جمعرات , 15 نومبر 2018

پاکستانی حجاج کرام کی مشکلات

(افشاں ملک)
حج کا سیزن پوری آب وتاب کیساتھ شروع ہو چکا ہے‘ عالم اسلام سے لاکھوں حجاج کرام فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے سرزمین حجاز پہنچ رہے ہیں تاکہ حج کے ایام میں فریضۂ حج ادا کیا جا سکے۔ پاکستان سمیت جن ممالک سے حجاج کرام فریضہ حج کیلئے جا رہے ہیں وہاں کی حکومتیں اپنے حجاج کو سہولت بہم پہنچانے کیلئے کوشاں ہیں‘ بلاشبہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن ممالک سے حجاج کرام کثیر تعداد میں حج کیلئے حاضر ہو تے ہیں۔ پاکستان سے جانے والے بڑی تعداد ایسے حجاج کرام کی ہوتی ہے جو سرکاری انتظام کے تحت حج کرتے ہیں جو نسبتاً سستا اور سہل سمجھا جاتا ہے، البتہ پاکستان میں مختلف ادوار میں وزارت حج کی پرفارمنس الگ الگ رہی ہے جس پر گفتگو ہمارا موضوع نہیں ہے۔ اسی طرح بہت سے حجاج کرام پرائیویٹ حج آپریٹرز کی خدمات حاصل کرکے فریضہ کی ادائیگی کیلئے جاتے ہیں‘ سرکاری اسکیم کے تحت جانے والے حجاج کے الگ مسائل ہیں جبکہ پرائیویٹ اسکیم کے تحت جانے والے حجاج کرام کے الگ مسائل ہیں، دونوں ہی تفصیل طلب ہیں، تاہم ہمارا مقصد پرائیویٹ اسکیم کے تحت جانے والے حجاج کے مسائل کو اُجاگر کرنا ہے۔

پرائیویٹ اسکیم کے تحت جانے والے حجاج کرام سے بہت زیادہ رقم بٹوری جاتی ہے‘ اسے یوں سمجھیں کہ اگر سرکاری اسکیم کے تحت جانے والے حجاج کرام سے فی کس 3لاکھ روپے لئے جاتے ہیں تو پرائیویٹ اسکیم کے تحت جانے والے حجاج سے کم ازکم لی جانے والی رقم 4لاکھ روپے ہے‘ پھر اگر ہوٹل حرمین شریفین کے قریب لینا ہے تو اس کے اضافی چارچز ہوں گے۔پرائیویٹ سکیم کے تحت جانے والے حجاج کرام میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جن کی زندگی کا کسی بھی بیرون ملک کا پہلا سفر ہوتا ہے اور ٹریول ایجنٹس کی طرف سے جو یقین دہانی کرائی جاتی ہے‘ سعودی عرب میں صورتحال اس سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ حج اور عمرہ زائرین ٹریول ایجنٹس کی طرف سے دیئے جانے والے ہوٹل کے ووچر کو پڑھنے کا تکلف بھی نہیں کرتے بس ٹریول ایجنٹس کی باتوں پر اندھا اعتماد کر رہے ہوتے ہیں۔

چند ماہ قبل میرے ایک عزیز عمرہ پر گئے۔ میرے عزیز جب سعودی عرب پہنچ گئے تو کچھ دنوں بعد انہوں نے واٹس ایپ پر اپنا احوال بتایا کہ پاکستان سے بھیجتے ہوئے ٹریول ایجنٹ نے جو کمٹمنٹ کی تھی یہاں آ کر صورتحال یکسر مختلف ہے۔ اس نے بتایا کہ ٹریول ایجنٹس نے جس ہوٹل کا ووچر بنا کر دیا تھا یہاں ہوٹل والوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ایک رات ہم نے کھلے آسمان تلے گزاری۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان سے جانے والے افراد اپنے ساتھ ضرورت کے پیسے ہی رکھتے ہیں سو وہاں جا کر ایسا ممکن نہیںہوتا کہ انسان اپنے طور پر ہوٹل کا روم لے سکے کیونکہ اس کے پاس اس قدر ہی رقم ہوتی ہے جس سے روزانہ کا کھانا کھایا جاسکے یا واپسی پر آب زم زم اور کھجوریں خریدی جا سکیں۔ پاکستان میں جب اس کا رابطہ ہوتا ہے اور ٹریول ایجنٹ کو وہ اپنی کتھا سناتا ہے تو اتنے میں دو چار دن گزر چکے ہوتے ہیں۔ ان حالات میں حاجی حرم میں وقت گزارتا ہے اور سامان اپنے کسی جاننے والے کے پاس رکھواتا ہے اور اگر کوئی جاننے والا نہ ملے تو کسی کی منت سماجت کرتا ہے یا حرم میں سامان کیلئے مخصوص جگہوں پر سامان رکھواتا ہے جس کا روزانہ کے حساب سے معاوضہ وصول کیا جاتا ہے۔

پاکستانی حجاج کیساتھ دوسری بات یہ پیش آتی ہے کہ ٹریول ایجنٹس کی طرف سے حجاج کو حرم کے قریب رہائش بتائی جاتی ہے جبکہ رہائش بہت دور ہوتی ہے‘ اتنی دور کہ یا تو ٹیکسی کے ذریعے پہنچنا پڑتا ہے یا پھر آدھ پون گھنٹہ پیدل چل کر۔ یوں پاکستان سے جانے والے اکثر حجاج کرام ذہنی تناؤ کا شکار نظر آتے ہیں اور عبادات میں وقت صرف کرنے کی بجائے ٹریول ایجنٹ کیساتھ فون پر لڑائی جھگڑے میں وقت گزارتے ہیں‘ ہم سمجھتے ہیں اگر حجاج کرام ایک کام کر لیں تو ممکنہ پریشانی سے بچا جا سکتا ہے وہ کام یہ ہے کہ ٹریول ایجنٹس کی جانب سے موصول شدہ ہوٹل ووچر کو بخوبی پڑھ لیا جائے اور اس پر درج سعودی عرب کے فون نمبرز پر رابطہ کر کے کنفرم کر لیا جائے کہ ٹریول ایجنٹس کی طرف سے دیا جانے والا ووچر درست ہے یا نہیں، آج کل چونکہ انٹرنیٹ کا دور ہے تو گوگل کے ذریعہ ہوٹل کا حرم سے فاصلہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان سے جانے والے اکثر حجاج کرام کی کوئی تربیت نہیں ہوتی اس لئے سعودی عرب میں متعدد مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان سے جانے والے حجاج کرام اور عمرہ زائرین کی مکمل تربیت ہونی چاہئے اور جس طرح ترکی‘ ایران‘ ملائیشیا اور انڈونیشیاء سے لوگ گروپس کی شکل میں جاتے ہیں جن کا ایک معلم ہوتا ہے جو ہر مقام پر ان کی رہنمائی کرتا ہے ایسے ہی پاکستان سے جانے والے حجاج کرام بھی گروپ کی شکل میں جائیں‘ ہر گروپ کا باقاعدہ معلم اور رہبر ہونا چاہئے اور اگر انہیں کوئی مشکل پیش آئے تو اس کے ازالے کیلئے حکومتی سطح پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہئے۔ اس مقصد کیلئے سردست کوئی ایسا ٹول فری نمبر بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ سعودی حکومت کی طرف سے حجاج کرام کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ہے۔مسئلہ ہماری طرف ہے جہاں حجاج کرام اللہ کے مہمان ہوتے ہیں اور پاکستانی ٹریول ایجنٹس انہیں بھی لوٹنے سے گریز نہیں کرتے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

مصائب کی یلغار

(سکندر خان بلوچ) کہتے ہیں جب مصیبت آتی ہے تو اکیلے نہیں آتی بلکہ ہجوم ...