ میں جو دیگر رکاوٹیں ہیں وہ تین عرب ممالک ہیں ، جن میں سرفہرست عراق ہے جہاں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے اور جہاں ایران کے حامی عراقی سیاسی و مسلح مزاحمتی گروہ پارلیمانی و عسکری دونوں لحاظ سے طاقتور بھی ہیں اور عوام میں مقبول بھی۔ اسی طرح لبنان ہے کہ جہاں ایران کی اتحادی حزب اللہ پارلیمانی سیاست کا جزو لاینفک بھی ہے، عسکری لحاظ سے مضبوط بھی ہے تو ایک وسیع عوامی حلقے میں مقبول ترین جماعت بھی ہے۔ تیسرا عرب ملک یمن ہے کہ جہاں ایران کے حامی حرکت انصار اللہ کے افراد بھی بیک وقت ان تینوں خصوصیات کے حامل ہیں، یعنی مسلح مزاحمت، پارلیمانی سیاسی طاقت اور عوامی مقبولیت۔ عرب ملک شام کی حکومت بھی ایران کی دوست اور اتحادی ہے۔ قطر امریکی اتحادی بھی ہے لیکن ایران کے ساتھ اس نے تعلقات بحال کرلئے ہیں۔ خلیجی عرب ریاست عمان کے بھی ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں گوکہ وہ بھی خلیجی تعاون کاؤنسل کا رکن ملک ہے۔ یعنی امریکی و سعودی بلاک کے لئے ایرانی بلاک کے خلاف کوئی موثروسیع البنیاد متحدہ محاذبنانا اتنا آسان نہیں ہے۔

عراق و لبنان کہ جہاں تاحال حکومت سازی نہیں ہوسکی ہے، وہاں امریکی و سعودی بلاک کی پوری کوشش ہے کہ انکا اثر و رسوخ بڑھے اور ایرانی اثر و نفوذ و مقبولیت ختم ہوکر رہ جائے۔موجودہ وزیر اعظم حیدر العبادی کا یک بیان مغربی ذرایع ابلاغ کے توسط سے سامنے آیا کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل کریں گے لیکن بعد ازاں عراق کی وزارت خارجہ نے واضح کردیا کہ عراق پابندیوں کے خلاف ہے اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی مخالفت کرے اور اسے ناکام بنائے۔ عراق کی الحکمت جماعت کے سربراہ سید عمار الحکیم نے بھی ایران پر امریکی پابندیوں کی مذمت و مخالفت اور ایران کی حمایت کی ہے۔ یعنی سعودی و امریکی بلاک عراق کی سرزمین پر ایران کے خلاف جن سازشوں میں مصروف تھا، اس میں انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ ایران کے خلاف اقتصادی ناکہ بندی اور پروپیگنڈا کی جنگ میں شدت پیدا کرنے کا امریکی مقصد یہ ہے کہ ایران میں مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف جو عوامی ردعمل سامنے آئے اسکو ہائی جیک کرکے دنیا پر یہ ظاہر کیا جائے کہ ایران میں عوام نظام حکومت کے خلاف ہوگئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں سبھی کو معلوم ہے کہ امریکی و سعودی ایجنٹ بھی گڑ بڑ پھیلارہے ہیں اور صدر روحانی کی حکومت کی خامیوں، کمزوریوں اور ناقص پالیسیوں سے ناجائز فائدہ اٹھاکر ایران کی معیشت کو نقصان پہنچارہے ہیں۔

ایران، روس اور چین کے تعلقات میں بہتری نظر آرہی ہے اور لگتا ہے کہ شام میں داعش اور پورے خطے میں انتہا پسند تکفیری دہشت گردی کے فتنے نے انہیں ہم فکر بنادیا ہے ۔ روس اور چین کو امریکی حکومت کی سازشوں کا تجربہ رہا ہے اور وہ مریکی حکومت کے سازشی منصوبوں کے خلاف علی الاعلان اقدامات میں مصروف ہیں اور ان دونوں کے درمیان تعلقات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ چین نے اپنی سمندری حدود میں امریکا کے خلاف جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔صدر ٹرمپ کی شروع کردہ تجارتی جنگ اور نیوکلیئر ڈیل پر بھی تین یورپی ممالک امریکی بے وفائی سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ یورپی ممالک کب تک امریکی حکومت کے پوڈل بنے رہیں گے، انہیں بھی سوچنا ہوگا کہ انکے دارالحکومتوں میں امریکی سفیر کس دھڑلے سے انہیں ڈکٹیشن دے رہے ۔۔ کاش کہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاکرپاکستان، ایران اور ترکی ان سب ممالک کو اور عراق و لبنان و یمن و قطر و عمان کو بھی فعال سفارتکاری کے ذریعے امریکی اقدامات کے منہ توڑ جواب کے یک نکاتی ایجنڈا پر متحد و متفق کرلیں ۔ کیا چین ، روس، فرانس و برطانیہ جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل کے مستقل اراکین ہیں ، انکے ساتھ جرمنی کو بھی شامل کرلیں ، کیا انکے ساتھ مل کر پاکستان، ایران اور ترکی ، امریکی بساط الٹ نہیں سکتے ، شہ کو مات نہیں دے سکتے ؟ یورپ کو مائنس کردیں تب بھی چین اور روس کی مدد سے امریکی منفی اقدامات کو کاؤنٹر کرنا ممکن ہے۔ یہ سب کچھ ممکن ہے ، بس خود اعتمادی کی ضرورت ہے۔ خطے کے ان تین اہم عجمی مسلمان ممالک کو اس صورتحال میں اتفاق و اتحاد کے ساتھ ان خطوط پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا سنہری موقع بار بار نہیں آئے گا!

یہ بھی دیکھیں

مصائب کی یلغار

(سکندر خان بلوچ) کہتے ہیں جب مصیبت آتی ہے تو اکیلے نہیں آتی بلکہ ہجوم ...