ہفتہ , 22 ستمبر 2018

عراقی ایزیدی لڑکی اور داعشی کمانڈر کا جرمنی میں آمنا سامنا

(تسنیم خیالی)
کچھ عرصہ قبل جرمنی میں ایک خطرناک اور قابل غور اتفاق پیش آیا جس کی وجہ سے کئی اہم معاملات کے حوالے سے کافی کچھ سمجھ میں آسکتا ہے، قصہ کچھ یوں ہے کہ 2014 میں جب داعش نے عراق میں ایزیدی اقلیت کے علاقوں پر حملہ کیا تھا تو اس وقت داعش کے جنگجوئوں نے ایزیدی خواتین کو اغواء کیا تھا اور بعد میں ایک دوسرے کے آگے فروخت کردیا، ان خواتین کے ساتھ جو ہوا وہ جدید تاریخ کے منہ پر ایک بدنما داغ ہے جو کبھی نہیں مٹ سکا، انہی اغواء ہونے والی خواتین میں سے ایک لڑکی ’’اشواق‘‘بھی تھی جو اس وقت 15 سال کی تھی ، اشواق متعدد مرتبہ فروخت ہونے کے بعد ’’ابوہمام‘‘ نامی داعش دہشت گرد کے آگے فروخت ہوئی جو اشواق کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اس پر ظلم بھی ڈھاتا تھا۔

یہ صورتحال کچھ عرصہ جاری رہنے کے بعد اشواق ’’ابوہمام ‘‘ کی قیدسے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی اور ان علاقوں میں جا پہنچی جو عراقی کردوں کے زیر کنٹرول تھے، وہاں اشواق اپنے خاندان کے متعدد افراد سے پھر سے جاملیں اور کچھ عرصہ ان کے ساتھ گزارنے کے بعد اشواق بحیثیت ریفیوجی اپنی والدہ اور ایک بھائی کے ساتھ جرمنی کے شہر شتوت گارڈ منتقل ہوگئی۔

3سال جرمنی میں گزر جانے کے بعد اشواق کی اتفاقاً ملاقات اسی ابوہمام سے ہوئی جس کی قید سے اشواق چند سال قبل فرار ہوئی تھی، جس نے اشواق کو 100 ڈالر کے عوض خریدا تھا اور جس نے اشواق پر ظلم کیا اور اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا، ابوہمام اشواق کو دیکھ کر گھبرایا نہیں اور ناہی اشواق سے چھپنے کی کوشش کی ، الٹا ابوہمام نے اشواق کو ڈرانا ستانا شروع کردیا جس کے جواب میں اشواق نے پولیس کو اطلاع دی اور ابوہمام کے بارے میں سب کچھ بتایا۔

جرمنی پولیس نے البتہ اشواق کی شکایت سنی ان سنی کردی اور ابوہمام کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی ، پولیس کے اس رویے کو دیکھتے ہوئے اشواق نے عراق واپس جانے کا فیصلہ کیا اور آج کل وہ عراق میں ہی زندگی بسر کررہی ہے، اس افسوسناک اور خطرناک واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ یورپ کے شہروں میں داعش جنگجو سرعام بلاخوف پھررہے ہیں اور یورپی ممالک کی حکومتیں اچھی طرح ان داعشی کارندوں کو جانتی ہیں مگر ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کرتی جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ یہ داعش انہی کے لوگ ہیں ۔

دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ داعش کے جنگجو کبھی نہیں سدھر سکتے ہیں اور وہ اپنی زندگی ، حیوانیت اور بےعزتی سے کبھی باز نہیں آئیں گے۔ تیسری بات یہ ہے کہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے درمیان ایک عام تصور یہ ہے کہ یورپی ممالک عدل وانصاف کے معاملے میں بہت اچھے ہیں اور وہاں ظالم کو اس کی سزا اور مظلوم کو اسکا حق ضرور دیا جاتا ہے تو پھر ابوہمام کو اس کے کیے کی سزا اور اشواق کو انصاف کیوں نہیں دیا گیا ۔

 

یہ بھی دیکھیں

حسینؓ ابن علیؓ دنیا کو حیران کر دیا تو نے

(ڈاکٹردوست محمد) انسانی تاریخ میں حضرت ابراہیمؑ نے اپنے چہیتے فرزند اسماعیلؑ کی قربانی کا ...