پیر , 24 ستمبر 2018

ہندوستانی آئین کی دفعات 370 اور 35A کی حقیقت اور اہمیت

(جسٹس (ر) سید منظور حسین گیلانی)

بر صغیرکی تقسیم تک برطانوی ہند کا علاقہ برٹش پارلیمنٹ کے پاس کردہ ایکٹ 1935ء کے تحت چلایا جا رہا تھا، جس کا براہ راست اطلاق ہندوستانی ریاستوں پر نہیں ہوتا تھا، جس میں ریاست جموں و کشمیر بھی شامل ہے، لیکن ان ریاستوں کے امور خارجہ، بیرونی دفاع اور مواصلات برطانوعی حکومت کے تحت ہی تھے۔ ان ریاستوں کے لئے مرکزی پارلیمنٹ میں نشستیں بھی مقرر تھیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے لئے کونسل آف سٹیٹ میں تین جبکہ قانون ساز اسمبلی میں چار نشستیں تھیں۔ آزادئ ہند کے قانون 1947ء کے تحت قائم ہونے والی دو مملکتوں، ہندوستان اور پاکستان کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنا آئین بنانے تک 1935ء کے ایکٹ کو مناسب ترامیم کے تحت اپنا سکتے ہیں۔ اس ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت ریاستوں کے والیوں کو مقرر کردہ اصولوں کے تحت دو میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، چنانچہ حالات کے جبر کے تحت مہاراجہ کشمیر نے بنیادی اصولوں کے برخلاف امور خارجہ، دفاع، مواصلات اور ان سے منسلک معاملات کی حد تک ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا جو گورنر جنرل ہند لارڈ ماونٹ بیٹن نے اس شرط کے ساتھ منظور کیا کہ جب ریاست میں امن بحال ہو گا، تو ریاست کے مستقبل کا فیصلہ عوام رائے شماری کے ذریعہ کریں گے، اسی اصول کا اعادہ سلامتی کونسل نے اپنی متعدد قرار دادوں کے تحت بھی کیا، جو ابھی تک تشنۂ تکمیل ہیں ۔

ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی بننے پر کشمیر کے نمائندے بھی اس میں شامل ہوئے، جن کے کہنے پر ہندوستان کے آئین میں کافی بحث و تمحیص کے بعد دفعہ 370 کو شامل کیا گیا، جس کے تحت ریاست کی اپنی آئین ساز اسمبلی کے قیام کو تسلیم کیا گیا ، جس کو یہ اختیار دیا گیا کہ اس کو ریاستی حکومت کے مشورے یا منظوری سے ہندوستانی آئین اور قوانین کے نافذ کئے گئے ان حصوں کے منظور یا مسترد کرنے کا حتمی اختیار حاصل ہو گا، جو دفعہ 370 کے تحت کشمیر میں نافذ کئے گئے ہوں۔ اس دفعہ کے تحت اس بات کا بھی خصوصی طور اندراج کیا گیا کہ ہندوستانی آئین اور قوانین کے وہ حصے جو الحاق نامہ سے مطابقت رکھتے ہیں کا اطلاق صدر ہندوستان ریاستی حکومت کے مشورے اور دیگر دفعات کا اطلاق ریاستی حکومت کی پیشگی منظوری سے کر سکیں گے۔ چنانچہ جب 26 جنوری 1950ء کو ہندوستان کے آئین کا نفاذ ہوا، اسی روز صدارتی حکم نامہ کے ذریعہ آئین کی دفعہ 1 کا کشمیر پر اطلاق کیا گیا، جس کے ساتھ ریاست کو ہندوستان کا حصہ بنایا گیا اور ساتھ ہی ہندوستانی آئین کی ان دفعات اور قوانین کا بھی اطلاق ہوا جو دفاع، امور خارجہ اور مواصلات سے متعلق تھیں۔ کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کا الیکشن 1951ء میں منعقد ہوا جو اپنی پانچ سالہ مدت 1956ء میں مکمل کر کے تحلیل ہو گئی۔ اس عرصہ کے دورا ن ہندوستانی آئین اور قوانین نافذ کئے گئے، جن حصوں کی آئین ساز اسمبلی نے تو ثیق کی وہ تو اس دفعہ کی روح کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی سب جماعتوں نے تسلیم کئے۔ ان ہی میں سے 1954ء میں نافذ کئے گئے بے شمار قوانین و آئینی دفعات کے ساتھ دفعہ 35A بھی شامل ہے۔ آئین ساز اسمبلی کی تحلیل کے بعد جتنے ہندوستانی قوانین کا اطلاق کشمیر میں کیا گیا ہے وہ متنازعہ الحاق نامہ اور ہندوستانی آئین کی بھی خلاف ورزی ہے، اس وقت تک ہندوستانی آئین کی 395 دفعات میں سے 260 اور 97 مرکزی اختیارات کی انٹریز میں سے 95 کا اطلاق کشمیر میں کیا جا چکا ہے دفعہ 370 کا خول باقی ہے، روح ختم ہو گئی ہے۔

جہاں تک دفعہ 35A کا تعلق ہے، یہ مہاراجہ کشمیر کے اس قانون کو آئینی تحفظ دیتا ہے، جس کو ریاستی باشندہ قوانین کہتے ہیں، جن کا اطلاق 1927ء سے 1932ء تک کیا گیا ہے۔ ان قوانین کے تحت ریاست کی وحدت، آبادی کے تناسب اور مہاراجہ گلاب سنگھ کی حکومت کے وقت سے ریاست میں آباد لوگوں کے چند سیاسی، مالی اور ذاتی حقوق کو تحفظ دیا گیا ہے، تا کہ ہندوستان کے باقی حصوں سے آ کر آباد ہونے والے لوگ ریاستی باشندوں کے حقوق اور آبادی کا تناسب نہ بگاڑ دیں۔ ان قوانین کے تحت ریاست میں غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت صرف ریاستی باشندوں کے درمیان ہی ہو سکے گی، ریاست میں ملازمین، فنی تعلیم، طلباء کے وظائف، سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ صرف ریاستی باشندوں کا حق ہو گا۔ بھارت کی ساری جماعتیں دفعہ 35A اور اس قانون کے خلاف ہیں، لیکن پارلیمنٹ کے ذریعہ منسوخ کرانا ان کے بس میں نہیں، کیونکہ دفعہ 370 کی ترمیم ہندوستانی پارلیمنٹ بھی نہیں کر سکتی، کیونکہ اس پر پابندی ہے اور یہ دفعہ آئین کی بنیادی ڈھانچے کا حصہ اور ہندوستان اور کشمیر کے درمیان واحد رشتہ ہے۔ اب ہندوستانی اسٹیبلشمنٹ، BJP وغیرہ کی اعانت سے ہندوستانی سپریم کورٹ
میں دفعہ 35A کو ہندودستانی آئین سے متصادم قرار دیکر منسوخ کرانے کے لئے کئی رٹ پٹیشنز دائر کرائی گئی ہیں، جن میں ہندوستانی حکومت غیر جانبدار فریق کے طور تماشا دیکھ رہی ہے، حالانکہ اس کو آئین کا دفاع کرنا چاہئے تھا، جس کی وجہ سے یہ غالب امکان ہے کہ یہ عدلیہ انتظامیہ کی ملی بھگت ہے، اگر یہ دفعہ کالعدم قرار دی گئی تو کشمیر وادی اور ریاست بھر کی سر کاری زمین میں کشمیر میں رہائش پذیر غیر ریاستی باشندوں اور ہندوستان کے بے گھر لوگوں کو الاٹ کی جائیں گی، مسلم اکثریتی علاقوں کی زمینیں ہندوستانی ارب پتی خرید کر ریاستی باشندوں کے حقوق حاصل کر لیں گے۔

ہندوستانی کارخانہ دار کارخانے لگانے کے بہانے سے زمینیں حاصل کر کے ہندوستانی مزدوروں اور ماہرین کو وہاں آباد کریں گے، مقامی لوگوں سے شادی بیاہ کر کے آنے والی نسلوں کے لئے را ستہ ہموار کریں گے، ہندو آبادیاں بسا کر سپین اور فلسطین جیسی کیفیت پیدا کر کے مکمل خانہ جنگی شروع ہو جائی گی، مسلم آبادی کے انخلاء اور بے خانماں ہو جانے سے پاکستان پر دباؤ بڑھے گا، جس سے موجود سر حدی کشیدگی جنگ میں بدل جائے گی۔۔۔ان خدشات کے پیش نظر حکو مت پاکستان کو فوری طور عالمی اداروں، UN اور سلامتی کونسل سمیت اس کے دیگر اداروں کے علاوہ یورپئین یونین، سارک، G8، امریکہ، برطانیہ، روس، چین ، عرب دنیا اور تمام ایٹمی طاقتوں سے سرکاری طور پر رجوع کرنا چاہئے، جو اس کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اس کا فوری ادراک کریں ایسا نہ ہو کہ پھر وقت نہ ملے۔

یہ بھی دیکھیں

ڈیم نہیں چلو بھر پانی

(تحریر: نذر حافی) تبدیلی عیاں ہوگئی ہے، میاں نواز شریف، اپنی بیٹی اور داماد کے ...